نوشہرہ //بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے راجوری کادورہ کرکے نوشہرہ سیکٹر میں حد متارکہ پر قائم اگلی چوکیوں کا معائنہ کیا اور سرحدی صورتحال کاجائزہ لیا ۔فوجی سربراہ دوپہر کے وقت نوشہرہ بریگیڈ پہنچے جس دوران ان کے ہمراہ شمالی کمان کے فوجی سربراہ لفٹنٹ جنرل رنبیر سنگھ ، 16کور کے کمانڈر لفٹنٹ جنرل پرمجیت سنگھ ، فوج کی 25انفینٹری ڈیویژن کے جی او سی ، نوشہرہ بریگیڈ کے بریگیڈیئر و دیگر اعلیٰ افسران بھی تھے ۔افسران کے ساتھ میٹنگ کے بعد جنرل راوت نے جھنگڑ اور لام سیکٹروں میں اگلی چوکیوں کا معائنہ کیا۔انہوں نے حد متارکہ پر تعینات اہلکاروںسے تبادلہ خیال کیا اور سرحدی نگرانی کی صورتحال کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے سرحد پر چوکسی مزید بڑھانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ وطن دشمن عناصر پر کڑی نگاہ رکھی جائے ۔جموں میں مقیم دفاعی ترجمان کے مطابق فوجی سربراہ نے پاکستان کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ، جنگجوئوں سے نمٹنے ،ان کی دراندازی و دیگر امور کے بارے میں مفصل جانکاری حاصل کی اور انہیں سرحدی خطے میں امن و سلامتی کے بارے میں بتایاگیا۔فوج کے سربراہ کو پیر پنچال کے شمال (بشمول پرانے ضلع ڈوڈہ )میں ملی ٹینسی کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششوں اوران کو ناکام بنانے کیلئے اقدامات کے حوالے سے بھی روشناس کروایاگیا۔انہوں نے آپریشنل تیاریوں اور سرحدی محافظین کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ فوجی اہلکاروں کی آپریشنل صلاحیتیں بڑھانے کیلئے ہر طرح کی مدد فراہم کی جائے گی ۔انہوں نے کہاکہ دشمن کی اشتعال انگیزیوں کو کڑا جواب دیاجائے اورہر ایک رینک کے افسران و اہلکار وطن دشمن عناصر پر کڑی نگاہ رکھ کر ان کی کوششوں کو ناکام بنائیں ۔اس دوران انہوں نے اہلکاروں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے ان پر مزید پیشہ وارانہ اورمستعدی سے خدمات انجام دینے پر زور دیا۔