حمیراعلیم
قربانی ایک عظیم شعائر اللہ ہے۔اس کے ذریعے ہم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی ہم پر رحمت اور ابراہیم علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ کے لیے فرمانبرداری کو یاد کرتے ہیں۔ادھیہ اس جانور کو کہا جاتا ہے جسے ہم اللہ کی راہ میں ذی الحج کے ایام تشریق یعنی عید الاضحٰی سے تیرہ ذی الحج تک اس لیے ذبح کرتے ہیں کیونکہ یہ حکم ربیّ ہے۔
’’اس لیے اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجئے۔‘‘ (الکوثر۔ 2)،’’کہہ دو کہ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہان کا پالنے والاہے۔‘‘
(سورہ الانعام۔ 162)
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:’’ میں نے عیدالاضحٰی کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ادا کی۔نماز،کی ادائیگی کے بعد دو مینڈھے لائے گئے اور آپ نے انہیں ذبح کیا۔انہوں نے فرمایا:” اللہ کے نام پراللہ اکبر۔یہ میری طرف سے اور میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے جنہوں نے قربانی نہیں کی۔”( سنن ابو داؤد۔ 48) جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا، وہ اپنے لئے ذبح کرتا ہے اور جس نے نماز کے بعد کیا، اس کی قربانی مکمل ہو گئی۔ اور وہ مسلمانوں کے طریقے کو پہنچا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مینڈھے، اونٹ اور گائے سب کی قربانی کی، لہٰذا جو شخص آسانی سے جس جانور کی قربانی کر سکے، اسے وہی لینا چاہیے۔کیونکہ اسلام آسانی چاہتا ہے سختی نہیں۔
ایک گائے یا اونٹ میں سات لوگ بھی حصہ ڈال سکتے ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ” چار قسم کے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے: ۱۔ایسا کا نا جانور جس کا کا نا پن ظاہر ہو،۲۔ایسا بیمار جس کی بیماری واضح ہو ،۳۔ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑاپن ظاہر ہو،۴۔انتہائی کمزور اور لاغر جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔(سنن ابوداود،سنن نسائی( قربانی کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ اگر ممکن ہو تووہ قربانی کا گوشت ہی کھائے اور اس سے پہلے کچھ نہ کھائے۔
ایک روایت کے مطابق:’’نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عیدالاضحٰی کے دن کچھ نہیں کھاتے تھے جب تک کہ وہ قربانی نہ کر لیتے۔‘‘(المشکوٰۃ۔ 452)
قربانی کرنے والے کے لیے بہتر ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے ذبح کرے۔لیکن اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا تو قربانی کے وقت موجود ضرور ہو۔ قربانی کے تین حصے کرنا مستحب ہیں،ایک تہائی اپنے کھانے کے لیے، ایک تہائی تحفہ دینے کے لیے اور ایک تہائی صدقے کے لیے۔گوشت یا کھال بیچنا جائز نہیںاورنہ ہی قصاب کو اس کا گوشت، کھال یا کوئی بھی حصہ بطور اُجرت یا تحفتاًدینا جائز ہے۔
ذبیح کا طریقہ :چاہے قربانی ہو یا ویسے ہی ذَبح کرنا ہو،سنّت یہ چلی آ رہی ہے کہ ذَبح کرنے والا اور جانور دونوں قبلہ رُو ہوں۔ اور ذَبح کرنے والا اپنا دایاں (یعنی سیدھا) پاؤں جانور کی گردن کے دائیں (یعنی سیدھے) حصّے(یعنی گردن کے قریب پہلو) پر رکھے اور ذَبح کرے اور خود اپنا یا جانور کا مُنہ قبلے کی طرف کرنا ترک کیا تو مکروہ ہے۔
قربانی کا جانور ذبح کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھی جائے۔
اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ۔ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن۔لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰ لِکَ اُمِرْتُ وَاَنَامِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔
اور جانورکی گردن کے قریب پہلو پر اپنا سیدھا پاؤں رکھ کراَللّٰھُمَّ لَکَ وَمِنْکَ بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَر۔پڑھ کر تیز چُھری سے جلد ذَبح کردیجئے ۔۔ قر بانی اپنی طرف سے ہو توذَبح کے بعد یہ دعا
’’اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَ السَّلَامُ وَحَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم ‘‘ پڑھیں۔
’’جب تم ذَبح کرو تو اَحسن طریقے سے ذَبح کرو اورتم اپنی چُھری کو اچّھی طرح تیز کرلیا کرواورذَبیحہ کو آرام دیا کرو۔ ‘‘(صَحیح مُسلم۔ 1955)
اللہ تعالیٰ ہماری عبادات اور قربانی کو قبول فرمائے۔