عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس کی بنیاد ہی ناانصافی، نابرابری، ظلم و جبر، استبداد اور غلامی کے خلاف جدوجہد پر رکھی گئی تھی، جس کا آغازمرحوم شیخ محمد عبداللہ نے اپنی جوانی میں کیا تھا۔پارٹی ہیڈکوارٹر پر ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے اپنی پوری سیاسی تاریخ میں ہمیشہ آئین، جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ پر یقین رکھا ہے اور ہر مرحلے پر پرامن اور آئینی راستہ اختیار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے آئین نے جموں و کشمیر کے عوام کو جو حقوق اور مراعات فراہم کی تھیں، ان کی بحالی ہمارا جائز اور آئینی مطالبہ ہے اور اس مقصد کے حصول تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ 2019 میں عوام سے جو آئینی حقوق جبراً چھین لئے گئے، ان کی بحالی ہمارا بنیادی مطالبہ ہے، اسی طرح جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی بھی عوام کا جائز حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی مسلسل لیت و لعل کی پالیسی نے نیشنل کانفرنس کو احتجاج کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے اور اگر اس کے باوجود بھی جموں و کشمیر کے عوام کے جائز مطالبات پورے نہ کئے گئے تو آئندہ کا لائحہ عمل حالات کے مطابق طے کیا جائے گا۔پارٹی صدر نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ حقوق کی اس جدوجہد میں ثابت قدم، منظم اور پْرعزم رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس راستے میں مشکلات اور آزمائشیں آ سکتی ہیں، لیکن صبر، استقامت اور عوامی اتحاد ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی اس تاریخی اور عوامی جماعت کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں تاکہ آئینی حقوق کی بحالی کی تحریک مزید مضبوط ہو۔