پونچھ// سرحدی ضلع پونچھ میں قدرتی مناظر سے مالامال کئی وادیاں، کوہساراورآبشار ہیں جنہیں دیکھ کر انسان کی روح سکون پاتی ہے ۔انہی مقامات میں سے ایک مشہور معروف وادی جسے جبی طوطی کہا جاتا ہے، تحصیل منڈی اور تحصیل سرنکوٹ کے درمیان کی پہاڑیوں پر واقع ہے۔ اس کے اطراف بھی کئی خوبصورت مر گیں، وادیاں اور فلک بوس پہاڑیاں ہیں جو سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتی ہیں تاہم آج تک یہ خوبصورت مقامات حکام کی نظروں سے اوجھل رہے ہیں۔اس علاقہ میں سیر و تفریح کے لئے آئے ہوئے اسکولی بچے کھلی جگہ دیکھ کر کرکٹ کھیل رہے تھے جنہوں نے بتایا کہ وہ دور دور سے اس علاقہ میں ہر سال آتے ہیں ۔ایک طالبعلم محمد حفیظ نے بتایا کہ وہ ہاڑی مرہوٹ کا رہنے والا ہے اور بیرون ریاست اترا کھنڈ کے دیرادھون علاقہ میں زیر تعلیم ہے ،وہ چھٹیوں پر گھر آیا تو سوچاکہ جبی طوطی کا نظارہ کیاجائے ۔اس علاقہ میں ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جسے مسوری کہا جاتا ہے جسے دیکھ کر انسان کی روح تازہ ہوجاتی ہے ۔اس طالب علم نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ پونچھ ضلع میں اتنے خوبصورت علاقے عدم توجہی کا شکار ہیں۔ انہوں نے جبی طوطی میں سیاحتوں کے لئے ہٹ تعمیر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ یہاں کھیل کود کیلئے میدان بنایاجائے ۔اس علاقہ میں نزدیکی گائوں اڑائی کے لوگوں کی ڈھوکیں بھی ہیں جن میں سے ایک شخص نے بتایا کہ انہیں وہاں تک پہنچنے میں ساڑھے پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ جبی طوطی تک سڑک نکالی جائے تاکہ لوگ آسانی سے وہاں کا سفر کر سکیںاور سیاح بھی بڑی تعداد میں آجاسکیں۔انہوں نے کہا کہ دور دور علاقہ جات سے یہاں ہر روز نوجوان آکر کبڈی، کشتی اور دیگر روایتی کھیل کھیلتے ہیںاور عصر حاضر میں اس جگہ کی مقبولیت دیکھئے کہ اب یہاں ضلع کے ساتھ ساتھ ریاست کی دوسری جگہوں سے بھی لوگ سیر و تفریح کے لئے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں سے کئی فلک بوس پہاڑیوں کا نظارہ دیکھا جا سکتا ہے لیکن محکمہ سیاحت کو کچھ بھی نظر نہیں آرہاجو بدقسمتی کی بات ہے ۔جبی طوطی کا نظارہ کرنے والے سیاحوں کاکہناہے کہ اس علاقے کی خوبصورتی کو دیکھتے ہوئے اسے سیاحتی نقشے پر لایاجائے اور سیاحوں کے قیام و طعام کیلئے بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیاجائے ۔انہوں نے ریاستی گورنر سے اپیل کی کہ وہ اس علاقے میں ایک ٹیم بھیج کر یہاں سیاحتی اقدامات کے امکانات کا جائزہ لیں۔