عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//پیر پنچال خطے کے اضلاع راجوری اور پونچھ میں طویل خشک موسم کے بعد ہونے والی موسلا دھار بارش نے عوام بالخصوص کسان طبقے کے چہروں پر خوشی بکھیر دی ہے۔ گزشتہ کئی عرصہ سے بارش نہ ہونے کے باعث کسان شدید پریشانی میں مبتلا تھے اور فصلوں کی بوائی متاثر ہو رہی تھی، تاہم حالیہ بارش کے بعد زرعی سرگرمیوں میں ایک بار پھر تیزی آ گئی ہے۔راجوری، نوشہرہ، سندربنی، تھنہ منڈی، درہال، کوٹرنکہ، مینڈھر، سرنکوٹ اور پونچھ کے مختلف علاقوں میں اچھی بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد موسم خوشگوار ہو گیا اور خشک زمینوں میں نمی پیدا ہونے سے کسانوں نے مکئی اور دیگر موسمی فصلوں کی بوائی کا عمل دوبارہ شروع کر دیا۔مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی دنوں سے بارش کے انتظار میں تھے کیونکہ شدید گرمی اور خشک سالی کی وجہ سے زمین سخت ہو چکی تھی اور بوائی ممکن نہیں ہو پا رہی تھی۔
کسانوں کے مطابق مکئی کی فصل اس خطے کی اہم زرعی پیداوار میں شمار ہوتی ہے اور بروقت بارش نہ ہونے سے انہیں فصلوں کے متاثر ہونے کا خدشہ لاحق تھا۔راجوری کے کئی دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے بتایا کہ بارش کے بعد کھیتوں میں ہل چلانے اور بیج بونے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آنے والے دنوں میں بھی اسی طرح بارش ہوتی رہی تو اس سال اچھی پیداوار کی امید کی جا سکتی ہے۔ کسانوں نے قدرتی بارش کو اپنے لیے ایک بڑی نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بارش نے خشک سالی کے باعث پیدا ہونے والی پریشانیوں کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔دوسری جانب بارش کے باعث درجہ حرارت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے جس سے عوام نے راحت محسوس کی۔ کئی علاقوں میں بچوں اور نوجوانوں کو بارش سے لطف اندوز ہوتے دیکھا گیا جبکہ پہاڑی علاقوں میں موسم مزید خوشگوار بن گیا ہے۔زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بارش مکئی سمیت دیگر خریف فصلوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگی کیونکہ اس سے زمین میں مطلوبہ نمی پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کسانوں کو مشورہ دیا کہ وہ موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بروقت بوائی مکمل کریں تاکہ بہتر پیداوار حاصل کی جا سکے۔عوام نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں مزید بارشیں ہوں گی جس سے نہ صرف زرعی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ پانی کی قلت اور خشک سالی جیسے مسائل میں بھی کمی آئے گی۔ حالیہ بارش کو پورے پیر پنچال خطے کے لیے ایک خوش آئند تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔