سید امجد شاہ
جموں// شیوسینا کے ممبر پارلیمنٹ سنجے راوت جمعرات کوجموںپہنچے اور پہلی فرصت میں پی ایم پیکیج ملازمین کے احتجاج میں شامل ہوئے اور کینال روڈ میں ریلیف اور بحالی کمشنر کے دفتر کے احاطے میں دھرنا دیا۔راوت نے جموں آتے ہی شیوسینا کی حمایت بڑھانے کے لیے احتجاج کرنے والے پی ایم پیکیج ملازمین سے ملاقات کی۔ وہ کل راہل گاندھی کی قیادت والی بھارت جوڑو یاترا میں شامل ہوں گے۔ بھارت جوڑو یاترا جمعرات کی شام پنجاب سے لکھن پور میں داخل ہوئی ہے۔انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا’’ہمیں کشمیری پنڈتوں کی جانوں کی حفاظت کرنی ہے۔ انہیں کشمیر نہیں بھیجا جاناچاہئے جہاں انہیں اپنی جان کو خطرہ لاحق ہے ‘‘۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو ان کشمیری پنڈتوں (پی ایم پیکیج ملازمین) کو ریلیف اینڈ ری ہیب لیٹیشن آفس(مہاجر) جموں کے ساتھ منسلک کرنا چاہئے اور ان کی زیر التواء تنخواہیں جاری کرنی چاہئے۔انکاکہناتھا’’ہم کشمیری پنڈتوں کی تنہائی / قربانی کو نہیں بھول سکتے۔ حکومت انہیں فراموش نہ کرے۔ مرکزی حکومت کو انسانی بنیادوں پر ان کی بات سننی چاہیے اور ان کے مطالبات کو تسلیم کرنا چاہیے‘‘۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیری پنڈتوں کے نام پر سیاست نہیں کی جانی چاہئے۔انہوں نے حکومت سے کشمیری پنڈتوںکے مسائل کے ازالے کا مطالبہ کرتے ہوئے دوبارہ مزید کہا’’کیا آپ دوبارہ ان کے نام پر الیکشن لڑنا چاہتے ہیں؟ یہ غلط ہے” ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ بھارت جوڑو یاترا میں شامل ہونے آئے ہیں تاہم، جب مجھے احتجاج کے بارے میں معلوم ہوا، میں نے فیصلہ کیا کہ سب سے پہلے جموں میں احتجاج کرنے والے کشمیری پنڈتوں سے ملاقات کروں گا اور اگلے دن (20 جنوری کو) یاترا میں شامل ہو جاؤں گا۔انہوں نے یاد کیا کہ” کشمیری پنڈتوں کے نمائندے اکثر ہم سے مہاراشٹر میں ملتے ہیں۔ بالاصاحب ٹھاکرے شیو سینا کے بانی پہلے رہنما تھے جنہوں نے کشمیی پنڈتوںکے لیے مہاراشٹر کے دروازے کھولے۔ ہم نے ان کی کالونیاں قائم کی ہیں اور ان کے بچوں کے لیے سکولوں میں نشستیں مخصوص کر دی ہیں۔ کشمیری پنڈت مہاراشٹر کے مختلف علاقوں میں ہم آہنگی کے ماحول میں اپنا کام کر رہے ہیں۔انہوں نے بی جے پی سے کہا کہ وہ بعد میں PoJK پر دوبارہ دعویٰ کرے لیکن پہلے کشمیری پنڈتوں کے مسئلے پر توجہ دی جائے۔