اسلام دنیا کا ایک ایسا واحد مذہب ہے ، جو اپنے ماننے والوں کے لئے ہر لحاظ سے تمام کاموں میں آسانیاں اور سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ اسلام ایک ایسا ضابطہ حیات ہے، جس میں انسانی زندگی میں پیش آنے والے ہر مسئلہ کا حل موجود ہے۔خواہ وہ دینی مسائل ہوں یا دنیوی،اسلام کسی وقت اپنے پیرو کاروں کو تن تنہا نہیں چھوڑتا بلکہ ہر وقت ان کی اعانت و مدد کے لیے آگے آتا ہے،یہاں تک کے اسلام میں بڑے چھوٹے،امیر وغریب ,دولت مند اور محتاج ،ہر ایک کے حقوق کو تفصیلی طور پر بیان کردیا گیا ہے تاکہ اسلام میں اگر مالی طور پر کوئی نہایت ہی کمزور شخص ہو تو وہ بھی مالداروں کے ذریعے اپنی زندگی ایک حد تک خوشگوار بناسکے، اسلام میں اس مبارک سسٹم کو صدقہ کہا جاتا ہے ۔ ویسے تو یہ علم فقہ کا حصہ ہے لیکن مختصر طور پر اسے بیان کر کے اپنے اصل موضوع پر آتا ہوں ۔
عام طور پرعلمائے کرام صدقہ کی تعریف کرتے ہیں کہ ہر وہ چیز جسے فقراء اور محتاج کو اللہ کا قرب، اس کی رضا اور ثواب کی نیت سے دیا جائے وہ صدقہ ہےاور صدقہ کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ صدقہ واجبہ جسے زکوۃ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ، فقہاء کرام کے مطابق مال کی ایک متعینہ حد ہوتی ہے ،جس کے لیے حولان حول شرط ہے۔ لہٰذا جب یہ چیزیں پالی جائیں تو کل جمع مال کا ڈھائی فیصد اسلام کے مطابق غربا اور فقرا کا حق ہے۔
قرآن پاک میں اللہ تبارک و تعالی نے زکوۃ کے مصارف یعنی زکات کس کو دیا جائے، انہیں تفصیلی طور پر بیان فرما دیا ہے :(ترجمہ)’’ زکوٰۃ صرف فقیروں اور بالکل محتاجوں اور زکوٰۃ کی وصولی پر مقرر کئے ہوئے لوگوں اور ان کیلئے ہے جن کے دلوں میں اسلام کی الفت ڈالی جائے اور غلام آزاد کرانے میں اور قرضداروں کیلئے اور اللہ کے راستے میں (جانے والوں کیلئے) اور مسافر کے لئے ہے۔ یہ اللہ کامقرر کیا ہوا حکم ہے اور اللہ علم والا، حکمت والا ہے‘‘ (سورة التوبہ ) ترجمہ کنز الایمان۔
صدقہ واجبہ کی فرضیت پر قرآن پاک میں بے شمار آیات طیبات اور احادیث ملتی ہیں۔یہ صدقہ واجبہ ہے ، جسے مسلمان ہر سال خوشی خوشی اپنی جائز کمائی سے ادا کرتے ہیں، جو کہ غربا اور مساکین کے لیے زندگی گزارنے میں بہت ہی معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے، ساتھ ہی ہندو پاک کے اکثر مدارس اسلامیہ کا انحصار بھی مسلمانوں کے سالانہ زکوٰۃ پر ہی ہے۔
صدقہ نافلہ۔صدقہ واجبہ کی ادائیگی کے بعد مصدق اگر فقرا اور مساکین پر کچھ خرچ کرنا چاہے ،اور اس کا مقصد صرف رضائے الٰہی ہو تو اسے صدقہ نافلہ کہتے ہیںاور صدقہ نافلہ کے حوالے سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :’’صدقہ اللہ رب العزت کے غضب کو ختم کرتا ہے اور برے خاتمے سے بچاتا ہے‘‘( صحيح إبن حبان 3309.)
اس کے علاوہ بھی صدقہ نافلہ کے بے شمار دنیوی اور اخروی فوائد ہیں ، جسے احادیث میں صراحت سے بیان کیا گیا ہے ۔
لہٰذا جہاں تک ہو سکے ہمیں صدقات نافلہ کا اہتمام کرنا چاہیے ، کیونکہ ہمارے معاشرے میں اب بھی ایسے لاتعداد افراد ہیں جو غربت و افلاس کے سائے میں گھٹ گھٹ کر اپنی زندگی بسر کر لیتے ہیں لیکن اپنی عزت نفس کی خاطر کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا گوارا نہیں کرتے ۔ تو حسن اخلاق کے ناطے ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ان کی عزت نفس کا خیال کریں اور اپنی جائز کمائی سے ان غربا اور مساکین کے لیے مدد فراہم کریں، کیونکہ امرا حضرات کو اللہ کی طرف سے جو مال و دولت اور رزق میں برکت پہنچتی ہے وہ بھی غریبوں ہی کے صدقے طفیل ہے۔
لہٰذا اللہ کے نبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :(ترجمہ) ’’کہ تم مجھے کمزوروں یعنی غریبوں اور مسکینوں میں تلاش کرو کیونکہ تم لوگ جو رزق دیے جاتے ہو اور جو تمہیں مدد اور نصرت پہنچتی ہے، وہ تمہارے کمزوروں ہی کی مرہون منت ہے‘‘۔( جامع ترمذی، 1702)
لہذا ہمارے معاشرے کے امرا حضرات کو چاہئے کہ وہ اپنی ضروریات کے علاوہ کی رقم سے کسی غریب کی زندگی کو خوش حال بنائیں اور دونوں جہاں کی نعمتوں سے مالامال ہوں ۔
لہٰذا دور حاضر میں صدقات نافلہ کی اہمیت ظاہر و باہر ہے اور یہ وقت کی اہم ترین ضرورتوں میں سے ایک ہے۔
مندرجہ ذیل میں صدقات نافلہ کے چند بہترین مصارف مذکور ہیں۔
غریب بچیوں کی شادی کرانا:۔عصر حاضر میں غریب بچیوں کی شادی کا مسئلہ ایک مشکل ترین المیہ بنتا جا رہا ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ معاشرے میں لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کا بے جا مطالبہ اور زیادہ باراتی لانے کی ضد ہے، ایسے میں ایک غریب آدمی، جس کے گھر کا چولہا اس کے روزانہ دن کی محنت سے چلتا ہے تو ظاہر ہے کہ بیٹی کی شادی میں جہیز اور باراتیوں کے کھانے اور دیگر چیزوں کا انتظام و انصرام کرنا، اس کی استطاعت سے باہر ہے، اور وہ اس کام کے لیے کسی سے قرض بھی نہیں لے سکتا، کیونکہ قرض دینے والا بھی جانتا ہے یہ میرا مال کہاں سے لوٹائے گا ، بہرحال جس کے نتیجے میں بہت سارے والدین جلد بازی میں خودکشی بھی کر لیتے ہیں جیسا کہ آے دن سوشل میڈیا کی خبروں سے معلوم ہوتا ہے۔
لہٰذا اب مالداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں ایسے مجبور و بے سہارا والدین کے ساتھ ہمدردی اور مواسات کا معاملہ کرتے ہوئے ان کی بیٹیوں کی شادی کا ذمہ اپنے سر لے لیں، یا چند لوگ اس بات پر متفق ہوکر مجموعی مدد سے ایسی بچیوں کی شادیاں کرائیں تو یہ ایک بہتر معاشرے کی تشکیل میں ایک اہم قدم ہوگا ، اور یہ وقت کی انتہائی اور اہم ترین ضرورتوں میں سے ہے،بلکہ حالات کے مطابق صدقات نافلہ کا اس سے اچھا مصرف ہو ہی نہیں سکتا ، کہ آپ کی وجہ سے کسی غریب بچی کے ہاتھ پیلے ہوں گے، معاشرے میں ایک نیا گھر بسے گا ، آپ کی وجہ سے ایک غریب کے سر سے اس کی بیٹی کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا ، اور اس کے بدلے کے طور پر ہمیں یقینی طور سے اللہ رب العزت کی جانب سے دنیا اور آخرت میں سر خروئی حاصل ہوگی۔
غریب بچوں کی تعلیم و تربیت:۔دور حاضر میں بچوں کی تعلیم دن بدن مہنگی ہو تی جا رہی ہے، صاحب استطاعت حضرات تو اپنے بچوں کو باسانی اعلی تعلیم سے آراستگی کا انتظام کر لیتے ہیں ، لیکن غریب والدین کے لئے بچوں کو اچھی تعلیم سے ہم آہنگ کرنا انتہائی مشکل اور دشوار ترین امر ثابت ہو رہا ہے، جس کا نتیجہ یہ کہ معاشرے میں child labour یعنی بچہ مزدوری کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ایک غریب باپ کے لئے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا ہی مشکل تھا، وہ بچوں کی تعلیم کے لیے اخراجات کہاں سے لائے گا؟ لہٰذا بچے اپنا بچپن محلے اور گاؤں کی گلیوں میں گھوم پھر کر گزار دیتے ہیں، پھر جب کچھ سوچنے سمجھنے کے لائق ہوتے ہیں ، تو ان کے والدین مجبوری میں انہیں کسی چائے وغیرہ کی دکانوں پر گلاس دھونے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں، جس سے ان بچوں کا مستقبل تباہ و برباد ہو جاتا ہے، اور یہ ایک حساس معاملہ ہے کیونکہ بچے معاشرے کا مستقبل ہوا کرتے ہیں اور بچوں کا تعلیم سے دور رہنا ، یہ ہمارے معاشرے کو انحطاط و پستی کی طرف لے کر جا سکتا ہے ۔ لہٰذا ہمارے امرا حضرات اگر چاہیں تو اپنی امداد سے غریب بچوں کی زندگیاں روشن و تابناک بنا سکتے ہیں، بس انھیں چاہیے کہ وہ اپنے صدقات نافلہ سے غریب بچوں کی تعلیم و تربیت میں مدد کریں، جس سے ان بچوں کا مستقبل روشن وتابناک ہو سکے اور وہ ہمارے اور پورے معاشرے کے لیے ایک اعلی مثال بن سکیں ۔
پسماندہ گاؤں اور علاقوں میں پکے مکانات تعمیر کرانا:۔اس وقت ہمارے معاشرے میں ایسے بیشتر غریب افراد ہیں جو غربت کے باعث پکے مکانات سے محروم ہیں اور افسوس کہ ٹین یا چھپرسے بنے کچے مکانات میں دشوار ترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جو کہ تغیر موسم کا مقابلہ کرنے کی بالکل صلاحیت نہیں رکھتے، بلکہ بارش کے موسم میں اس کے ساکنین بارش کی بوندوں سے پریشان رہتے ہیں اور جاڑے اور گرمی میں بھی اس میں رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ تو اس کے لیے بھی ہمارے معاشرے کے صاحب استطاعت حضرات آگے آئیں اور اپنے صدقات نافلہ سے غریبوں کے لئے مکانات تعمیر کریں، ان شاءاللہ یہ کام ہماری مغفرت کا ذریعہ ہوگا۔
جاڑے میں مستحق لوگوں کے لیے گرم کپڑے اور کمبل وغیرہ کا انتظام:۔
ہمارے معاشرے اور آس پاس میں عام طور سے ایسے بے شمار لوگ مل جاتے ہیں کہ غربت کی وجہ سے ان کے پاس ٹھنڈ سے بچنے کے وسائل نہیں ہوتے، ان کے بچے دھند کہرے میں بھی بقلت ایک یا دو کپڑوں پر ہی گزارا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ، ایسی ٹھنڈی جس میں ضرورت سے زیادہ کپڑے پہننے کے باوجود ہم ٹھنڈ کے اثرات سے بچ نہیں پاتے تو ذرا اندازہ لگائیں، غریبوں کے بچے کس قدر تکلیف میں گزارا کرتے ہوں گے ، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے آس پاس رہنے والے غریبوں کے لیے حسب استطاعت کمبل اور گرم کپڑوں کا انتظام و انصرام کریں۔
ہم میں کا ہر شخص بخوبی جانتا ہے کہ اس طرح کے فلاحی اور تعمیری کام موجودہ حکومت کے ذمے ہوتے ہیں ، کیونکہ حکومت اپنا کام صحیح ڈھنگ سے ادا نہیں کر رہی ہے۔
لہٰذا اس صورت میں ہمیں معاشرے کی تعمیر و ترقی اور ہر ایک زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے صدقات نافلہ کا استعمال کرنا ہوگا ، اس کی اہمیت و ضرورت کو سمجھ کر اہل ثروت عوام کو اس کی طرف راغب کرنا ہوگا، اور ہمارا اسلام بھی ہم سے خدمت خلق کا مطالبہ کرتا ہے تو ہمیں خدمت خلق میں خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے ۔
اللہ کی بارگاہ میں دعا کی مولیٰ ہمیں اپنی جائز کمائی سے غربا اور فقرا کے حقوق کی ادائیگی کی توفیق مرحمت فرمائے اور ہمیں صدقات واجبہ کے ساتھ صدقات نافلہ کے اہتمام کی بھی توفیق عطا فرمائے۔
رابطہ۔8840061391
(ریسرچ اسکالر۔ البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ علی گڑھ)