مقامی آبادی نے ترقیاتی کاموں کے دوران کھدائی کوذمہ دارقراردیا
زہرہ النساء
سرینگر// راجباغ میں دریائے جہلم ریور فرنٹ کے کنارے لگے متعدد درختوں، خصوصاً مخروطی (کونیفر) درختوں، کے اچانک سوکھنے کے واقعات نے شہریوں، سیاحوں اور فطرت سے محبت کرنے والوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔اگرچہ ان درختوں کے سوکھنے کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی، تاہم مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ ریور فرنٹ منصوبے کے دوران کی گئی وسیع پیمانے پر کھدائی سے ان درختوں کی جڑیں متاثر ہوئی ہیں، جس کے باعث وہ بتدریج خشک ہونے لگے ہیں۔متعدد درختوں کی شاخیں مکمل طور پر سوکھ چکی ہیں، جبکہ کئی درختوں کے تنے بھی خشک ہونے کے آثار ظاہر کر رہے ہیں۔ ریور فرنٹ کے اطراف رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ درخت صدیوں تک صحت مند رہے، لیکن سرینگرسمارٹ سٹی لمیٹڈکے ترقیاتی منصوبے کے دوران تعمیراتی سرگرمیوں کے بعد ان کی حالت بگڑنے لگی۔ اگرچہ تمام درخت متاثر نہیں ہوئے، لیکن مقامی افراد کے مطابق بڑی تعداد میں درخت تشویشناک حالت میں ہیں۔دریائے جہلم کے کنارے موجود یہ درخت برسوں سے دریا کے کناروں کو کٹاؤ سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب پانی کی سطح بلند ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کا گھنا سایہ اور سرسبز ماحول نہ صرف دریا کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ گرمی کے موسم میں لوگوں کو ٹھنڈک بھی فراہم کرتا ہے۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ترقیاتی سرگرمیوں نے ان صدیوں پرانے قدرتی ورثے کی صحت اور بقا کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ایک مقامی رہائشی نے کہا، ’’علاقے میں بھاری مشینری سے کی گئی کھدائی نے غالباً ان درختوں کی جڑوں کو نقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے یہ آہستہ آہستہ سوکھ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے دوران کئی بڑے اور پرانے درختوں کے بالکل قریب گہری کھدائی کی گئی۔ اس کے علاوہ راستوں کو کنکریٹ سے تعمیر کیا گیا، جس سے وہ قدرتی زرخیز مٹی، جو دریا کے معدنی اجزا سے بھرپور تھی، سخت کنکریٹ میں تبدیل ہوگئی۔ایک اور مقامی شخص نے بتایا کہ تعمیراتی کام شروع ہونے کے چند ماہ بعد ہی درختوں کی حالت میں تبدیلی نمایاں ہونے لگی۔انہوں نے کہا،’’میں نے برسوں تک ان درختوں کو سرسبز دیکھا ہے، لیکن جیسے ہی بڑے پیمانے پر کھدائی شروع ہوئی، بعض درخت مرجھانے لگے۔ یہ محض اتفاق معلوم نہیں ہوتا۔‘‘مقامی باشندوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ درختوں کی موجودہ حالت کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ آیا کھدائی کے باعث ان کی جڑیں یا ساختی مضبوطی متاثر ہوئی ہے یا نہیں۔ ان کا خدشہ ہے کہ اگر جڑوں کو نقصان پہنچا ہے تو آنے والے برسوں میں مزید درخت بھی سوکھ سکتے ہیں۔کچھ مقامی افراد نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ممکن ہے بعض درختوں کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا گیا ہو تاکہ مستقبل میں ریور فرنٹ پر مزید تعمیرات یا تجارتی سرگرمیوں کی راہ ہموار کی جا سکے۔ایک طالب علم، جو اکثر اس علاقے میں آتا ہے، نے کہا، ’’ممکن ہے مستقبل کی تعمیرات یا تجارتی منصوبوں میں رکاوٹ بننے والے درختوں کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا گیا ہو۔‘‘تاہم ان الزامات کی تائید میں کوئی ثبوت موجود نہیں، اور مقامی لوگوں نے بھی ایسی کسی کارروائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے سے انکار کیا۔دریائے جہلم کے دوسری جانب واقع دی بند پر موجود چنار اور ببول سمیت دیگر درخت بھی سوکھنے کے آثار دکھا رہے ہیں۔ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے اور عمر رسیدہ درختوں کے قریب گہری کھدائی بعض اوقات ان کی اہم جڑوں کو کاٹ دیتی ہے یا نقصان پہنچاتی ہے، جس سے درختوں کی پانی اور غذائی اجزا جذب کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ تاہم درختوں کے سوکھنے کی اصل وجہ کا تعین صرف ماہرین کے تفصیلی معائنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔اس معاملے پر سری نگر اسمارٹ سٹی لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور سری نگر میونسپل کارپوریشن کے کمشنرفضل الحق حسیب سے جب ردِعمل طلب کیا گیا تو انہوں نے مختصر طور پر کہا،’’میں اس معاملے کا جائزہ لوں گا۔‘‘