ایجنسیز
موغادیشو/امریکی حکام کی جانب سے داخلے کی اجازت نہ ملنے کے باعث فیفا ورلڈ کپ 2026 سے باہر ہونے والے صومالیہ کے نامور فٹ بال ریفری عمر عبدالقادر آرتان بدھ کے روز وطن واپس پہنچ گئے، جہاں موغادیشو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ان کا والہانہ اور ہیرو جیسا استقبال کیا گیا۔ مایوس کن صورتحال کے باوجود صومالی ریفری نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ 2030 کے اگلے ورلڈ کپ میں صومالیہ کا نام روشن کریں گے۔ ہوائی اڈے پر میڈیا اور سیکڑوں مداحوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر آرتان نے کہا”میں اگلے ورلڈ کپ میں ضرور حصہ لوں گا اور صومالیہ کا سر فخر سے بلند کرتا رہوں گا۔
میرے ساتھ جو کچھ بھی ہوا، اس سے میرے حوصلے پست نہیں ہوئے ہیں۔ میں خدا کے حکم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں اگلا ٹورنامنٹ اٹینڈ کروں گا، صومالی عوام پُرسکون اور پُرعزم رہیں۔”صومالیہ کے لیے اعزاز: عمر آرتان فیفا کی فائنل لسٹ میں شامل ہونے کے بعد ورلڈ کپ میں بطور ریفری صومالیہ کی تاریخ کے پہلے ریفری بننے جا رہے تھے۔ وہ افریقہ کے بہترین ریفریز میں شمار ہوتے ہیں اور انہیں 2025 کا بہترین افریقی مرد ریفری بھی قرار دیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتے کینیا میں صومالی سفارت خانے سے ویزا جاری ہونے کے باوجود، عمر آرتان کو ہفتے کے روز میامی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر روک دیا گیا۔ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن نے تفصیلات بتائے بغیر صرف “سیکیورٹی جانچ کے خدشات” کا حوالہ دے کر انہیں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔