بانہال// تعلیمی زون بانہال سے قریب سات کلومیٹر دور پنچایت ڈولیگام اپر بی کے پھامبڑ نالہ کی گوجر بستی کی پرائمری سکول عمارت کو محکمہ تعلیم کے سروا شکھشا ابھیان کے تحت سال 2010 میں منظور کیا گیا ہے اور اس عمارت پر تعمیر کا کام 2013سے شروع کیا گیا ہے لیکن دیواریں مکمل کرنے کے بعد سکول عمارت کا کام مسلسل بند ہے اور زمین عطیہ کرنے والے ٹھیکیدار کی ناقص کارکردگی اور محکمہ تعلیم کی بے بسی کی وجہ سے یہ سکول عمارت ابھی تک مکمل نہیں ہوئی ہے اور چھت ڈالا نہیں گیا ہے ۔ المیہ یہ کہ پرائمری سکول گوجر بستی پھامبڑ نالہ، ہنجہال کو ایک نزدیکی رہائشی مکان کے کرایہ کے ایک کمرے سے چلایا جارہا ہے جو بچوں اور اساتذہ کیلئے ناکافی ہے ۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 2013سے زیر تعمیر نیو پرائمری سکول پھامبڑ نالہ ہنجہال تعلیمی زون بانہال کے پچاس کے قریب زیر تعلیم بچے جن میں 22 طالبات بھی شامل ہیں، کرایہ کے ایک کمرے سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیکیدار اور محکمہ تعلیم نے اس گوجر بستی کے بچوں کو نظر انداز کر رکھا ہے اور بیک ٹو ولیج کے پروگراموں میں اس سکول کا معاملہ مقامی لوگوں اور پنچائتی نمائندوں نے بڑھ چڑھ کر اٹھایا تھا لیکن اب تک کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارشوں کی وجہ سے سکول عمارت کی دیواریں غیر مستحکم ہوگئی ہیں اور کھڑکی اور دروازے بوسیدہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوجر طبقے کے بچوں کے ساتھ تمام محکموں کاروا رکھا گیا سلوک غیر منصفانہ ہے اور اس سکول کو مکمل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر سکول کی چھت کو مکمل نہیں کیا گیا تو غالب امکان ہے کہ آئندہ بارشوں اور برفباری سے لاکھوں روپئے کی لاگت سے تعمیر عمارت کی دیواریں اور کھڑکی دروازے زمین بوس ہو جائینگے اور اس کیلئے محکمہ تعلیم کا ساماگرا اور ٹھیکیدار ذمہ دار ہوں گے۔ پھامبڑ نالہ ہنجہال کے مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ سات آٹھ سال پہلے سرو شکھشا ابھیان ، جو پچھلے سال سے اب SAMAGRAکے نام سے منسوب کیا گیاہے، کے تحت بیشتر عمارتوں میں محکمہ تعلیم اور سروشکھشا ابھیان کے عملے ، انجینئروں اور ٹھیکیداروں نے مبینہ طور پر بے ضابطگیوں کا ارتکاب کیا ہے اور اس کی آزادنہ تحقیقات کی جانی چاہئے تاکہ پچھلے دس سال سے ضلع رام بن میں تعمیر کی گئی سرکاری سکول عمارتوں کا جائزہ لیا جائے اور خرچ رقومات اور زمین پر کھڑا گئے گئے ڈھانچوں کی جانچ کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو حل کرنے کیلئے محکمہ تعلیم کے مقامی افسروں اور ایک نامزد کمیٹی نے بڑی کوشش کی لیکن 2013 میں شروع کی گئی سکول کی عمارت پر چھت ڈالنے کا کام اکتوبر 2021میں بھی تشنہ تکمیل ہے۔ اس سلسلے چیف ایجوکیشن آفیسر رام بن ونود کول سے رابطہ کی کوشش کامیاب ثابت نہیں ہوئی ۔