کشمیر کی اقتصادی حالت کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ایک بات عیاں ہو جاتی ہے کہ کشمیر کی معیشت کا دارومدار سیب کی صنعت پر ہے۔اگر چہ کچھ لوگ نجی کاروبار اور سرکاری نوکریوں سے وابستہ ہیںتاہم زیادہ تر لوگ زمینداری اور سیب کی صنعت سے ہی منسلک ہیں۔ اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ پورے ہندوستان کے ساتھ ساتھ کشمیر میں بھی بے روزگاری اپنے شباب پرہے۔کشمیر کا اقتصادی ڈھانچہ کافی کمزور ہے۔کرونا وائرس نے پوری دنیا کے ساتھ ساتھ یہاں کی اقتصادیات کو بھی بری طرح سے متاثر کیا ہے۔اس دوران نہ ہی لوگوں کو کاروبار کرنے کا موقع ملا ہے اور نہ ہی مزدوری کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے تمام تر تجارتی مراکز بند رہے۔بلکہ ملک کا سارا اقتصادی نظام ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ویسے بھی کشمیر کا نجی سیکٹر اتنا فعال نہیں ہے کہ لوگ اس سے منسلک ہو کر اپنی زندگی گزاریںبلکہ یہاں کارخانوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔
سیب کی صنعت ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس پر یہاں کے لوگ اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔سیب کی کاشت کرنے والے نہ صرف اپنا گزر بسر کرتے ہیں بلکہ سینکڑوں اور لوگوں کو بھی مزدوری فراہم کر کے ان کے روزگار کا زریعہ بنتے ہیں۔ مثلاًسیب کی کاشت کرنے والے کو شاخ تراشی کرنے والوں کی ضرورت ہر سال پڑتی ہے۔اتنا ہی نہیں سیب اتارنے،پیٹیوں میں بھرنے اور اسے ملک کی مختلف منڈیوں تک پہنچانے کے لیے بھی لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے۔اس طرح سے ہزاروں لوگ براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس صنعت سے جڑے ہوئے ہیں۔ سیب کو تیار ہونے سے پہلے مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔سیب کی فصل کے تیار ہونے تک تقریباً ایک درجن ادویات کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے تاکہ سیب مختلف بیماریوں سے محفوظ رہ سکے اور زمیندار کو اچھی خاصی قیمت مل سکے۔اتنا ہی نہیں مختلف قسم کی کیمیائی کھادوں کا استعمال کر کے سیب کی اس فصل کو پائے تکمیل تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس صنعت سے وابستہ لوگ ادویات اور کیمائی کھادوں کا خرچہ برداشت کرنے کے لیے مختلف بنکوں سے قرضہ وصول کرتے ہیں۔
باغات کا خرچہ برداشت کرنے کے لیے یہ زمیندار کے سی سی کے نام پر لاکھوں روپے کا قرضہ اٹھاتے ہیں اور اپنے آپ کو بنکوں کے مقروض بنا دیتے ہیںاور یہی امید ہوتی ہے کہ فصل اچھی نکلے گی اور سارا قرض اتر جائے گالیکن کاشتکار سال بھر تذبذب میں رہتے ہیں کہ کہیں ژالہ باری نہ ہو ،کہیں کوئی اور آفت نہ آئے اور اس کی سال بھر کی کمائی مٹی میں نہ مل جائے۔متعدد بار ایسا بھی ہوا کہ ژالہ باری سے ساری کی ساری فصل تباہ و برباد ہو گئی۔اب اگر خدا خدا کر کے کاشتکار کی یہ فصل قدرتی آفات سے بچ بھی جاتی ہے تو پھر نقلی اور غیر معیاری ادویات کا کاروبار کرنے والوں کی کارستانی اور مکاری سے اس فصل میں مختلف قسم کی بیماریاں لگ جاتی ہیں۔بہت ساری ادویات ایسی ہوتی ہیں جن سے بیماری ہٹنے کے بجائے الٹا ہمارے باغات مختلف بیماریوں کی زد میں آجاتے ہیں۔
جموں و کشمیر میں اگر چہ محکمہ باغبانی کا ایک شعبہ باضابطہ طور پر قائم کیا گیا ہے اور کاشتکار حضرات ان کے مرتب کردہ سپرے شیڈول کو من و عن عملانے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن یہ محکمہ نقلی بلکہ زہریلی ادویات کا کاروبار کرنے والوں کی لگام کسنے میں کہیں نہ کہیں ناکام ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔حال ہی میں ضلع کولگام اور شوپیان سے کچھ ایسے دل دہلانے والے ویڈیوز وائرل ہوئے جن میں صاف طور پر دکھایا گیا کہ ادویات کے چھڑکاؤ سے چند باغات مکمل طور پر جل گئے اور اس طرح سے سیب کی صنعت سے وابستہ لوگوں کی عمر بھر کی کمائی دیکھتے ہی دیکھتے خاک میں مل گئی۔ایسے لوگ کیا کریں گے اور کہاں جائیں گے جن کے باغات ادویات کے چھڑکاؤ سے مکمل طور پر جل گئے۔
راقم نے چند ایسے باغات کا مشاہدہ کیا۔ان باغات کی حالت دیکھ کر رونا آتا ہے۔ افسوس ایسے دوا فروشوں پر جو اپنے حقیر مفادات کی عمل آوری کے لیے اس طرح کا گھناؤنا کھیل کھیلتے ہیںجو نہ صرف لوگوں کے روزگار بلکہ ان کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ ہے۔بہت سارے ایسے کاشتکار خودکشی پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ انتظامیہ ایسے ضمیر فروشوں بلکہ مردہ ضمیروں کے خلاف کاروائی کرنے میں کامیاب کیوں نہیں ہوتی؟ ایسے دوا فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے میں اس قدر دیری کا مظاہرہ کیوں کیا جاتا ہے؟ کیا انتظامیہ کی نظروں سے ایسی خبریں، ایسے ویڈیوز اور کاشتکاروں کی چیخ و پکار نہیں گزرتی؟ جبکہ ملک میں ایسے قوانین موجود ہیں جن کے تحت ایسے لوگوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ نقلی اور زہریلی ادویات کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔ ہمیں محکمہ باغبانی پر پورا بھروسہ ہے کہ یہ محکمہ ایسے لوگوں کے خلاف کاروائی کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ محکمہ ہاتھ پر ہاتھ دھرا ہواہے لیکن جس کاروائی کی اس محکمے سے توقع ہے ایسا نہیں کیا جاتا ہے۔لازم ہے کہ ایسے کارباریوں کی اسناد کالعدم قرار دی جائیں اور ان کے دکانوں کو سربمہر کر دیا جائے۔ اتنا ہی نہیں انتظامیہ کا فرض بنتا ہے کہ ایسے باغات کی نشاندہی کر کے ان باغ ماکان کو معاوضہ دیا جائے تاکہ سیب کی صنعت سے وابستہ یہ لوگ فاقہ کشی پر مجبور نہ ہو جائیں ۔باغ مالکان سے بھی میری گزارش ہے ہ کسی بھی دوا کے چھڑکاؤ سے پہلے ماہرین کی رائے ضرور لیں تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات پیش نہ آئیں اور ہمارے باغات محفوظ رہ سکیں۔
رابطہ ۔اویل نورآباد،کولگام کشمیر