جموں //ٹرائبل ریسرچ اینڈ کلچرل فائونڈیشن نے ریاست کے سرحدی علا قوں میں لگاتار فائرنگ کی وجہ سے متاثر ہو ئے گوجربکروال طبقہ کو محفوظ مقامات پر آباد کرنے کی مانگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندو پاک کے مابین ہونے والی فائرنگ کی وجہ سے مذکورہ طبقہ کو سب سے زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ٹرائبل ریسرچ اینڈ کلچرل فائونڈیشن کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام سے اپنے خطاب میں مقررین نے کہا ریاست کے سرحدی علا قوں میں گوجر بکروال طبقہ کی ایک بڑی آبادی رہائش پذیر ہے جو کہ ہمیشہ پاکستانی افواج کی جانب سے کی جانے والی فائر نگ کی زد میں آتی ہے ۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر جاوید راہی نے کریشنا گھاٹی میں پاکستانی افواج کی جانب سے کی گئی فائر نگ میں ایک ہی کنبہ کے تین افراد کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہر بر س مذکورہ طبقہ کے درجنوں مویشی اور انسان فائرنگ کی وجہ سے ہلا ک ہوتے ہیں جبکہ کئی افراد زخمی ہونے کے علا وہ پڑے پیمانے پر گوجر طبقہ کے لوگ ہجرت کر نے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔انہوں نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ سرحدی علا قوں میں رہائش پذیر لوگوں کو محفوظ مقامات پر جگہ فراہم کی جائے۔مقررین نے کہاکہ ریاست میں قبائلی طبقہ کی 20فیصد آبادی ہے جس میں سے ایک بڑی تعداد پونچھ سے لکھن پور اور اوڑی سے کرگل تک کے سرحدی علا قوں میں آباد ہیں جبکہ گزشتہ ایک برس کے دوران اس طبقہ کے متعدد افراد سرحدی علا قوں میں ہو رہی فائرنگ کی وجہ سے ہلاک ہو ئے ہیں ۔اس پروگرام میں اشتیاق مصباح چوہدری ،چوہدری والی محمد ،خادم حسین ،میر محمد گوجر ودیگران بھی موجود تھے ۔