عمران بن رشید
(گذشتہ سے پیوستہ)
یہ بھی جان لیجئے کہ علماء نے بنیادی طور پر علم کو دو قسموں میں منقسم رکھا ہے۔ایک علمِ وحی(Revealed Knowledge) جس کا براہِ راست تعلق انبیاء سے ہے ۔اُن کی طرف اللہ کی وحی کا نزول ہوا جو غیر انبیاء کے لئے ممکن نہیں،یہ علم تمام شریعتوں کو محیط ہے۔علم کی دوسری قسم جو علماء نے گردانی ہے، وہ ہے کسبی یا حاصل شدہ علم (Obtained/Acquired Knowledge)،یہ وہ علم ہے جو دنیاوی مشاہدات اور تجربات کی بنا پر انسان کو حاصل ہوتا ہے۔اس میں وہ تمام دنیاوی اور مروجہ علوم شامل ہیںجو شریعت یا مذہب سے باہر حاصل کئے جاتے ہیں،علمِ کیمیا(Chemistry)،علمِ حیاتیات(Biology)،علمِ طبعیات (Physics) فلسفہ (Philosophy) وغیرہ یہ سب اسی میں شامل ہیں۔اول الذکر یعنی علمِ وحی جس کو دوسرے مفہوم میں شرعی علم بھی کہا جاتا ہے، اس کی اپنی ایک درجہ بندی ہے ۔ جیسے اصولِ تفسیر،اصولِ حدیث یا اصولِ فقہ وٖغیرہ ۔البتہ علمِ شرعی یا علمِ وحی کو دلیل کے طور پر لینے کا جہاں تک تعلق ہے،تو ا س حوالے سے ایک اہم بات ذہن نشین کر لیجئے کہ ہم تک جو شرعی علم پہنچا ہے، اُس کی دو قسمیں ہیں اور دو ماخذ ہیں ۔شیخ الاسلام امام ابنِ تیمیہؒ کہتے ہیں ’’واضاف ما تضمنتہ الدار الا خرۃ من الحساب و الثواب و العقاب و الجنۃ والنّار وتفاصیل ذلک مذکورۃ فی الکتب المنذلۃ من السماء والاٰثار من العلم الماثور عن الانبیا‘‘[العقیدۃ الواسطیہ]۔یعنی آخرت کا دن جن امور کو متضمن ہے، اُن میں حساب وکتاب، ثواب و سزا،جنت وجہنم آتے ہیں۔اور اس سب کی تفصیل آسمانی کتابوں میں مذکور ہوئی ہے اور انبیاء سے ماثور شدہ علم اور آثار میں بھی مذکور ہے۔یہاں شیخ الاسلام ؒ نے شرعی علم کے دو ماخذ یا دو قسمیں ذکر کی ہیںاوراس ضمن میں شیخ محمد بن صالح العثیمینؒ رقمطراز ہیں’’انبیاء کرام سے ماثور علم کی دو قسمیں ہیں ،علم کی ایک قسم وہ ہے جو وحی سے ثابت ہے، یہ قرآن اور سنتِ صحیحہ میں مذ کور ہے۔ اس قسم کے علم کو قبول کرنے اور اس کے مدلول پر اعتقاد رکھنے میں کوئی شک نہیں ہے۔ جبکہ دوسری قسم وہ ہے جو وحی کے علاوہ نقل کے انداز میں ہم تک پہنچی ہے۔علم کی یہ وہ قسم ہے جس میں کذب وتحریف اور تغیر و تبدل کا عمل دخل ہوگیا۔لہٰذا انبیاء سابقین سے جو علم اس انداز سے منقول ہوکر ہم تک پہنچا ،اس کے بارے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ ‘‘[شرح عقیدہ واسطیہ]۔علم کی اس تقسیم کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔یہ تقسیم خود رسول اللہ ؐ کے یہاں بھی موجود تھی، وحیِ الٰہی اور اسرائیلیات کی شکل میں ۔ وحیِ الٰہی تو ظاہر سی بات ہے کہ قرآن وسنت کو کہا جاتا ہے لیکن اسرائیلیات کیا ہے ؟اس کو ذرا واضح کردوں۔اسرائیلیات سے مراد وہ اقوال اور عقائد ہیں جو اہل کتاب کی طرف منسوب تھے اور زبان زدِ عام و خاص تھے ’’ھی الاخبار المنقولۃ عن اھل الکتاب و خاصۃ الیہود‘‘ یعنی اسرائیلیات ایسی خبر ہے جو اہلِ کتاب سے منقول ہو، خاص کر یہود سے[اصول التفسیر؍سعود بن عبدالمحیی الصّاعدی]۔ اس کی بھی پھر تین قسمیں ہیں ،ایک وہ اسرائیلی روایات جو قرآن و سنت سے موافقت رکھتی ہیںجیسے کہا جاتا ہے ’’مایجزم بصحتہ لموافقہ القراٰن والسنۃ‘‘ایسی روایات کو تسلیم بھی کیا جائے گا اور وحی بھی ماناجائے گا۔دوسری قسم وہ روایات ہیں جن کی قرآن و سنت میں مخالفت آئی ہو یا جن کی شریعت میں مخالفت کی گئی ہو’’مایجزم بکذبہ لمخالفتہ القراٰن و السنۃ‘‘اور تیسر ی قسم اُن روایات کی ہے، جن سے متعلق قرآن و سنت میں سکوت یعنی خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ ایسی روایات کی تصدیق کرنی ہے نہ تکذیب ،یہی علم اور ایمان کا تقاضا ہے۔’’ما ھوا مسکوت عنہ لا من ھذا ولامن ذٰلک فلانومن بہ ولا نکذبہ ‘‘
آج بھی ہمارے یہاں ایسی روایات اور ایسے اقوال کی بھرمار ہے کہ جن کی صحت یا تو مشکوک ہوتی ہے یا اُن روایات کا اصل وجود ہی مفقود ہوتا ہے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اکثر و بیشتر افراد نے قرآن وسنت کے بجائے اپنے علم اور اپنے وقائد کی بنیاد ان ہی غیر ثابت شدہ یا غیر صحیح اقوال پر رکھی ہوئی ہے۔اور وہ اپنے علم اور اپنے ان غیر ثابت شدہ وقائد میں اس درجہ شدید ہوتے ہیں کہ ان کے سامنے کسی نے اگر نادانستہ طور پر(unintentionally) بھی ان وقائد کی مخالفت کی تو وہ غضب ہوکر لعن طعن پر اتر آتے ہیں ۔ہمارے یہاں ایک علم علمِ سینا کے نام سے بھی مشہور ہے جس میں ایسی ہی روایات سینہ در سینہ نقل کی جاتی ہیںجن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات یہ روایات شریعت کے مخالف ہوتی ہیں۔صدہا روایات ،واقعات اور اقوال جو مسلمانوں میں مشہور ہیں من گھڑت اور لوگوں کی وضع کردہ ہیں۔ مثال کے طور پر حدیثِ قدسی کے نام پرایک روایت بیان کی جاتی ہے جس کا متن یہ ہے’’لولاک لَما خلقتُ الافلاک‘‘ یعنی اگر میں (اے محمدؐ) تمہیں نہ بناتا تو اس کائنات کو بھی نہیںبناتا۔یہ قول اس درجہ مسلمانوں میں مشہور ہے کہ بے شمار اہلِ علم حضرات بھی اس کو حدیث تصور کرتے ہیں۔جبکہ یہ ایک من گھڑت اور موضوع روایت ہے۔ملا قاری علیؒ نے اپنی کتاب ’’موضوعات‘‘ میں واضح طور پر اس روایت کو موضوع کہا ہے۔حالانکہ یہ روایت اور بھی کئی طریقوں سے غیر صحیح ثابت ہوتی ہے۔یہ اللہ کے ارشاد ’’وَمَاخلقتُ الجنّ والانساء الا لیعبدون‘‘[ذٰریٰت؍56]کے مخالف ہے۔
مختصر یہ کہ بغیرِ علم اور بغیرِ تحقیق کسی بات کو تسلیم کرنا شریعتِ اسلامی میں ہرگز درست نہیں ہے بلکہ یہ نری جہالت ہے۔’’وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ ‘‘یعنی مت پڑو اُس بات کے پیچھے جس کا تمہیں علم نہیں[بنی اسرائیل؍36]۔اسی طرزِ عمل کو امام مسلمؒ نے تقلید سے تعبیر کیا ہے’’قبول قول الغیر من غیرِ دلیل‘‘بغیر دلیل کسی غیر کا قول قبول کرنا۔اسی طرح امام محمد بن عبدالوہابؒ کا علم سے متعلق قول پچھلی سطور میں قول رقم کرچکا ہوں،وہ فرماتے ہیں ’’العلم ھو معرفۃ اللّٰہ و معرفۃ نبیّہ ومعرفۃ دین الاسلام بالادلّۃ‘‘[الاصول ثلاثہ]۔یعنی علم دلیل کے ساتھ اللہ کی معرفت اللہ کے نبی کی معرفت اور دین اسلام کی معرفت کا نام ہے۔
تحقیق علم کا جزوِ لاینفک:
اب ذرا آیت کے دوسرے پہلو پر آتا ہوں،وہ یہ کہ حصولِ علم کی ترغیب دلانے کے ساتھ ساتھ اس آیت میں تحقیق پر بھی ابھارا گیا ہے ۔بظاہر اس آیت میں تحقیق کا لفظ اگر چہ آیا نہیں ہے، تاہم یہ اظھر من الشّمس ہے کہ حصولِ علم میں تحقیق کو جزوِ لاینفک کی حیثیت حاصل ہے۔اور قرآن نے اپنے قارئیں کو ہر معاملے میں تحقیق کی ترغیب دلائی ہے ۔سوارۃ الحجرات میں ارشاد ہوا ہے’’یَااَیّپھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوا اِنْ جَائَ کُم فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوا اَنْ تُصِیْبُوا قَوْمًا بِجَھَالَۃٍ فَتُصْبِحُواعَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ‘‘ یعنی اے لوگو! جو ایمان لائے ہو!اگر کوئی فاسق شخص تم تک کوئی خبر لے کر آئے تو اُس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو،کہیں ایسا نہ کہ نادانی میں پڑکر کسی قوم کو نقصان پہنچابیٹھو اور بعد میں خود کے کئے پر پشیماں ہونا پڑے۔[آیت؍6]۔اس آیت میں جو حکم ہے، وہ عام ہے جو ’’اَلَّذِیْنَ‘‘کے لفظ سے واضح ہوتا ہے اور یہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے اس امر پر قطعی دلیل ہے کہ مسلمان ہر معاملے میں تحقیق کو لازم پکڑے۔یاد رہے کہ حصولِ علم کا معاملہ نہایت سنجیدہ اور نازک ہے، لہٰذا اس ضمن میں انسان کا حساس ہونا لازم ہے۔سلفِ صالحین حصولِ علم میں کس درجہ حساس اور محتاط رہتے تھے ۔اس کی بے شمار مثالیں کتبِ سیر اور تاریخ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ایک مختصرواقع یہاں درج کررہا ہوں تاکہ آپ پر تحقیق کی اہمیت کما حقہ واضح ہوجائے۔امام شافعیؒ(متوفی 820ء)کا واقع ہے۔آپ سے کسی نے دریافت کیا کہ قرآن میں اجماع (Consensus) کی کیا دلیل ہے ؟اس پر امام شافعیؒ نے سورہ فاتحہ سے لیکر سورہ ناس تک پورا قرآن مجید پڑھ ڈالا، لیکن اجماع پر کوئی نص اُ ن کی نظر میں نہ آئی ۔انہوں نے از سرِ نو سورہ فاتحہ سے قرآن کو پڑھا اور سورہ ناس تک پڑھتے ہی گئے ،لیکن اس دفعہ بھی کوئی دلیل نہ مل سکی ،ایسے کرتے کرتے امام موصوف نے تین سو مرتبہ قرآن مجید کو کھنگالا، لیکن کوئی نص نہ مل سکی ۔بالآخر تین سو ایکویں مرتبہ انہوں نے قرآن مجید کا جب بنظرِ غائر پھر مطالعہ کیا تو سورہ نساء کی ایک درمیانی آیت پر ٹھرگئے۔کچھ توقف کیا اور اپنی مجتہدانہ بصارت سے کام لیتے ہوئے دین میں اجماع سے متعلق پوچھے گئے سوال کا اثبات میں جواب دیا ۔سورہ نساء کی آیت جس سے امام شافعیؒ نے اجماع پر دلیل پکڑی ذیل میں کوٹ (Quote)کررہاہوں ۔’’وَمَنْ یَّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَ یَتَّبِعْ غیْرَ سَبِیْلِ المُومِنِیْنَ نُوَلِہِ مَا تَوَلّٰی وَ نُصْلِہِ جَہَنَّمَ وَسَائَ تَ مَصِیْراً‘‘یعنی جو شخص باوجود راہِ ہدایت کے واضح ہوجانے کے بھی رسولؐ مخالفت کرے اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑ کر چلے ہم اُسے اُدھر ہی متوجہ کردیں گے، جدھروہ خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دینگے وہ پہنچنے کی بہت ہی بُری جگہ ہے۔ [آیت؍115؍ترجمہ محمد جوناگڑھیؒ]۔غور کریں کہ تین سو مرتبہ امام شافعیؒ نے ایک لفظ کی تحقیق میں قرآن کو کھنگالا، تب جا کر کوئی فتویٰ صادر کیا۔
(سیر جاگیر سوپور ‘کشمیر۔رابطہ۔8825090545)
[email protected]