ایم آئی ظاہر
میرے خیال میں اس فہرست میں نرائن کے نام کا اندراج لازمی ہے،جو ایک عورت کے اس سچے خلوص کی بھی سچی قدر کر سکتا ہے جو اس کے لئے نہیں بلکہ دوسروں کے لئے ہے۔ اب واپس جا نکی اور نرائن کے مسئلہ کی طرف آتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ نرائن ایک ایسا مرد ہے جو عورت کو بدلے میں ہی خلوص، محبت اور گرمی نہیں دیتا بلکہ خود پہل کرتا ہے۔ ایک ایسی عورت جو اسے دیکھ کر نفرت سے منہ پھیر لیتی ہے اور اپنے کمرے میں اس کی موجودگی کی بھی روادار نہیں، نرائن اس کے لیے فوجی ہسپتال سے پینسلین کے انجکشن چراتا ہے اور رات رات بھر جاگ کر انجکشن کو اُبالتا اور ٹھیک وقت سے جانکی کو لگاتا ہے اور جی جان سے اس کی تیمارداری کرتا ہے۔ یہاں اس پُر خلوص عورت جانکی کو جو جسم اور روح کے ساتھ محبت کرنے پر آمادہ ہے، بالآخر وہ مرد مل جاتا ہے جو نہ تو عورت کو صرف جسم سمجھتا ہے اور نہ خود محض جسم ہے۔ اس مرحلے پر مرد اور عورت کا تعلق روحانی اور جسمانی اکائی کا حامل ہو جاتا ہے۔ یہیں افسانے کا اختتام عورت کی اس خواہش اور اس کی تلاش کی تکمیل کا اعلامیہ ہے۔ اس سے پہلے کا ہر تعلق عدم توازن کا شکار تھا اس لیے قائم نہ رہ سکا اور جانکی کی زندگی میں خلا رہا۔جب کہ یہ وہ تعلق ہے جہاں مرد، عورت سے کسی طور کم نظر نہیں آتا۔ یوں چاہنے اور چاہے جانے کا دائرہ مکمل ہوجاتا ہے۔ اگر یہ دائرہ مکمل نہ ہو تو مرد یا عورت میں سے کوئی ایک فریق استحصال کا شکار ہوتا ہے۔ یہ صورت ہمیں ’’میرا نام رادھا ہے‘‘ میں نظر آتی ہے جہاں مرد صرف چاہے جانے کے خبط میں مبتلا ہے اور اسی لئے اس کے پاس کسی کو چاہنے کی نہ ہمت ہے اور نہ صلاحیت۔ اپنی اس محرومی کو چھپانے کے ڈھونگ میں وہ ایک سراسر جھوٹے اور ریاکار شخص کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہاں اگر نرائن کو راج کشور کے برابر رکھ کر دیکھا جائے تو یہ دونوں کردار ایک دوسرے کی ضد ہیں، یعنی عورت کی طرح منٹو کے مرد بھی صرف نام ہی سے نہیں بلکہ اپنے کردار اور نفسیات سے بھی ایک دوسرے سے کہیں الگ اور کہیں متصادم ہیں۔( تنقید کی کتاب ’’عصری ادب کے رجحانات‘‘ میں شامل ایک مضمون سے اقتباس: عنبریں حسیب عنبر)
سماجی مسائل پر تخلیقات: عنبرین حسیب عنبر نے ہماری نوجوان نسل کے حوالے سے سماجی مسائل پر بھی خوب کام کیا ہے۔ ان کی تخلیقات اخبارات میں بھی شائع ہوتی رہی ہیں۔ان کی تحریروں میں موجودہ دنیا کے بارے میں نیے خیالات ان کی شاعری کو ایک منفرد اور نازک رنگ دیتے ہیں۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے اردو ادب میں پہلی پوزیشن کے ساتھ ماسٹرز کیا ہے اور ان کی پی ایچ ڈی کا مضمون بھی یہ ہی ہے ۔ انہوں نے کھیلنے کودنے کی عمر میں غیر رسمی طور پر 9 برس کی عمر میں شاعری شروع کی تھی۔ اس کے بعد وہ اپنے خوبصورت خیالات و الفاظ کو شاعری کی شکل میں ڈھالنے کی کوششیں کرتی رہیں۔ پھر 1991 میں ان کی نظم کا مطالعہ کرنے کے بعد رفعت صدیقی نے انہیں اس پر سنجیدگی سے کام کرنے کا مشورہ دیا۔ اسکے ساتھ ہی انہوں نے اپنے والد سے بھی کچھ رہنمائی لینے کے لیے کہا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان کے والد کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ اس قدر لکھتی ہیں۔ انہوں نے 1995 میں اپنی شادی کے بعد رسمی طور بر لکھنا شروع کیا۔ جب ان کے شوہر کو معلوم ہوا کہ وہ لکھنے میں دلچسپی رکھتی ہیں تو انہوں نے ان کی خوب حوصلہ افزائی کی اور اسے سنجیدگی سے لینے کی تاکید کی۔
قوت حیات اور اظہار کا مخصوص انداز: اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ شادی کے بعد اتنی نزاکت اور مؤثر طریقے سے کام کرنے میں کیسے کامیاب ہوئیں، انکا ماننا ہے کہ دراصل قوتِ حیات اپنے اظہار کے طریقے تلاش کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ ان کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ہمارے معاشرے میں شاعری کو بیچلر لائف کا مشغلہ سمجھا جاتا ہے، لیکن انکے نزدیک یہ ایک سنجیدہ اور پر سکون فن ہے۔ شاعرانہ صلاحیتیں ورثے میں ملنے کی بات پر انکا خیال ہے ضرور، لیکن یہ ذاتی دلچسپی پر منحصر ہے۔ وہ مانتی ہیں کہ یہ سب اپنے گھر کے ماحول میں پرورش کی وجہ سے ہوا، جہاں معروف شخصیات کا آنا جانا رہتا تھا، لیکن وہ اکیلی ایسی رہیں جو شاعری کرتی تھیں۔ اب یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ شاعرانہ مہارت وراثت میں ملتی ہے لیکن سوال اس ہنر کو تخلیقی انداز میں استعمال کرنے کا ہے۔ مادیت پسندی کے بارے میں انکا خیال ہے کہ ایسے حالات میں نایاب شاعری کرنا مشکل ہے۔ان کی شاعری کی طرح انکا یہ جملہ بھی کتنا خوبصورت ہے کہ شاعری صرف وہی شخص جاری رکھ سکتا ہے جس کے لیے شاعری زندگی کا سوال ہو۔عنبرین حسیب عنبر کا خیال ہے کہ ہماری زندگیوں کی مابعد الطبیعیات مکمل طور پر بدل چکی ہیں اور ہم اپنے معاشرے میں اقدار کے زوال کا مسلسل مشاہدہ کرتے ہیں۔ انکا ماننا ہے کہ درحقیقت شاعر کے لیے ان تمام تبدیلیوں میں سانس لینا اور اپنے اندرونی اور بیرونی ماحول کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ رکھنا مشکل ہے۔ صرف شاعرہ ہونے کی بات پر محترمہ عنبر کا خیال ہے کہ لوگ رنگوں سے مسحور ہو کر مصور بن جاتے ہیں لیکن وہ ہمیشہ الفاظ کی طرف متوجہ رہتے ہیں ،کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ شخصیت کا جوہر الفاظ میں چھپا ہوتا ہے۔ اپنی شاعری کے استعارے کے بارے میں انکا خیال ہے کہ کائنات اور خدا کے ساتھ انسان کا تعلق ہمیشہ سے شعور کا مرکز رہا ہے ،لیکن اس دور میں لوگ نئے معنی تلاش کر رہے ہیں۔ تانیثیت کے نظریہ سے : تانیثیت کے نظریہ سے دیکھیں تو عنبرین حسیب عنبر مانتی ہیں کہ ایک خاتون ہونے کی وجہ سے انکے لیے خواتین کے مسائل کو نظر انداز کرنا مشکل ہوتا ہے، ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ان تصورات پر زور دینے کی دانستہ کوشش نہیں ہے، بلکہ یہ ان کی شاعری میں ذہن کے بے ساختہ بہاؤ کے طور پر آتے ہیں۔ آدھی دنیا پر انکا یہ خیال قابل ذکر ہے کہ عورت ہونے کی وجہ سے وہ زندگی کے کچھ ایسے تجربات محسوس کر سکتی ہے جن کے بارے میں مرد کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔ کائنات کو سمجھنے کی شعوری کوشش : عنبرین حسیب عنبر سماجی مسائل کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بناتی ہیں۔ انکا خیال ہے کہ وہ جان بوجھ کر اس کائنات کو سمجھنے کی شعوری کوششوں اور اس کائنات کے خالق کے ساتھ اپنے تعلق کو سمجھنے کی کوشش کے بارے میں لکھنے کی سعی کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لوگوں کے سماجی اور نفسیاتی رویوں پر بھی کام کرتی ہیں۔
پروین شاکر سے جدا شاعری : انکی شاعری کے انفرادی مزاج کے بارے ذکر کرتے ہویے یہ تذکرہ بھی ضروری ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے ادبی تربیت کے زیر اثر بہت سے شعر پڑھے اور وہ ان سے لطف اندوز ہوئیں، لیکن ان میں سے کسی شاعر کی نقل کرنے کی کوشش نہیں کی۔اس لے اس لیے قاریین اور سامعین ذہن میں پروین شاکر اور زبان پر عنبرین حسیب عنبر کے اشعار گنگنانے کی عادت میں بدلاؤ لاییں۔راقم الحروف ایک ادیب اور شاعر کے ساتھ صحافی اور مدیر بھی ہے تو اسے اپنے نداز میں یوں کہنے کی جسارت کروں گا کہ آپ جب عنبرین حسیب عنبر کی شاعری سنیں یا پڑھیں تو آپ کے ذہن میں صرف عنبرین حسیب عنبر ہی رہیں اور ذہن سے دیگر تمام باتیوں کی ادارت کر دیں۔ عام طور پر بیشتر لوگ پروین شاکر کا یہ شعر کوٹ کرتے ہیں,جو انکی شاعری کا نمائندہ شعر ہے۔
کمال ضبط کو میں خود بھی آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی
اس شعر میں پروین شاکر اپنے محبوب سے بے انتہا محبت کے باوجود ایک ناکام محبوبہ کے اپنے محبوب سے از حد محبت اور صبر کی انتہا کا ذکر کر ہی ہیں ۔جب کہ عنبرین حسیب عنبر منفرد انداز میں کہتی ہیں۔اس میں نہ کسی اور شاعر کا رنگ ہے اور نہ ہی اس کی تقلید ۔یہ بات عنبر کے کئی اشعار سے ثابت ہو تی ہے۔ ان کی شاعری میں محبوبہ محبوب سے منفرد انداز میں بات کہتی ہے،جس میں محبوبہ ترک تعلق کے باوجود اپنی بات جدا انداز میں کہتی ہے۔ان اشعار میں کسی بھی شاعر کا نظریہ، خیال یا رنگ نظر نہیں آتا ہے۔وہ صرف اور صرف عنبرین حسیب عنبر کا ہی منفرد انداز اور وہی جانا پہچانا شوخی بھرا لہجہ ہے ۔ عنبرین حسیب عنبر کے ان اشعار سے یہ بات ثابت بھی ہو رہی ہے ۔
اب کے ہم نے بھی دیا ترک تعلق کا جواب
ہونٹ خاموش رہے ، آنکھ نے بارش نہیں کی
بہرحال ان تمام نکات سے یہ بات ثابت ہے کہ عنبرین حسیب عنبر صرف عنبرین حسیب عنبر ہیں۔وہ بس اپنے آپ میں ایک منفرد شاعرہ ہیں۔ انہیں اور نکی شاعری کو کسی اور چشمے سے نہ دیکھیں۔ان کی شاعری،نثر اور تنقیدی تحریر کا جائزہ لینے پر یہ بات ثابت ہے کہ پروین شاکر اور عنبرین حسیب عنبر دونوں کی شاعری کا رنگ جداگانہ ہے۔عنبر حسیب عنبر عالمی اردو ادب کی کہکشاں کا ایک چمکتا اور مہکتا ہوا ستارہ ہیں۔
( مصنف امور خارجہ، ادب،تہذیب اور فنون لطیفہ سے جڑے بین الاقوامی شہرت یافتہ سینیر صحافی،نیوز ریڈر،نیوز اینکر،شاعر، اسکرپٹ رائٹر، کالم نویس اور عالمی تحریک اردو صحافت اور بزم ریختہ کے کنوینر ہیں)
<[email protected]>