ایسا نہیں ہے کہ یہ اس طرح کا واقعہ پہلی مرتبہ ہورہا ہے۔ اس سے پہلے فیس بک نے ایک ویڈیو دکھانا شروع کیا جس میں کہ زیادہ تر کردار سیاہ فام تھے ، اس کے بعد A.I. نے اس ویڈیو کو دیکھنے والے افراد کو ایسی تجویزات بھیجنا شروع کردیں جس میں کہA.I. ایسی ویڈیو دیکھنے کی ترغیب دے رہا تھا جس میں کہ بندر موجود تھے۔یعنی کہ وہ سیاہ فام لوگوں کو بندروں سے تعبیر کررہا تھا۔ اسی طرح گوگل پکچرس پر جب آپ افریقی/ امریکی لوگوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے تھے تو گوگل پکچرس آپ کو گوریلا کی تصویریں دکھانا شروع کردیتا تھا۔اسٹین فورڈیونیورسٹی کی حالیہ ریسرچ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جب آپ صنف نازک سے متعلق کوئی ادھورا جملہ ٹائپ کرتے ہیں تو A.I. گھریلو کام کرنے والی یا نرس یا لائبریرین جیسی اصطلاحات کو جملہ پورا کرنے میں استعمال کرتا ہے اور اگر آپ اس جملے میں مرد لفظ کا استعمال کرتے ہیں تو A.I. آپ کے جملے کو ماہر یا فلسفی کے ساتھ پورا کرتا ہے۔ ان سب مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ A.I. میں نسل پرستی، نسلی تعصب کو قائم رکھنے کا تناسب دقیانوسی تصورات پر زیادہ مبنی ہے اور A.I. پروگرام مستقل طور پر ان غلط فہمیوں کو قوم ، نسل اور صنف کی بنیاد پر قائم رکھنے پر بضد ہے۔اس کے علاوہ کولمبیا یونیورسٹی کی ایک دوسری تحقیق نے یہ بھی دریافت کیا کہ اگر کسی پروگرام کو بنانے والی کمپیوٹر پروگرامرس کی ٹیم کے رکن کسی خاص قوم، فرقے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں تو اس طرح کی غلط فہمیاں نتائج کے طور پر زیادہ سامنے آتی ہیں۔اس لیے یہ بھی بہتر ہوسکتا ہے کہ اس طریقے کی کوئی بھی ٹیم کثیر قومی افراد پر مشتمل ہو جس سے کہ مختلف قوموں، نسلوں اور دیگر حساس موضوعات پر مختلف آراء A.I.پروگرام میں زیادہ بہتر طور پر شامل کی جاسکیں۔
فیس بک تنازعہ : اپنے الزامات میں مس ہاگین کا مزید کہنا تھا کہ آپ A.I. کو کتنا ہی قوی یا مؤثر تصور کرلیں لیکن اس کی بھی کچھ خامیاں ہیں، جیسے کہ اگر آپ صرف انگریزی زبان کی ہی مثال لیں تو عام طور پر دنیا بھر میں برطانوی اور امریکی انگریزی کا استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ A.I.کو صرف امریکی انگریزی کے تعلق سے کوئی ہدایت دیتے ہیں تو ان کا اطلاق برطانوی انگریزی پر نہیں ہوگا، اس کے لیے آپ کو مزید ہدایات دینا ہوں گی اور جہاں تک دیگر زبانوں کا معاملہ ہے جن کا استعمال آپ فیس بک پر کرسکتے ہیں تو یہ کام کافی پیچیدہ اور مشقت طلب ہوجاتا ہے۔ اس لیے فیس بک صرف ایک ہی قسم کی ہدایت جاری کرتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ہم جس منافرت کے پھیلاؤ کی بات کررہے ہیں اس سے متعلق معلومات اور ان کے منفی اثرات کا اثر ہمیں صرف انگریزی زبان کے تعلق سے ہی دستیاب ہے، دیگر زبانو ںکے بارے میں نہیں جو کہ فیس بک کے پلیٹ فارم پر دستیاب ہیں۔ یعنی کہ فیس بک اپنی ایپ یاویب سائٹ پر مختلف زبانوں میں پوسٹ کیے جانے والے مواد کی نگہداشت کرنے کا اہل نہیں ہے، اور یہی سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو ہے۔اس کے علاوہ مس ہاگین کا کہنا تھا کہ اکثر کم ملازمین کی وجہ سے فیس بک کے اعلیٰ حکام ملازمین کو ایسی جانکاری کو نظر انداز کرنے کو کہتے تھے جو کہ عام طور پر سماج میں مذہبی یا نسلی منافرت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ مس ہاگین نے مزید کہا کہ جب وہ فیس بک میں بطور ملازم کام کررہی تھیں تو اس دوران انھوں نے انسداد جاسوسی یا Counter-Intelligence پر بھی کام کیا اور اکثر انھوںنے ایسی معلومات دیکھیں جو کہ قومی سلامتی کو نقصان پہنچاسکتی تھیں۔ لیکن انھیں نہیں معلوم تھا کہ وہ اس بابت کس سے شکایت کریں کیونکہ فیس بک نے ایسا کوئی نظام تشکیل نہیں دیا تھا کہ جس کے ذریعے آپ ایسے خطرناک مواد کی جانکاری اعلیٰ حکام تک قاعدے سے پہنچا سکیں اور اگر آپ ایسا کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتے تھے تو جانکاری اکثر دبا دی جاتی تھی، کیونکہ فیس بک کسی بھی طرح کے تنازعہ کا شکار نہیں ہونا چاہتا تھا۔ اس کے علاوہ فیس بک نے اپنے نگراں شکایتی ادارے یا Facebook Oversight Boardکو بھی بعض مرتبہ غلط جانکاری مہیا کرائی تاکہ کوئی نیا تنازعہ شروع نہ ہوجائے۔مس ہاگین نے اپنے الزامات میں مزید کہا کہ فیس بک کے دوسرے پلیٹ فارمس جیسے کہ وہاٹس اپ، یا انسٹا گرام کے ذریعہ آپ جھوٹی معلومات کو با اثر طریقے سے چند ہی سیکنڈ میں صارفین کی ایک بڑی تعداد تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ انسٹا گرام پر فیس بک کی اپنی ریسرچ کے مطابق اسے استعمال کرنے والے کم عمر صارفین اس کے عادی بن جاتے ہیں اور یہ کسی نشے کی لت سے کم نہیںہوتی، کیونکہ دس سال سے چودہ سال کی عمر تک کے بچے جو اکثر غم زدہ ہوتے ہیں، وہ انسٹا گرام کے استعمال کو کم کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ نہیںجانتے کہ وہ ایسا کیسے کرسکتے ہیں، اور اس درمیان وہ منفی ذہنی الجھنوں کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔مجموعی طور پر مس ہاگین کا الزام تھا کہ فیس بک میں کام کرنے والے زیادہ تر ملازمین اپنے کام سے خوش نہیں تھے، کیونکہ کمپنی ایسی معلومات کو جو کہ معاشرے کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہیں، کم کرنے کے لیے اپنی ہی ریسرچ کا استعمال قاعدے سے نہیںکررہی تھی، بلکہ اس کا جھکاؤ صرف Advertising کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا تھا، ناکہ سماج کو کچھ دینا۔
فیس بک کی تاریخ اور مستقبل : فیس بک کی شروعات 2003 میں مارک زکربرگ نے فیس میش کے نام سے کی تھی جب وہ ہارورڈ میں زیر تعلیم تھے۔ اس کاوش میں ان کا ساتھ چار اور نوجوانوں نے دیا تھا جو کہ ان کے ساتھ ہی ہارورڈ کے طالب علم تھے۔ اس ویب سائٹ پر شروع میں صرف ہارورڈ کے طالب علم ہی لاگ ان کرسکتے تھے۔ بعد میںاس میں دیگر کالجوں اور یونیورسٹیوں کو بھی شامل کیا گیا، اس ویب سائٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے جولائی 2004میں زکر برگ نے اسے فیس بک کے نام سے عوام کے لیے بھی لانچ کردیا، لیکن اس کے تیسرے ہی دن تین طالب علموں نے زکر برگ پر قانونی کیس کردیا کہ انھوںنے ان کے پروگرام کا استعمال غیر قانونی طور پر کیا ہے۔ یہ کیس بعد میں آپسی مذاکرات اور پیسے دے کر ختم کردیا گیا لیکن اسی درمیان زکر برگ کو ہارورڈ یونیورسٹی کی پالیسوں کو نظر انداز کرنے اور ان کی خلاف ورزی کرنے کی بنا پر یونیورسٹی سے بھی باہر کردیا گیا۔لیکن وہ دن ہے اور آج کا دن، مارک زکر برگ فیس بک کی کامیابی اور مقبولیت کی وجہ سے کامیابی کی ایک سیڑھی کے بعد دوسری سیڑھی چڑھتے چلے گئے۔ حالیہ الزامات کی تردید کرتے ہوئے گزشتہ ہفتے زکر برگ نے اعلان کیا کہ وہ فیس بک کا نام بدل کر ’Meta‘ کرنے جارہے ہیں اور اس سے ان کے اگلے ہدف یعنی کہ "Metaverse"میں ان کی پیش رفت کی نشان دہی ہوسکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ Metaverseکے ذریعہ ایک ایسا پلیٹ فارم قائم کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعہ آپ Virtual Realityیا حقیقتاً وہ سب چیزیں دیکھ سکیں جو کہ آپ فی الوقت اپنے کمپیوٹر یا موبائل پر پڑھ رہے ہیں۔ لیکن یہ ایک لمبے عرصے میں حقیقت سے تعبیر ہونے والا پروگرام ہے اور اس میں بھی A.I.کے ہی ذریعہ کام لیا جائے گا۔ اور A.I.کے منفی پہلو ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں، ان منفی اثرات کا، موجودہ الزامات کے پس منظر میں مارک زکر برگ کیسے مقابلہ کرپائیں گے، یہ تو وقت ہی بتاپائے گا۔
مجموعی طور پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ سوشل میڈیا جس کی شروعات دنیا بھر کے لوگوں میں دوریاں کم کرنے اور ان کو ضروری معلومات مہیا کرانے کے لیے بنایا گیا تھا وہ جب عملی طور پر لوگوںکے سامنے آئیں اورصارفین نے عملی طور پر ان کا استعمال کرنا شروع کی تو ان کا پیش کردہ چہرہ بالکل ہی بدل گیا۔ اور اب دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ زیادہ تر سوشل میڈیا ایپس اور چینلس کا استعمال سماج میں تفریق پیدا کرنے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا غلط شبیہ میں پیش کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ لیکن اس میں صارفین کی بھی غلطی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان ایپس کا عادی کیوں بناتے چلے جارہے ہیں؟ ہمیں اس پس منظر میں یہ دیکھنا ہوگا کہ مختلف ایپس ہمیں کیا معلومات مہیا کرا رہی ہیں، کس طرح مہیا کرارہی ہیں اور ان کا ذریعہ کیا ہے؟ اور اس کے ساتھ ہی ہمیں ان معلومات کو فوراً ہی حقیقت مان کر تسلیم نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہمیں اس کی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش کرنا چاہیے کیونکہ یہ بات اب بالکل ثابت ہوچکی ہے کہ سوشل میڈیا چینلس اور کسی حد تک نیوز چینلس پر مہیا کرائی جانے والی جانکاری کافی توڑ مروڑ کر پیش کی جاتی ہے اور ان کو اس طریقے سے صارفین تک پہنچانے کے لیے بڑی بڑی کمپنیاں، تجارتی ادارے اور سیاسی جماعتیں کثیر رقم مہیا کراتی ہیں۔لیکن ہمیں اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم صحیح معلومات تک پہنچ سکیں اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی کسی بھی معلومات کو آنکھ بند کرکے اسے سچ تسلیم نہ کریں۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔)
www.asad-mirza.blogspot.com