حضرت آدمؑ ،حضرت شیث و ادریس علیھم السلام کے بعد اللہ تعالی نے نوع انسانی کی ہدایت کے لیے حضرت نوح ؑ کو رسالت ونبوت کا اعزاز دے کر اس وقت بھیجا، جب بتوں اور شیاطین کی عبادت کی جانے لگی اور لوگ گمراہی اور ذلالت کے گڑھے میں دھنس گئے ،تو اس طرح یہ پہلے رسول ہوئے جو اہل زمین کی طرف بھیجے گئے ۔قرآن مجید میں بڑی تفصیل کے ساتھ قصہ نوح ؑ متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے جیسےاعراف ،یونس،ھود ،انبیاء ،موئمنون ،شعراء، عنکبوت، صافات،قمر اور نوح ۔جب اللہ تعالی نے حضرت نوحؑ کو رسالت سے نوازا تو آپؑ نے اپنی قوم کو خالص اللہ کی عبادت کے لئے بلایا اور توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک و صہیم نہ ٹھہراؤ ۔حضرت نوحؑ نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال سمجھایا لیکن سوائے ایک قلیل تعداد کے اکثریت نے آپؑ کو اور آپؑ کے پیغام کو جھٹلایا ۔اس طویل ترین مدت میں جو کئی صدیوں پر مشتمل ہے، گنے چنے افراد کے سوا اسلام کوئی نہیں لایا ۔کافر قوم اس قدر ہٹ دھرمی پر مصر تھی کہ جب وہ انتقال کرتے تو اپنی اولاد کو نوح ؑ کی مخالفت کرنے کی وصیت کر جاتے ۔اسطرح سے اُن کی طبعیتیں اسلام کا انکار کرتی رہیں ۔کافروں نے نوح ؑ کو یہاں تک کہہ دیا کہ اے نوح! ؑ آپ نے ہم سے جھگڑا مول لیا ہے اور ہم سے جھگڑا بہت زیادہ کھڑا کردیا ہے، پس جس عذاب سے تم ہم کو ڈراتے ہو تو لے آؤ عذاب اگر آپ سچے ہیں ۔اس طویل عرصے کی دعوت کے بعد بھی جب ظالم قوم باز نہ آئی تو حضرت نوح ؑ نے عالم مایوسی میں بارگاہ خداوندی میں ان کے خلاف فریاد رسی چاہی اور اللہ کےغضب کو ان پر دعوت دی ،تو اللہ نے بھی آپ کی دعا کو قبول کیا اور پوری قوم کو سیلاب میں غرق کیا ۔حضرت نوح ؑ نے اللہ تعالہ کی نگرانی میں پہلے ہی سے کشتی تیار کی تھی ،جس میں اللہ کے حکم سے ہر چیز کا جوڑا یعنی ہر حیوان سے ایک جوڑا ساتھ لیا ۔ طوفان نوح میں پوری قوم غرق ہوئی بشمول حضرت نوحؑ کی اہلیہ اور فرزند کے۔ کیونکہ انہوں نے بھی حضرت نوح ؑ کی دعوت کا انکار کیا تھا۔اس طوفان کا آغاز تنور سے پانی کے پھوٹنے سے ہوااور ساتھ میں آسمان سے ایسی بارش برسی کہ زمین نے اس سے پہلے کبھی بھی ایسے اسمان کو برستے نہیں دیکھا تھا ۔ قرآن مجید میں آیا ہے:’’تو اس نے اپنے رب سے فریاد کی کہ میں مغلوب ہوں ، اب تو ( ان سے ) انتقام لے۔پس ہم نے آسمان کے دروازے موسلا دھار بارش سے کھول دیےاور زمین کو چشمے ہی چشمے کردیا ۔ پس پانی جا ٹکا اُس نشان پر جو ٹھہرا لیا گیا تھا ۔اور ہم نے اس کو ایک تختوں اور میخوں والی پر اٹھالیا،جو چلتی رہی ہماری حفاظت میں ۔ یہ ہم نے بدلہ لینے کیلئے کیا، اس کا جس کی ناقدری کی گئی ۔آخرکار بزبان قرآن اور حکم ہوا کہ اے زمین! اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان! تھم جا!! اور پانی اتار دیا گیا اور معاملے کا فیصلہ ہوگیا اور کشتی کوہِ جودی پر جالگی اور اعلان کردیا گیا کہ ظالموں پر خدا کی پھٹکار ہے‘‘۔
حضرت نوح ؑ کی قوم عراق میں بستی تھی اور عصر حاضر میں آثارقدیمہ کی کھدائی کے ذریعے سے حاصل ہونے والے ایسے ٹھوس شواہد اس قوم کی غرقابی کا ثبوت پیش کر رہے ہیں ۔طوفان نوح کا ذکر غالباً دنیا کے تمام مذاہب میں کسی نہ کسی صورت میں پایا جاتا ہے، جس کی وجہ محققین یہ بیان کرتے ہیں کہ طوفان نوح کے بعد آنے والی نسلوں نے اس عظیم واقعہ کو یاد رکھا اور آگے منتقل کیا اور پھر جہاں جہاں لوگ اس علاقے سے نکل کر نقل مکانی کرتے چلے گئے تو اس قصہ کی جزئیات کو بھی اپنے ساتھ لے چلے ۔بائبل میں اس طوفان کے عالمگیر ہونے کا ذکر ملتا ہے ،جس کی تصدیق نہ تاریخ کرتی ہے اور نہ ہی جدید سائنس ۔قرآن مجید کے بیان کے مطابق طوفان نوح سے صرف قوم نوح دوچار ہوئی تھی، جس کی طرف حضرت نوح مبعوث کئے گئے تھے۔بائبل کے عالمگیر طوفان کا بیان نہ تاریخی روایات ،نہ سائنسی تحقیق اور نہ ہی مستند مذہبی روایات سے ثابت ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہوتا ہے :’’ جو نیک عمل کرے گا تو اپنے ہی لئے کرے گا اور جو برائی کرے گا تو اس کا وبال اسی پر آئے گا اور تیرا رب بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے ۔ ‘‘ اس آیت کی رو سے عذاب سے دوچار وہی قوم ہوتی ہے جو اس کی مستحق ہوئی ہو، نہ کہ وہ قوم جس پر ابھی اتمامِ حجت نہ ہوئی ہو۔اس لئے طوفان نوح سے متاثر صرف قوم نوح ہوئی جس کا علماء کے نزدیک مسکن و مولد سرزمین دجلہ اور فرات کے مابین والا علاقہ ہے، جسے وادی دجلہ وفرات (Mesopotamia)بھی کہتے ہیں اور اس خطہ ارض سے ایک زبردست طوفان کا ثبوت تاریخی روایات سے،آثار قدیمہ سے اور طبقات الارض سے ملتا ہے ۔وادی دجلہ و فرات میں آنے والے اس طوفان کی تحقیق کے لئے وادی دجلہ وفرات میں کھدائی بھی کی گئی اور کھدائی کے نتیجے میں چار شہر جو تین ہزار قبل مسیح میں طوفان سے متاثر ہوئے تھے، دریافت ہوئے ہیں اور ان چار شہروں کے نام اُر(Ur)،اِیرک(Erech) ،کش(Kish) اور شروپک (Shurrupak)ہیں ۔ارکی گہری کھدائی کرنے کے بعد لیونارڈ وولی (Leonard Woolley)نےسب سے نچلی تہہ کو ریت کا پایا جو صرف کسی بڑے پانی کے ریلے ہی سے جمع ہو سکتی تھی ۔ لیونارڈ وولی کی تحقیق کے مطابق یہ ریت کی تہہ کسی سیلاب ہی کا نتیجہ تھی جس نے سمیری تہذیب کا خاتمہ کیا ہے ۔وادی دجلہ و فرات کا دوسرا بڑا شہر کش بھی جدید ارضیاتی تحقیق کے مطابق سیلاب ہی سے ختم ہوا ہے اور اس شہر کے علاوہ شروپک اور ایرک کے علاقے میں کی گئی کھدائی کے دوران سیلاب کی مٹی کی تہہ دریافت ہوئی ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ 3000 یا 2900 ق م میں آئے ہوئے سیلاب سے یہ شہر بھی متاثر ہوئے ہیں ۔وولی کے خیالات کو میکس میلون (Max Mallowan)نے بھی بیان کیا ہے کہ سیلاب سے آنے والی مٹی کی یکدم بننے والی یہ تہہ کسی بڑے اور خوفناک طوفان سے ہی وجود میں آسکتی ہے۔قرآن مجید کا طوفان نوح کے متعلق بیان تاریخی اور سائنسی اعتبار سے درست ہے۔
قرآن مجید تلقین کرتا ہے کہ جاو! اُس زمین میں گھومو پھرو اور دیکھو کیسا انجام جٹھلانے والوں کا رہا ہے ۔ایک زمانہ تھا جب انسان کے پاس سیرو فی الارض کی سہولیات دستیاب نہیں تھیں لیکن آج کا انسان جدید سائنس کی مدد سے جہاں دنیا کے کونے کونے سے ہو کرآسکتا ہے ،وہیں زمیں کے اندر جا کر گہرائی میں عبرت بنائی گئی اقوام کے احوال جان سکتا ہے ۔جدید سائنس کے مختلف شعبہ جات انسان کو سیرو فی الارض کے وافر مواقع فراہم کر رہے ہیں ،جس کی مدد سے انسان آفاق و انفس میں پھیلی اللہ تعالی کی نشانیوں کا مشاہدہ کرنے کے قابل ہوا ہے ۔قرآن مجید میں سابقہ اقوام کی تباہی کو عبرت کی نشانیاں بنا کر بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان ان تباہ شدہ اقوام کی باقیات کو دیکھ کر اپنی روش بدل دے ،عاقبت بنانے کی فکر کرے اور اپنی زندگی کو آخری پیغامِ ہدایت کے مطابق خیر کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرے ۔