اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ضلع ڈوڈہ میں تین روز تک مکمل معطلی کے بعد پیر کی صبح موبائل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہے، تاہم صرف 2جی رفتار دستیاب ہونے کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔شہریوں، طلبہ، تاجروں، صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں 2جی انٹرنیٹ عملی طور پر ناکافی ہے اور اس کے ذریعے نہ ضروری آن لائن خدمات سے مؤثر استفادہ ممکن ہے اور نہ ہی روزمرہ کے اہم امور بروقت انجام دیے جا سکتے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حالیہ شدید بارشوں، سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے دوران جہاں سڑکیں بند رہیں اور معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے، وہیں موبائل انٹرنیٹ سروس کی مکمل معطلی نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔ان کا کہنا ہے کہ ہنگامی صورتحال میں لوگوں کو اپنے عزیز و اقارب سے رابطہ رکھنے، سرکاری اطلاعات حاصل کرنے، طبی امداد سے متعلق معلومات لینے اور دیگر ضروری کاموں کے لیے انٹرنیٹ کی اشد ضرورت تھی، لیکن سروس بند ہونے کے باعث انہیں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔طلبہ نے بتایا کہ سست رفتار انٹرنیٹ کی وجہ سے آن لائن تعلیمی سرگرمیاں، داخلوں، امتحانات اور مختلف تعلیمی پورٹلز تک رسائی متاثر ہو رہی ہے۔اسی طرح تاجروں کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل لین دین، آن لائن بینکاری، کاروباری رابطے اور دیگر تجارتی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہیں۔صحافیوں نے بھی شکایت کی کہ 2جی رفتار پر تصاویر، ویڈیوز اور خبری مواد بروقت ارسال کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے، جس کے باعث عوام تک بروقت اور مستند معلومات پہنچانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔عوام نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ ہنگامی صورتحال اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلع ڈوڈہ میں فل سپیڈ موبائل انٹرنیٹ سروس فوری طور پر بحال کی جائے تاکہ شہریوں کو ضروری آن لائن سہولیات، سرکاری خدمات، بینکاری، تعلیم، صحت اور مواصلاتی نظام سے بلا تعطل استفادہ کرنے کا موقع مل سکے اور امدادی و بحالی کے کام بھی مؤثر انداز میں انجام دیے جا سکیں۔