جاں نثار اختر نے لکھا ہے کہ؎
ہم سے پوچھو کہ غزل کیا ہے غزل کا فن کیا
چند لفظوں میں کوئی آگ چھپا دی جائے
غزل واقعی چند لفظوں میں آگ چھپانے کا فن ہے اور یہ فن کسی کسی کو آتا ہے۔موجودہ دور میں ہر گلی کوچے میں شعراء نظر آتے ہیں۔ جس کے ہاتھ میں قلم کاغذ آیا اس نے دو مصرعے جوڑ کر خود کو شاعر ثابت کرنے کی کوشش کی یہ جانے بغیر کہ شاعری میں چند اصول و ضوابط کی پابندی کرنا لازمی ہے۔ ان اصولوں کی پاسداری کی جائے تو ہی اعلی اور معیاری شاعری وجود میں آئے گی۔موجودہ دور میں جو شعراء واقعی شاعری کرتے ہیں اور معیار کا خیال رکھ کر عمدہ تخلیقات قارئین کی نذر کرتے ہیں ان میں ایک معروف نام علی شیدا کا ہے۔آپ تین زبانوں انگریزی ،اردو اور کشمیری میں لکھتے ہیں۔کشمیری میں آپ کے اب تک پانچ شعری مجموعے سونزل (1991)ء ، رنبیہ آر (1992)ء ، صل علی( نعتوں کا مجموعہ 1993)ء ، کرہن شین (1994)ء اور شینہ شہر ( 2011) ء ادبی حلقوں میں مقبول ہو چکے ہیں۔اردو میں پہلا شعری مجموعہ " یہ خلش کہاں سے ہوتی "( 2002)ء اور دوسرا شعری مجموعہ درد کی دہلیز تک ( 2018) ء میں شائع ہوئے ہیں۔
علی شیدا کا حال ہی میں تیسرا شعری مجموعہ " لا بہ لا "کے عنوان سے 2020 ء میں چھپ چکا ہے۔اس شعری مجموعے کو نجدون پبلکشینز نپورہ اسلام آباد نے چھاپا ہے ۔مجموعے کا انتساب شاعر نے " اپنی تنہائیوں کے نام" کیا ہے۔"دستک" کے عنوان سے شاعر نے اپنی شاعری کے محرکات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ " میری شاعری میرے داخلی احساسات کے نہ تھمنے والے تصادم سے ابھر کر آتی ہے۔اس داخلی تصادم کے پیچھے کونسا دست غیب ہے وہ طے کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔وقت کے ساتھ ساتھ احساسات ،تجربات اور مشاہدات بھی بدلتے رہتے ہیں اور ان سب کے تغیر و تبدل سے شعر گوئی بھی متاثر ہوتی رہتی ہے جس کا عکس قارئین کو اس مجموعے میں صاف جھلکتا نظر آئے گا"۔کتاب کے بیک میں شاعر کی تصویر کے ساتھ ساتھ دیگر مطبوعہ کتابوں کی تصویریں بھی سلیقے سے سجائی گئی ہیں۔مجموعے کی شروعات منقبت سے ہوئی ہے اور تین نعت پاک سرور کونین کی بارگاہ میں پیش ہوئے ہیں۔چونکہ پورا مجموعہ غزلیات کا ہے اور کل غزلیات کی تعداد اٹھاسی ہے۔" اردو" کے عنوان سے ایک نظم بھی مجموعے میں شامل ہے جس میں اردو زبان فریاد کر رہی ہے کہ مجھے محبت اور عقیدت سے پڑھو کہ میں اردو ہوں ،میرا دامن نعت ،منقبت ، حمد و ثناء سے پر ہے اور فصاحت و بلاغت سے بھی کہ میں اردو ہوں،میں کسی فرقے سے وابستہ نہیں ، نہ میں مسلم ہوں نہ ہندو ،نہ سکھ نہ عیسائی میں کسی مت سے نہیں جڑی ہوں کہ میں اردو ہوں۔تین نعت پاک پڑھنے کے بعد قاری کو یہ مشورہ ملتا ہے کہ؎
شعر کہیے تو حمدیہ کہیے
ساتھ میں خوب نعتیہ کہیے
لا بہ لا میں محبت کی مختلف کیفیات،ہجر وصال ،احساسات، جذبات ، وفا جفا اور نشے محبت میں گزارے شب و روز کو شاعر نے نہایت دلفریب انداز میں بیان کیا ہے۔شاعر کو محبوب کے آنے سے چین آتا ہے اور ان کی جان جاتی ہے جب محبوب چلا جاتا ہے۔دن کے سات رات ، روشنی کے ساتھ اندھیرا اور وصل کے ساتھ ہجر لگا رہتا ہے۔جب ہجر ان کی نیند اڑاتا ہے تو امید وصل ہی ہے جو تازہ خواب دکھاتی ہے۔یاد کی تتلی جب آتی ہے تو کاجل کا رنگ پھیلا کے جاتی ہے اور جب باولی چوڑیاں کھنکاتی ہے تو شاعر کی سانس رک جاتی ہے۔محبت میں کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے کہ دل سے دل کا تعلق منقطع ہوجاتا ہے اور رقیب کی بستی میں اس بات کا خوب چرچا ہوتا ہے۔اشعار میں نمی آجائے تو غزل کا خالی جام قلزم ہوجاتا ہے۔محبوب سے دوری عاشق کو برداشت نہیں ہوتی تعلق منقطع ہوجانے کے باوجود ایک دن بھیڑ میں ملاقات ہو جاتی ہے اور نئی داستان رقم ہونے لگتی ہے۔صحت مند عاشق کی جب طبیعت خراب ہوجاتی ہے اور گاؤں کا عاشق جب شدید بیمار ہوجاتا ہے تو حسن کی بستی سے طبیب آجاتا ہے۔ علاج جب مشکل ہوجائے اور کوئی صورت نظر نہ آئے تو چشم یار کی نظر گرد پائمال کو کیا سے کیا بنا دینے کا ہنر رکھتی ہے چونکہ پہلے ہی اقرار ہوا ہوتا کہ میں مریض ہوں اور میرا علاج وصل کے دو گھونٹ ہیں۔عاشق چونکہ شاعر بھی ہے اور اسے یہ دعوی ہے کہ تجھ سا قافیہ اگر ہاتھ آئے تو میں شعر اچھا نکال لوں۔ انسان جس کا عاشق ہوجائے اس کو بھلانے میں عمر لگتی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر وہ ضرور یاد آتا ہے تو عاشق ہجر کے جن زخموں کو شوق سے پالتا ہے آخر کار ان سے ہی اچھا ہوجاتا ہے۔محبت کے زخم کتنے ہی تازہ اور گہرے کیوں نہ ہوں وقت ان زخموں کو کسی حد تک بھر دیتا ہے۔محبت میں حسین یادوں کے ساتھ ساتھ نوک جھونک والے لمحات بھی مزے کے ہوتے ہیں۔بڑی عمر کے عاشق سے جب محبت کے رموز پوچھ لئے جائے تو کبھی کبھار وہ جھلا کر کہتا ہے کہ عشق کے زاویے مجھے نہ سمجھا کیا تم مجھ سے عمر میں بڑی ہو اور آخر پر شاعر یہ آرزو کرتا ہے کہ جب کوچہ یار سے نکلوں تو غالب کی طرح شرمسار ہوکر نہیں بلکہ بڑی شان سے نکلوں۔چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔؎
چین آتا ہے دل کو آنے سے
جان جاتی ہے تیرے جانے سے
کب کی اڑائی نیند ہے آنکھوں سے ہجر نے
امید وصل پھر بھی دکھاتی ہے تازہ خواب
ارض وطن سے محبت ،لگاؤ اور وابستگی فطری ہے۔اس کی پاک مٹی خون آلود ہوجائے تو استبداد قوتوں کے خلاف ردعمل وجود میں آتا ہے۔مجموعے میں ایسے اشعار موجود ہیں جن میں ابتر صورتحال ،خوف اور ڈر کو موضوع بنایا گیا ہے۔شاعر کو بستی عجیب لگتی ہے کیونکہ یہاں کوئی کھڑکی کھلتی ہے اور نہ کوئی باہر جھانکتا ہے۔ ہر لب پر ڈر مسلط ہے اور جتنے بھی لوگ زندہ ہیں وہ سارے ڈر گئے ہیں اور جیتے جی مرگئے ہیں ۔اشعار ملاحظہ فرمائیں۔؎
کوئی کھڑکی نہیں کھلتی نہ کوئی جھانکتا ہے
مکاں سا اب تو اس بستی کا ہر گھر ہوگیا ہے
تبسم کی ذرا جنبش میسر بھی کہاں اب
مسلط جیسے ہر لب پر کوئی ڈر ہوگیا ہے
ذکی الحس شاعر کے سامنے جب دنیا کا دہرا پن آشکار ہوجائے ، انسان بے نقاب ہوجائے ،حقیقت سے پردہ اٹھے تو لا زبان پر آتا ہے اور پر فتن دنیا سے انکار کے بعد ایک نئی دنیا کی جستجو ہوتی ہے۔پھر جابجا رقص کناں کو دیکھ کر دوش فلک پر شوق سفر رکھ کر لابہ لا کا ورد ہوتا ہے۔شاعر رقص زماں کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی مخمصے میں ہوتا ہے کہ شام وسحر میں کھڑکیاں کھول رہا ہے کہ نہیں اور پھر بات یہاں تک آن پہنچتی ہے کہ ؎
چشم گماں کا خواب ہوں شاخ زمن سے ٹوٹ کر
اور میری تلاش میں شمس و قمر کہ لا بہ لا
مجموعے میں چند طرحی غزلیں بھی شامل ہیں۔جن میں تازگی ،اختراع اور تخیل کا بہترین مظاہرہ ہوا ہے۔ جگر مراد آبادی کی غزل سب کے ذہن میں ہو گی کہ _؎
آدمی آدمی سے ملتا ہے
دل مگر کم کسی سے ملتا ہے
دل کوئی دل لگی سے ملتا ہے
عشق کی بندگی سے ملتا ہے
فرحت عباس شاہ کی غزل کا مطلع ہے:
تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد
کتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام
لابہ لا میں شامل غزل کا مطلع دیکھیے :
خیمہ زن ہونے چلا خواب نگر شام کے بعد
کتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد
مجموعے میں متنوع موضوعات پر غزلیں ملتی ہیں جن میں علامتیں ،تلمیحات ، ابہام بھی ہے اور سلاست و روانی کے ساتھ ساتھ جذبات کی شدت اور گہرائی بھی۔فہم و ادراک سے ذات کا انکشاف بھی ہے ،زندگی اور کائنات سے جڑے معاملات بھی۔خارجی زندگی کے واقعات ،باطنی جذبات کا اظہار ،حسن کی کرشمہ سازیاں ، محبت کی کرب ناکیاں ، رات کی سیاہی ،نمود سحر ، رقیب کا ذکر ،دوستوں کا رویہ ، رومان کی جھلکیاں اور حقیقی زندگی کی تلخیاں فہم و خرد کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔شاعر قیس کے قصہ سے خاصے متاثر ہیں اور بار بار ان کا ذکر کرتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ۔؎
شیدا وہ عہد قیس تھا تاریخ بن گیا
اس دور کے بھی طور طریقوں سے پوچھیے
شاید جنوں مزاج وہ ہمزاد مر گئے
اس بار شہر قیس میں پھتر نہیں ملا
شاعر نے خود اعتمادی کے ساتھ شاعرانہ تعلی کا استعمال کیا ہے اور ارد گرد کے حالات کو بھی کمال فنکاری سے اشعار میں پرویا ہے۔؎
غالب کی جگر کی میر کی مومن کی بات دور
شیدا کے حسن شعر سا معیار بھی تو ہو
کس نشے میں نیا زمانہ ہے
ہر گلی میں شراب خانہ ہے
زندگی کے تلخ و شیریں تجربات ،انسانی رویوں ، سماجی قدروں، زندگی کی گہرائی اور گیرائی کا ذکر شاعر نے شاعرانہ خوبی کے ساتھ سہل ، آسان اور رواں زبان میں کیا ہے۔امید قوی ہے کہ آنے والے وقت میں اس مجموعے کی صدا ادبی حلقوں میں دور تک سنائی دے گی کہ یہ اس لائق ہے کہ سر آنکھوں پر بٹھایا جائے کیونکہ سبیل عشق سے لکھی دلیل آہ جب غزل میں آتی ہے تو داد پانے میں وقت لگتا ہے۔بقول شاعر؎
سبیل عشق سے لکھو دلیل آہ شیدا جی
غزل کو داد پانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
رابطہ :-8493981240