ملک میں کسی بھی قانون کی موثر عمل آوری کے لئے قانون سازی سے پہلے اس پر کھلے مباحث کا ہونا اور جو قوانین بنائے جارہے ہیں اس پر اتفاقِ رائے (Consensus) کا پایا جانا لازمی ہے۔ حکومت کوئی بھی قانون پارلیمنٹ میں اپنی عددی طاقت کے بَل بوتے پر جلدبازی میں بنانے کی اگر عادی ہوجائے تو یہ کوئی صحتمند جمہوریت کی علامت نہیں ہے۔ موجودہ مرکزی حکومت نے ملک میں قانون سازی کا جو طریقہ کار اختیار کیا ہے،اُس سے یہی اندیشہ پیدا ہورہا ہےکہ یہ طریقہ آنے والے دنوں میں جمہوری نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دے گا۔ گزشتہ چند برسوں سےمرکزی حکومت ایسے قوانین بناتی چلی جا رہی ہے جس سے ملک کی عوام میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے اور لوگ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ موجودہ مرکزی حکومت کے پیشِ نظر عوامی رائے کی اب کوئی اہمیت باقی نہیں رہی ہے۔ شہریت ترمیمی قانون ہو ، تین زرعی قوانین یا پھر حالیہ دنوں میں لڑکیوں کی شادی کی اقل ترین عمر 18سال سے بڑھا کر 21سال مقرر کرنا ہو یا پھر انتخابی اصلاحات کے نام پر فہرستِ رائے دہند گان کو آدھار کارڈ سے مربوط کرتے ہوئے شہریوں کی شخصی آزادی کو ختم کرنے کا معاملہ ہو ،یہ سارے قوانین اس دعویٰ کے ساتھ مدوّن کئے جا رہے ہیں کہ اس میں ملک اور قوم کا مفاد شامل ہے۔ بلا شبہ کسی بھی ملک کو بہتر انداز میں چلانے کے لئے قانون کا ہونا لازمی ہے۔ بغیر قانون کے ملک افراتفری کا شکار ہوجا تا ہے۔ لیکن جمہوریت میں حکومت آیا کسی بھی قانون کو من مانی انداز میں بناتے ہوئے ملک کی عوام پر زبردستی تھوپ نہیں سکتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ آزاد ہندوستان میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کے دوران حکومت کسی بحث و مباحثہ کے بغیر کوئی ایسا قانون منظور کرلیا گیا ہو، جس کا راست اثر عوام کی آزادیوں اور ان کے حقوق پر پڑتا ہو؟ اس کی کوئی نظیر یا مثال گزشتہ75 برسوں کے دوران نہیں ملتی۔ لیکن آج کا منظر نامہ یہ ہے کہ ایک ہی دن میں پارلیمنٹ میں بِل پیش کیا جاتا ہے اور چند لمحوں میں اسے منظوری بھی مل جاتی ہے۔ اس کا منفی اثر یہ پڑ رہا ہے کہ عوام نالاں ہوجاتی ہےاور اُسے سڑکوں پر آ کر اس قسم کے قوانین کے خلاف احتجاج کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ جب کوئی احتجاج حکومت کے قابو سے باہر ہوجاتا ہے تو پھر ایسے قوانین کو واپس لینے کی نوبت آ تی ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں بی جے پی حکومت نے جو تین زرعی قوانین ملک کے کسانوں پر مسلّط کئے تھے، اُس کا کیا حشر ہوا، وہ سب کے سامنے آ گیا ہے۔ کسانوں کے 380دن کے زبردست احتجاج کے بعد بالآخر وزیراعظم کو ان تینوں قوانین سے دستبردار ہونے پر مجبور ہونا پڑا، طرفہ تماشا یہ بھی ہوا کہ انہوں نے معافی بھی چاہی۔ یہ ہزیمت آخر اُنہیں کو کیوں اُٹھانی پڑی؟ وجہ یہی تھی کہ انہوں نے کسانوں سے رائے مشورہ اور دیگر سیاسی پارٹیوں سے مشاورت اور مذاکرات کے بغیر ان قوانین کو کسانوں پر لاگو کردیا تھا۔ کسانوں نے ان کی مخالفت کی اور ان قوانین کے منفی اثرات کو بھاپنتے ہوئے فوری طور اپنے گھروں اور کھیتوں کو چھوڑ کر دہلی کا رخ کیا اور اپنے احتجاج کے ذریعہ حکومت کے گھٹنے ٹِکادئے ۔افسوس کہ ان زرعی قوانین کو بہ حالت مجبوری منسوخ کرنے کے بعد بھی موجودہ حکومت نے یہ محسوس نہیں کیا کہ ملک میں قانون سازی کے معاملے میں عجلت پسندی کسی بھی لحاظ سے بہتر نہیں ہے۔ قانون کو بنانے اور نافذ کرنے کے لئے جو میکانزم ملک میں پہلے سے پایا جارہا ہے، اُسی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ مودی حکومت نے اس کے بر عکس قوانین کو بنانے میں مزید جارحانہ رویہ حالیہ دنوں میں اختیار کرلیا ہے۔
موجودہ بی جے پی حکومت نے اپوزیشن پارٹیوں کی زبردست مخالفت اور ملک کی ایک بڑی اکثریت کی جانب سے احتجاج کے باوجود گزشتہ منگل21؍ ڈسمبر کو لڑکیوں کی شادی کی قانونی عمر 21سال مقرر کرتے ہوئے لوک سبھا میں بِل پیش کردیا۔ اس بات کی قوی توقع ہے کہ اب یہ بِل بہت جلدقانون کی شکل اختیار کرلے گا اور ملک میں نافذ بھی کردیا جائے گا۔ اسی طرح منگل کے روز ہی راجیہ سبھا میں فہرستِ رائے دہندگان کو آدھار سے مربوط کرنے کا بِل منظور کرلیا گیا۔ ان دونوں قوانین کا تعلق پورے ملک کے شہریوں سے ہے، اس میں کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اس کی بھرپور مخالفت کی، کرسیِ صدارت سے بھی خواہش کی گئی کہ اسے سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کیا جائے تاکہ ان قوانین کے تعلق سے جو اندیشے پائے جارہے ہیں اسے دور کیا جا سکے۔ لیکن حکومت نے کسی اپوزیشن پارٹی کی ایک نہ سنی اور ان متنازعہ بِلوں کو منظور کرنے میں کا میاب رہی۔ لڑکیوں کی شادی کی اقل ترین عمر 21سال مقرر کرکے حکومت نے عائلی مسائل کا ایک نیا Pandora boxکھولا ہے۔ یہ وہ شہد کا چھتہ ثابت ہوگا کہ خود مودی حکومت اپنے طبقہ کے افراد کے غیض و غضب کا شکار ہوجائے گی۔ دنیا کے کسی ملک میں لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر 21سال نہیں ہے۔ ہندوستان ، جہاں کئی مذاہب اور کئی تہذیبوں کے لوگ رہتے ہیں۔ ہر ایک کے اپنے پرسنل لا موجود ہیں ، وہاں حکومت کیسے یہ قانون بنا سکتی ہے کہ کسی لڑکی کی شادی 21 سال پورے ہونے سے پہلے نہ کی جائے، جب کہ ملک میں ووٹ ڈالنے کے لئے 18سال کا ہونا کافی ہے تو پھر موجودہ حکومت کی یہ کیا منطق ہے کہ18سال کی لڑکی شادی نہیں کر سکتی۔ وہ اس عمر میں اتنی باشعور ہوتی ہے کہ اپنے نمائندوں کو منتخب کر سکتی ہے تو کیا وہ اپنے شریکِ حیات کا انتخاب کرنے میں سمجھداری نہیں دکھائے گی۔ شادی کی اقل ترین عمر کو بڑھانے سے بہتر تھا کہ وزیراعظم لڑکیوں کی تعلیم اور ان کی صحت کے بارے میں زیادہ فکرمند ہوتے۔ یہ عجیب و غریب بات ہے کہ حکومت بغیر شادی کے مرد وزن کو ساتھ رہنے کی قانونی اجازت دیتی ہے، جسے Livining Relataionshipکا نام دیا گیا۔ اسی طرح ہم جنس پرستی کو قانونی جواز بخشا گیا۔ لیکن کوئی والدین اپنی لڑکی کی شادی سنِ بلوغ کو پہنچتے ہی کر دینا چاہتے ہیں تو اس کے لئے قانونی رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں۔ معاشرہ کو فحاشی، جسم فروشی اور دوسری خبا ثتوں سے پاک و صاف رکھنے کے لئے شادی ہی ایک موثر ذریعہ ہے۔ دنیا کے مختلف مذاہب میں اس بات کی تاکید کی گئی کہ لڑکوں یا لڑکیوں کو بغیر شادی کے زیادہ دنوں تک نہ رکھا جائے اس سے سماج میں برائیاں پھیل سکتی ہیں۔ اسلام نے بھی اس ضمن میں واضح ہدایات دی ہیں۔ ان قوانین کے ذریعہ سماج بے لگام ہوجائے گی اور ملکی سماج میں برائیاں پنپتی رہیں گی اور کوئی بھی شخص حکومت سے سوال کرنے کے بارے نہ سوچے۔ کہیں یہی وجہ تونہیں کہ اس بِل کو لوک سبھا میں پیش کرنے میں بی جے پی حکومت نے اپنا سارا زور لگا دیا۔ وزیراعظم نے اس قانون کی مدافعت کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ بیٹیوں کو آگے بڑھنے کا موقع دینے کے لئے شادی کی عمر میں اضا فہ کیا گیا ہے۔ پریاگ راج میں گذشتہ منگل کے دن ایک عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "بیٹی بچاؤ۔بیٹی بڑھاؤ"کی مہم کے تحت ہی مرکزی حکومت نے یہ فیصلہ لیا ہے۔ بیٹی کو
بچانے اور بڑھانے کے اور بھی کئی طریقے ہو سکتے ہیں۔ آج ہزاروںعورتیں تغذیہ بخش غذا نہ ملنے سے فوت ہورہی ہیں، جہیز کے نام پر عورتوں کو جلانے اور مارنے کے آئے دن واقعات ہوتے ہیں ۔ دلت عورتوں کے ساتھ جو بے رحمانہ سلوک اب بھی ہوتا ہے کیا اس سے وزیر اعظم واقف نہیں ہیں۔ ان کے درد کامدوا کون کرے گا؟ موجودہ حکومت نے ووٹر کارڈ کو آدھار سے مربوط کرنے کا بِل بھی کسی مشاورت اور پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو تسلّی بخش جواب دئے بغیر دونوں ایوانوں میں منظور کرلیا۔اب صدر جموریہ کی دستخط سے یہ بِل قانون کا درجہ حاصل کرلے گا۔لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بِل کی پیشکشی کے موقع پر حزبِ اختلاف کی پارٹیوں نے یہی مطالبہ کیا کہ اس بِل کا تعلق شہریوں کی شخصی آزادی سے ہے ، اس لئے اس پر پارلیمنٹ میں کافی غور و خوص ہونا ضروری ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اس بِل کو اسٹانڈنگ کمیٹی سے رجوع کرنے پرزور دیا لیکن حکومت نے لڑکیوں کی شادی کے قانون کو جس ہنگامہ آرائی کے دوران منظور کرلیا، یہی حربہ یہاں بھی استعمال کرتے ہوئے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں منظور کرالیا۔ یہ سب پارلیمنٹ میں اکثریت کی بنیاد پر کیا گیا۔ لیکن اس کے جو دور رس نتائج نکلیں گے، اس سے ہندوستانی جمہوریت کی ناپئداری سا ری دنیا میں آشکارہ ہوگی۔ کوئی بھی حکومت محض طاقت کے سہارے قانون بنانے اور نافذ کرنے کا مزاج بنالے تو عوام ایسی حکومت سے نالاں ہوجاتی ہےاور اُسے زیادہ دنوں تک برداشت نہیں کر سکتی ہے۔ ملک کی اہم اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے اجلاس سے واک اوٹ کے بیچ انتخابی قوانین بِل دونوں ایوانوں میں منظور کیا گیا۔ یہ خود جمہوریت کے لئے ایک خطرہ کی علامت ہے کہ ملک کی بڑی بڑی پارٹیوں کو بھی اعتماد میں لئے بغیر ملک میں قانون سازی کا عمل جاری ہے۔ ہندوستان کے ابتدائی دہوں کی پارلیمانی روایات کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بر سرِ اقتدار پارٹی اپوزیشن پارٹیوں کو اعتماد میں لے کر اور ملک کی عوام کو بھروسہ دلاکر کوئی قانون بناتی تھیں۔ اس سے ملک اور قوم دونوں کا فائدہ ہوتا تھا۔ لیکن موجودہ حکومت جو قوانین بناتے جا رہی ہے اس سے ملک کا کوئی بَھلا ہو رہا ہے اور نہ ملک کے شہریوں کو کوئی راحت مل رہی ہے۔ شہریت ترمیمی قانون کے ذریعہ ملک کے ایک مخصوص طبقہ کی شہریت کو ختم کر نے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ طبقہ عدم تحفظ کا شکار ہو گیا ہے۔ اُسے یہ خوف کھائے جا رہا کہ نہیں معلوم اس کی آ نے والی نسلیں اس ملک میں بحیثیت ہندوستانی شہری رہ بھی سکیں گے یا نہیں؟ آیا انہیں دوسرے درجہ کا شہری بن کر رہنے پر مجبور کیا جائے گا ؟ کسانوں کے خلاف قوانین بناکر ان کی زندگیوں کو اجیرن کرنے کی سعیِ ناکام کی گئی۔ اب بھی ہمارے ملک کی 70فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے۔ ان کو روزگار سے محروم کرنے کے لئے جو قانون لائے گئے تھےانہیں حال ہی میں بادلِ نخواستہ منسوخ کرنا پڑا۔ اب موجودہ حکومت نے لڑکیوں کی شادی کے لئے اقل ترین عمر21سال مقرر کرنے کا نیا شوشہ چھوڑا ہے۔ اس سے جو سماجی بھونچال پیدا ہوگا، وہ ہندوستان کی صدیوں قدیم روایات کو تہس نہس کر دے گا۔ ملک کاکوئی بھی طبقہ اس قانون کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوسکے گا۔ بادی النظر میں یہ قانون محض مسلمانوں کی دشمنی میں لایا گیا ہے۔ مسلمانوں کے عائلی قوانین موجودہ حکومت کے آنکھوں میںشروع دن سے کھٹک رہے ہیں۔ اس لئے کسی نہ کسی طرح مسلم پرسنل لا سے چھیڑ چھاڑ کی جارہی ہے۔ کبھی طلاقِ ثلاثہ کے خلاف قانون سازی کی جاتی ہے اور کبھی یونیفارم سِول کوڈ کو ملک میں نافذ کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں اور اب لڑکیوں کی شادیوں کی عمر کی آڑ میں شریعتِ اسلامی میں مداخلت کا دروازہ کھولا جارہا ہے۔ لیکن حکومت کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ وسیع تر سماجی تائید اور باہمی مشاورت کے بغیر بزورِ طاقت جو قوانین بنائے جاتے ہیں وہ زیادہ دیر نہیں چل پاتے ہیں۔ جمہوریت میں زور و زبردستی کا انداز حکومتوں کے زوال کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس لئے وقت کا تقاضا ہے کہ قانون کے بنانے والے خود پہلے قانون کے پابند ہوں اور ایسے قوانین بنانے سے باز آئیں جو سماجی اصلاح اور قومی ترقی کے بجائے سماجی انتشار اور برہمی کا ذریعہ بنتے ہوں۔ اسی میں ملک وقوم کا مفاد مضمر ہے۔
(رابطہ:۔91+9885210770)