منجاکوٹ //مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ ضیاء الاسلام منجا کوٹ راجوری میں تعلیمی سال کا آغاز ہوگیا۔امسال جامعہ میں حفظ کے تین درجات جبکہ نورانی قاعدہ کے دو اور ناظرہ کا ایک درجہ بنایا گیا ہے ۔یہاں جاری بیان کے مطابق جامعہ میں امدادی وغیر امدادی طلبا کی تعداد ایک سو کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ناظم جامعہ مولانا حافظ محمد الیاس نے اساتذہ کی ابتدائی میٹنگ میں اس بات کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم وتربیت اور اوقات تعلیم کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گااور طالب علم کی کمزوری کو اساتذہ کی کمزوری شمار کیا جائے گااس لئے ابتداء ہی سے طلبا پر تمام دینی وعصری مضامین میں دلچسپی کے ساتھ محنت کروانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حفظ کے ہر طالب علم کو پختہ تجوید کے ساتھ تکمیل قرآن کے موقعہ پر ایک بیٹھک میں قرآن سنانا لازم ہوگا تبھی جامعہ سے حفاظ کو سند دی جائے گی ورنہ سند نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جمعرات کے علاوہ ختمات پر سخت پابندی لگائی گئی ہے۔مولانا نے کہا کہ کسی بھی طالب علم کو بقرعید تک کسی بھی جمعرات کو چھٹی نہیں دی جائے گی اور جامعہ میں کوئی طالب علم موبائل،نشہ یا کسی بھی غیر اسلامی اور غیر قانونی کام میں ملوث پایا گیا تومناسب سزا کے بعد ادارہ سے خارج بھی کیا جا سکتا ہے اس لئے تمام طلبہ و اساتذہ جامعہ کے قانون کی پاسداری کرتے ہوئے محنت اور لگن و خلوص سے اپنا تعلیم و تعلم کا سفر جاری رکھیں۔ اس موقعہ پر جامعہ کے صدر المدرسین مولانا حافظ محمد اشرف ،مولانا حافظ تنویر ،مولنا حافظ زمرد ،حافظ ظریف و حوالدار سکندر حیات خان، حوالدار محمد ظفر خان وغیرہ بھی موجو دتھے۔