جی کہئے کیا حال ہے آپ کا؟ اس وقت کیا کر رہے ہیں۔ چائے کی چسکیاں لے رہے ہیں یا کسی اچھے ہوٹل میں کھانا کھا رہے ہیں یا کسی دفتر میں کسی سائل کی فائلکے متعلق سوچ رہے ہیں۔خیر جو بھی کر رہے ہیں ۔آپ کی تو پانچوں گھی میں ہیں۔ ہاں! ہاں!! میں آپ سب سے مخاطب ہوں جو رشوت خور ہیںاور بغیر کسی نذرانے کے کبھی کسی سائل کا کام نہیں کرتے ہیں ۔کئی دنوں سے سوچ رہاتھا کہ آپ سےبالمشافہ ملاقات کروں۔البتہ کسی نہ کسی دفتر میں آپ سے مختصراًملاقات ہوہی جاتی ہے۔ میری کیا مجال کہ آپ کے سامنےساری بات رکھوں،میں تو بس ۔جی ہاں جی ہاں کرتا رہتا ہوں ۔کئی بار آپ کی جیب بھی گرم کرنا چاہی مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔!
خیر آج من میں خیال آیا کہ کیوں نہ آپ سے خط و کتابت کروںاور وہ ساری باتیں خط میں لکھ دوں جو آپ کے سامنے کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی ہے ۔میری کیا کسی کی بھی ہمت نہیں ہو رہی ہے جو آپ کے دفتر میں روبرو آپ کو آئینہ دکھائے کیونکہ آئینہ دیکھنے سے آپ کو غصہ آتا ہے۔ہوسکتا ہے آپ کو اپنے آپ یا اپنی شکل سے نفرت ہو ۔خیر میں مدعے کی بات پر آتا ہوں ۔چاہے آپ کسی بھی عہدے پر فائز ہوں۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ سرکار آپ کو کام کرنے کے پیسے دیتی ہے اور آپ اس کے مستحق بھی ہیں ،کام جو کرتے ہیں لیکن یہ پیسہ کہیں اور سے نہیں بلکہ جن لوگوں سےلگان کی صورت میں وصول کیا جاتا ہے، اُنہی لوگوں سے آپ بری طرح سے پیش آتے ہیں ۔آپ اُن لوگوں سے ٹھیک طرح سے بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔جن سے آپ رشوتیںوصول کرتے ہیں اورپھریہی حرام کی کمائی آپ اپنے بیوی بچوں اور بوڑھے والدین کو کھلاتے ہیں۔ افسوس صد افسوس! جس شخص سے آپ رشوت مانگتے ہیں کیا آپ نے کبھی سوچا کہ وہ یہ پیسہ کہاں سے لاتا ہے؟کیا آپ کو اس کی حالت کا اندازہ ہے؟رشوت دے کر وہ آپ کو کتنی بد دعائیں دیتا ہے۔ مگر آپ کو یہ باتیں جاننے کی فرصت کہاں ؟آپ تو اپنی ہی دنیا میں مگن ہیں ۔آپ ایک اچھی خاصی رقم ماہانہ تنخواہ لیتے ہیں اور ایک مزدوری کرنے والے سے رشوت لیتے ہیں۔ اس سے زیادہ شرم کی بات کیا ہو سکتی ہے۔اجتماعی طور پر ہم سب کے لیے غور و فکر کا مقام ہے۔اس پر طرہ یہ کہ آپ پڑھے لکھے ہیں۔جب کہ عام نظریہ ہے کہ علم سے انسان کا دل و دماغ روشن ہوجاتا ہے، حیران ہوں کہ آپ میں علم کی بدولت کوئی تبدیلی کیوں نہیں آئی۔تعلیم نے کیا صرف آپ کو ایک عہدہ دیا ہے جس سے آپ لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالیں۔ایک ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ،مجبور و مستحق انسان جو حرام کمائی سے ڈر جاتا ہےاور نہایت عاجزی کے ساتھ مسجدکی پچھلی صف میں بیٹھتا ہے ۔کیا آپ سے ہزار درجہ بہتر نہیں ہے؟ ذرا سوچیے کہ اتنا گھناؤنا کام کرنے کے باوجود آپ مسجدوں کے اگلے صفوں میں بیٹھتے ہیںاور ہر محفل و مجلس میں اپنے آپ کو عزت دار سمجھتے ہیں ۔ عزت دار تو وہ مزدور ہے جو خون پسینہ سے اپنا گزر بسر کرتا ہے۔عزت دار تو وہ ہے جو آپ کے ہی جیسے کسی عہدے پر فائز ہےلیکن کبھی کسی سے رشوت نہیں لیتا بلکہ اپنا کام ،محنت اور لگن سے سر انجام دیتا ہے اور سائلوں کی دلجوئی کرتا ہے ۔یاد رکھئیے کہ آپ کے پاس مظلوم فریاد لے کر آتا ہے آپ ظالم فریق سے رشوت لے کر سچائی دباتے ہیں اور آپ سمجھتے ہیں کہ کوئی بڑا کارنامہ انجام دے کر جیت گئے ہیں۔ نہیں ،ہر گز نہیں!آپ دین و دنیا دونوں ہار جاتے ہیں۔چند دن پہلے آپ سے میری ملاقات بھی ہوئی تھی جب آپ نے کہا تھا کہ میں رشوت کا آدھا حصہ غریبوں اور ناداروں میں بانٹ دیتا ہوں ۔اس وقت تو میں خاموش رہا لیکن میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ چاہے تم کتنا بھی صدقہ خیرات کیوں نہ کرو ،اس سے وہ گناہ ہر گز معاف نہیں ہونگے جو آپ نے دوسروں کے حق تلف کرکےکئے ہوں۔ ہاں! تمہیں ایک اور بات یاد دلا دوں۔میرے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے اور دینے والے دونوں کو جہنمی قرار دیا ہے۔کیا تمہیں اس ارشاد سے بھی ڈر نہیں لگتا ہے۔آخر کب تک خیر منائیں گے آپ ! جواب دینا ہوگا اللہ کے دربار میں ۔مجھے اس بات کا بھی افسوس ہے کہ آپ رشوت ایسے وصول کرتے ہیں جیسے یہ تمہاراجائز حق ہے اور کبھی کبھی چائے ،پانی اور مٹھائی کے نام پر بھی یہ ظلم کرتے رہتے ہیں ۔ہنسی تو تب آتی ہے جب آپ کسی محفل میں بیٹھ کر حق اور انصاف کی بات کرتے ہیںاور اپنے آپ کو باقی لوگوں سے معزز اور معتبر سمجھتے ہیں۔ذرا سوچئے قیامت میں جب وہ سب لوگ جن کا آپ نے حق چھینا ہو، جن سے آپ نے ناانصافی کی ہو یا جن سے آپ نے رشوت لی ہو ،آپ کا دامن پکڑیں گے تو کیا جواب دیںگے؟ رشوت دینے والوں کی کچھ نہ کچھ مجبوری رہی ہو گی لیکن تمہاری کیا مجبوری تھی لینے کی؟مجھے امید ہے کہ میرا یہ خط پڑھ کر تمہیں کچھ نہیں تو تھوڑی سی شرمندگی ضرور ہو جائے گی۔لیکن ابھی کچھ نہیں بگڑا ہے۔کر لے سچے دل سے توبہ کہ آج کے بعد رشوت نہیںلوں گااور رشوت کے نام پر لوگوں کو پریشان نہیں کروں گا۔اللہ آپ کو معاف فرمائے گا ،وہ غفور الرحیم ہے ۔یقین جانو! آپ اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیںاور میں تمہیں اس سے بچانا چاہتا ہوں ۔اُمید ہے یہ خط بغیر ایڈریس آپ تک ضرور پہنچے گاکیونکہ آپ کا کوئی مکمل پتہ تو ہے نہیںاور نہ ہی کوئی ٹھوس نام ہے جبکہ آپ تو تقریباً ہر دفتر میں کسی نہ کسی کرسی کی زینت بنے ہوئے ہیں ۔میں کس دفتر کا نام لکھو اور کس دفتر کا ایڈریس لکھوں؟ہر شعبے میں یہی دستور چلا آرہا ہے۔ ضروری نہیںکہ میرا یہ خط آپ کا نظریہ بدل دے اور آپ کو ان باتوں پر سوچنے پر مجبور کرےلیکن آپ مجھے بُرا بھلا بھی نہیں کہہ سکیں گےکیونکہ آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا،حق اور باطل صاف صاف دکھاتارہتا ہے۔ آپ کا خیر خواہ !
(اویل نور آباد )