معراج زرگر
موجودہ دور میں کثیر علوم پر دسترس رکھنے والے ایک معتبر اسکالر اور عالم فرماتے ہیں کہ اگر کبھی آپ کا جھگڑا کسی سیکولر آدمی سے ہوجائے تو وہ آپ کی عزت پر حملہ نہیں کرے گا بلکہ آپ کی نیت کی تشخیص کرے گا اور خدانخواستہ اگر آپ کا جھگڑا کسی مذہبی آدمی (یہاں مراد جاہل اور دور حاضر کا متشدد مولوی ہے) سے ہو گیا تو وہ آپ کی آبرو ریزی کرے گا،آپ کو بے عزت کرے گا،دشنام پر آئے گا اور بہتان بھی باندھ دے گا۔
کچھ سال سے ہمارے کشمیر میں ایسے ہی مولویوں کی ایک خاص فصل تیار کی گئی ہے جو بظاہر دین کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں مگر اپنے ڈسکورس اور اپنی کرتوت سے دینداری اور مذہبی اصول و معارف کا جنازہ نکالے ہوئے ہیں۔ یہ بد نصیب لوگ منہج نبویؐ اور منہج سلف کے اُس قائم کردہ اور ٹھپہ شدہ ’’اخلاقی وجود‘‘سے کوسوں دور ہیں، جس ’’اخلاقی وجود‘‘کے بغیر کسی بھی دینداری کا نہ تو دعوی کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی مذہبی روایت میں اخلاقیات سے پرے کوئی اصولی یا معیاری روایت قائم کی جاسکتی ہے۔ یہ دینداری سے صریح انحراف ہے اور شیطان کی مکمل پیروی ہے۔ کیا چشم زدن میں تصور کیا جاسکتا ہے کہ مقدس و معتبر ممبر رسولؐ سے غیبت کی جائے،تُہمتیں باندھی جائیں،گانوں اور نغموں کے انداز میں قران کریم اور احادیث نبویؐ کو پڑھا جائے،کلام میں رگیں پھٹنے کی حد تک شدت پیدا کی جائے،شورو غل ،نعرہ بازی ،عیب جوئی ،اور واہیات قصہ خوانی اور عجیب عجیب تاویلات کی بیان بازی کی جائے۔
اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشن گوئی کیا خوب ہے۔
ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :میں ایک دن اللہ کے رسول اللہؐ کے ساتھ تھا اور میں نے آپؐ کو فرماتے ہوئے سنا :’’مجھے میری امت کے لئے دجال سے بھی زیادہ خدشہ (ایک اور چیز کا)ہے‘‘۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا ۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! وہ کیا چیز ہے، جس کا آپؐ دجال کے علاوہ اپنی امت پر خوف کر تے ہیں ؟ تو آپؐ فرمایا ’’گمراہ ائمہ‘‘۔ (سند امام احمد 20335، 21334 اور21335)
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’کیا حال ہوگا تمہارا جب تم کو فتنہ (آفت یعنی بدعت)اسطرح گھیر لے گی کہ ایک جوان اسکے ساتھ (یعنی اس کو کرتے کرتے)بوڑھا ہوجائیگا، اور بچوں کی تربیت اسی پر ہوگی، اور لوگ اسے بطور سنت لیں گے- توجب کبھی بھی اس (بدعت)کا کچھ حصہ لوگ چھوڑ دینگے، تو کہا جائے گا، کیا تم نے سنت کو چھوڑ دیا؟ انہوں (صحابہؓ)نے پوچھا: ایسا کب ہوگا؟۔آپﷺ نے فرمایا: ’’جب تمہارے علما فوت ہو گئے ہونگے ، قرأت کرنے والے کثرت میں ہونگے ، فقہا چند ایک ہونگے، تمہارے سردار کثرت میں ہونگے، ایسے لوگ کم ہونگے جن پر اعتبار کیا جا سکے، آخرت کے کام صرف لوگ دُنیوی زندگی کے حصول کے لئے کرینگے اور حصول علم کی وجہ دین کی بجائے کچھ اور ہوگا‘‘۔ (دارمی۴۶/۱) حاکم ۴۱۵/4)
ابن تیمیہ سے روایت ہے :عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : بے شک اسلام کی بنیادیں ایک کے بعد ایک تباہ و برباد ہو جائیںگی۔ اگر اس میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیںجو نا واقف ہوں گے کہ جہالت کیا ہے ۔کیا آپ جانتے ہے اسلام کن چیزوں سے تباہ ہوگا؟ میں (زیاد)نے کہا نہیں- عمرؓنے کہا: ’’اسلام تباہ ہوگا ،علما کے غلطیوں سے ، اللہ کی کتاب کے بارے میں منافقین کے بحث و دلائل سے، اور گمراہ ائمہ کے رائے سے ۔‘‘
حضرت بدرالدین عینی بخاریؒ(وفات : 855ھ) حدیث ِ پاک کے حصہ اِتخذ الناس روسا جہالا ۔ ۔ الخ، کی شرح میں فرماتے ہیں کہ لوگ جاہلوں کو اپنا راہنما بنالیں گے جو اللہ کے دین میں اپنی رائے سے فیصلے کریں گے اور اپنی جہالت کے مطابق فتوے دیں گے۔ یہ ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ قاضی عِیاضؒ نے فرمایا : رسولِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس فرمان کامصداق ہم نے اپنے زمانے میں پایا ہے۔ شیخ قطب الدین ؒ فرماتے ہیں : قاضی عِیاض اپنے زمانے میں علما کی کثرت کے باوجود ایسا فرما رہے ہیں تو ہمارے زمانے کا کیا حال ہوگا؟ علامہ عینیؒ فرماتے ہیں کہ جب شیخ قطب الدین کہ جن کے وقت میں فقہا اور علما کی ایک بڑی تعداد مذاہبِ اربعہ کی جاننے والی اور محدثین کی کثیر تعداد تھی، ان کا یہ کہنا ہے تو ہمارے وقت کا کیا حال ہوگا؟
اب ذرا اِن روایات کی روشنی میں دیکھئے کہ ہم مجموعی طور کس گمراہ کن اورذلالت سے گھیرے ہوئے ایک دور کے باسی ہیں۔ الحاد نے اپنے پنجےمضبوط کئے ہیں اور اس حال میں ہماری کئی مساجد شعبدہ بازوں اور اُچھل کود کرنے والے مولویوں کے ایسے گروہ کے حوالے کی گئیں ہیں جو اُمت کے جوانوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرا رہے ہیں۔ مسلک و مذہب اور فرقے اگر قرآن و سنت کی پیروی کرنے کا درس دیتے تو بھی کوئی حرج نہ تھی۔ مگر یہاں تو معاملہ مسلک و مذہب سے بھی آگے نکل چکا ہے۔ اب یوں گمان ہو رہا ہے کہ یہ مسجدیں اور خانقاہیں مسلمانوں کی نہیں ہیں بلکہ کسی اور متشدد اور گمراہ قوم کے ہیں۔
ہمارے یہ جاہل اور متشدد خود ساختہ علامہ اور مولانا اپنا دینی تعارف بھی کھو چکے ہیں۔ یہ اپنے دین اور دینداری کے لئے ضروری اخلاقیات سے لا تعلق اور متغیر ہیں کہ کوئی بھی سنجیدہ دین کی سمجھ رکھنے والا انسان ان کی واہیات کو سن کر اندر ہی اندر مرنے لگتا ہے اور اپنے دین پہ اس داخلی حملے کو محسوس کرکے رونے لگتا ہے۔
عالمی سطح پر اگر دیکھا جائے تو یہ بات عیاں ہے کہ جنھیں ہم غیر اور کافر اور ملحد سمجھتے ہیں ان کی اخلاقیات ،ان کے مسائل حل کرنے کی طاقت ،جدید علوم ،تجربات ،اب بالکل تسلیم شدہ ہیں اور ہمارے خود ساختہ متشدد اور ہائی وولٹیج علامہ اور مولانا بچگانہ اور واہیات قسم کی لغویات اور قصے کہانیوں سے تماش بینوں کا دل بہلا رہے ہیں۔ ہمارا سطحی علمی ڈسکورس اور جذباتی اُلٹیاں اقوامِ غیر کی سمجھ میں آگئی ہیں۔ اور وقت ایسا آیا ہے کہ اب ہم اپنے سچے خدا اور سچے نبی ؐ کا سچا تعارف کرنے کے لائق بھی نہیں رہے۔ ہمارے متشدد اور گستاخ مولیوں نے بندے اور خدا کا تصور بالکل اپنے سامعین اور مریدین کے دل سے نکالا ہوا ہے اور انہیں بندر کا تماشا دیکھنے والے چھچھوروں سے بد تر بنایا ہے۔ جو اُن کی ہر تھاپ اور تال پر واہ واہ ،زندہ باد،مردہ باد،ہائے ہائے،مرحبا،بے شک بے شک کے نعرے لگا رہے ہیں۔ اب تزکیہ اور خوف خدا اور عشق رسولؐ کی محفلیں نہیں ہوتی بلکہ دنگل ہوتا ہے اور مجرا ہوتا ہے اور وہ بھی مساجد اور خانقاہوں میں۔ مساجد اور خانقاہوں میں اخلاقی وجود اور اخلاقی شعور کے درس نہیں ملتے بلکہ فرقوں اور مسلکوں کی آتش بازیاں ہو رہی ہیں۔ ہمارا پریشان حال جوان اپنے نا پختہ شعور میں غلاظت بھر رہا ہے اور پھر یہی غلاظت محلوں،گھروں،بازاروں،اسکولوں اور کالجوں میں مسلکی جھگڑوں اور فرقہ واریت کی دنگل مشتی کا سامان فراہم کر رہی ہے۔
سب سےزیادہ خطرناک صورتحال یہ ہے کہ اللہ اور اس کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دین سےغیر متعلق یا Irrellevant کیا جارہا ہے اور رنگین کاغذ میں لپٹا ہوا ایک متوازی دین یا ملحدانہ ڈسکورس نوجوان نسل کے شعور واذہان میں انجیکٹ کیا جارہا ہے۔ جس کے اثر سے نوجوان نسل گستاخ ،پر تشدد،ناقص العقل اور دین بے زار بنتی جا رہی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا کہ اگر آسمان بھی Irrellevant ہوگا تو پھر زرے سے مغلوب ہوتا ہے۔ ہم بھی اب مغلوب ترین انسانوں کی ایک کھیپ ہیں جن کیلئے اللہ اور اس کا سچا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی معنی ہی نہیں رکھتے۔
جہل کا یہ حال ہے کہ قرآنی آیت یا نبی کریمؐ کی حدیث مبارکہ کے مقابل کوئی کہانی ،کوئی قول ،کوئی شعر یا کوئی قصہ بیان کیا جاتا ہے اور واہ واہ اور مرحبا مرحبا لوٹی جا رہی ہے۔ مرد و زن کا اختلاط ،رقص و سرور،آگ کے گرد ناچ ،ڈھول کی تھاپ پہ جنونیوں کی طرح ناچنا،آتش پرستوں کی حرکات کرنا اور اسی طرح کی واہیات کو ایک متوازی دین کے طور پیش کیا جارہا ہے۔ مسلک و فرقہ سے بھی آگے ایک کھیل کھیلا جارہا ہے۔ اور اس سارے تماشے میں مساجد اور خانقاہوں کے منتظمین شریک ہیں۔ جو سنجیدہ مجالس اور علمائے حق سے بے زار ہیں اور متشدد اور گمراہ طبقے کی ہر طرح کی معاونت میں ملوث ہیں۔
قربِ قیامت کی نشانیاں پوری ہو رہی ہیں۔ عالمی سطح پر بہت خطرناک اور بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ اب ہمارا کوئی بھی سطحی اور جہل زدہ علم ہمارے کام نہیں آئے گا۔ اللہ علمائے حق کو مزید روشنی اور وسعت قلب عطا فرمائے تاکہ جہل اور دِل پھاڑنے والی علمی تاریکی سے کما حقہ نجات میسر آئے۔