بلال احمد پرے
یکم ستمبر کولیفٹنٹ گورنر مسٹر سنہاکی سرپرستی میں سرکاری انتظامیہ نے منشیات سے پاک جموں و کشمیر کے لیے ایک نئی مہم کا آغاز کردیا ہے ۔ انتظامیہ نے منشیات اور منشیات فروشوں کے خلاف سخت اقدام (زیرو ٹالرنس) کی پالیسی اپنانے پر زور دیا ہے ۔ گورنر انتظامیہ کا ماننا ہے کہ منشیات کی لعنت کے خلاف اس جنگ میں شامل ہونا معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری بنتی ہے ،تاکہ منشیات سے پاک شہر، پاک قصبہ اور پاک گاؤں کی یہ مہم کامیاب ثابت ہوسکے۔لفظ ڈرگس ،ہر اس اشیاء پر اطلاق کرتی ہے، جس میں کسی بھی طرح کا نشہ پایا جائے ،خواہ یہ ٹھوس صورت میں ہو یا مائع کی حالت میں۔ موجودہ دور میں نشہ آور چیزوں کی مختلف اقسام ہیں،اور مختلف کیمیکلز کو نشہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جن میں جوتوں کی پالش، اینک فلوڈ (ink fluid ) ، کلر پینٹ اسپرے وغیرہ بھی قابل ذکر ہیں ۔ الغرض منشیات سے مراد تمام وہ چیزیں ہے، جن سے عقل میں فتورآجاتا ہے اور فہم و شعور کی صلاحیت بُری طرح متاثر ہو جاتی ہے ۔بے شک اس وقت منشیات کی وباء سنگین مسائل میں سرفہرست ہے ۔ اس کے سدباب کے لئے قومی و بین الاقوامی سطح پر مختلف طرح کی تدابیر کو اپنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ انسداد منشیات کے لئےجلسوں،سمیناروں، اخباروں و دیگر پرنٹ و الیکٹرانک ذرائع کےذریعے عوام الناس تک آگاہی پہنچائی جا رہی ہے ۔ لیکن اس کے باوجودمنشیات کا کاروبار دن بہ دن بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے ۔ اس حرام اور مضرِ صحت کاروبار کی وجہ سے جو اخلاقی، معاشی، جسمانی، معاشرتی اور سماجی خرابیاںاور بُرائیاں پیدا ہوئی ہیں ،ان سے ہمارے معاشرے کا ہر بالغ فرد بخوبی واقف ہے ۔جموں و کشمیر انتظامیہ کی اس نئی مہم کا اصل مقصد یہی ہے کہ معاشرے کے نوجوانوں کو اس بُربادی میں پڑ جانے سے بچانے کےلئے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں ۔ ظاہر ہے کہ منشیات کی دلدل سماجی و اقتصادی ڈھانچے کے لیے زہر ِ قاتل ہے،لہٰذا لازم ہے کہ اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پورے معاشرے کو اکٹھا ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ جبکہ وقت کا بھی تقاضاہے کہ جموں و کشمیر کو صحت مند اور منشیات سے پاک بنانے کے لیے عام الناس کو ایک مضبوط اکائی کے طور پر کام کرنا چاہیے ۔
اس سنگین مسئلے کے تناظر میں ایک تحقیق بتاتی ہے کہ اٹھارہ سے پینتیس سال کی عمر کے نوجوانوں کو منشیات کے استعمال میںبُری طرح ملوث پایا گیا ہے۔ حال ہی میں منشیات کی بڑھتی وباء کے حیران کن اعداد و شمار بھی منظر عام پر آئے ہیں ۔ جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 6 برسوں میں صرف افیم کے استعمال میں 85 فیصداضافہ ہو چکا ہے ۔ 95 فیصدمریضوں نے اسے پہلی بار نشہ کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ اسی طرح قومی ادارہ برائے ذہنی صحت و نیرو سائینس
National Institute of Mental Health & Neuroscience
کی ایک رپورٹ کے مطابق منشیات کے عادی لوگوں میں سے 80 فیصدکی تعداد مال دار گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں ۔ جبکہ پڑھے لکھے نوجوانوں کی تعداد بہ نسبت اَن پڑھ زیادہ پائی گئی ہے ۔ اس رپورٹ کے مطابق منشیات استعمال کرنے والوں میں 60 فیصدنوجوانوں کی تعلیمی قابلیت بارہویں جماعت،20 فیصدگریجویٹ اور 10 فیصدماسٹرس ڈگری والوں کی ہے۔ڈبلیو آئی او نیوز ڈاٹ کام (wionews) نے 17 نومبر 2021ء کو اپنی شائع شدہ ایک خبر میں بتایاہے کہ جموں کشمیر میں 6 لاکھ وگ منشیات کے عادی پائے گئے ہیں ۔ اسی طرح امسال جولائی کے مہینے میں سی این این نیوز۔18 (CNN-News18) کے ذریعے خصوصی طور پر رسائی حاصل کی گئی سرکاری سروے کی ایک رپورٹ کا حوالہ دے کر بتایاگیا ہے کہ کشمیر میں ہیروئن استعمال کرنے والوں کی اوسط عمر 22 سال کی ہے ، اور ایک نشہ آور شخص اوسطاً ہیروئن خریدنے کے لئے تقریباً 88,000 روپے ماہانہ خرچ کرتا ہے ۔اس طرح کے حیران کن انکشافات، اعداد و شمار اور منشیات کے بڑھتے رُجحانات سرکار اور عوام دونوں کے لئےانتہائی فکر مند وغور طلب ہیں ۔ اس تشویش ناک صورت حال کئی وجوہات ہو سکتے ہیں، جس میں اس کی بڑے پیمانے پر کاشت اول الذکر ہے۔ اسی طرح بڑھتے ہوئے اس غلیظ کاروبار، بہ آسانی منشیات کی دستیابی، نارکوٹک دہشت گردی، تشدد ، بے روزگاری و دیگر گونا گوں مسائل سے پیدا شدہ صورتحال، قومی شاہراہ پر ڈھابوں کی بھرمار، راتوں رات امیر بننے کا خواب جیسے دیگر اسباب بھی ہوسکتے ہیں۔ منشیات کی کثرت اور اس سے پڑنے والے بُرے اثرات اور برآمد نتائج کے باعث پوری نوجوان نسل کا مستقبل یقیناً بُرباد ہوتا جا رہا ہے اور یہ صورتحال کی دن بہ دن خطرناک رُخ اختیار کرتی چلی جارہی ہے ۔جبکہ اس کے خلاف عوام الناس کی بے حسی ، اَن دیکھی اور خاموشی کے ساتھ ساتھ ناکارہ و کمزور انسدادی کوششیںانتہائی افسوس ناک ہیں۔خیر!اپنی نوعیت کی اس نئی مہم کے دوران لیفٹنٹ گورنر نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں منشیات کے خلاف عوامی تحریک تیز ہو گئی ہے اور اس وقت جموں و کشمیر انتظامیہ، پولیس، فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر پڑوسی ملک کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پختہ عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کو خوف سے پاک، بدعنوانی سے پاک، منشیات سے پاک اور روزگار پر مبنی بنانے کے لیے عوامی شرکت لازمی ہے ۔
گویاآج کل معاشرے کو ترقی پذیر بنانے کے لیے منشیات سے بچاؤ کے اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ اس بڑھتی ہوئی غلاظت کی وجہ سے منشیات کے خلاف جنگ (War on Drugs) ہر طرف جاری ہے ۔ لیکن بد قسمتی سے ایسے لوگوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ہے جو خشخاش و بھنگ کی کاشت صرف اور صرف تجارت کی غرض سے کرتے ہیں ۔ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانےکا ہی سبب ہے کہ ہم رفتہ رفتہ دین ِ اسلام سے دور ہوتے ہوئے بُرائیوں کے دلدل میں ڈوبتے چلے جارہے ہیں ۔ جذبہ ایثار، ایمان داری اور دردِ دل کے واسطے جو منشیات کے خلاف ایک موثر مہم چھیڑی جائے تو نشہ سے مکتی ہرگز ناممکن نہیں ۔
منشیات کے استعمال کے خلاف مہم میں کمیونٹی لیڈروں، ڈاکٹروں، میڈیا پرسنز، رضاکارانہ تنظیموں کے نمائندوں اور پنچایتی راج اداروں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے ۔ بیداری کے لیے میڈیا کے مقبول ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے اور منشیات کی لعنت کے خلاف کوششوں کو تیز کرنے کے لیے مہم کے اثرات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔حالانکہ یہ خوش آئند بات ہے کہ انسداد منشیات مہم میں جموں و کشمیر شاندار کارکردگی پر ملک بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔لیفٹینٹ گورنر کے مطابق انتظامیہ دو سال سے جموں و کشمیر کےدس بڑے متاثرہ اضلاع میں منشیات سے پاک مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ’’جن آندولن‘‘ چلا رہی ہے ۔ محکمہ سماجی بہبود کو مزید ڈرگ ایڈیکشن مراکز اور رِی ہیبلی ٹیشن مراکز بنانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے ۔
تاہم معاشرے سے منشیات کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے اس سمت میں مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔ لیفٹنٹ گورنر کا کہنا ہے کہ اس سے یقین ہے کہ منشیات سے پاک گاؤں، منشیات سے پاک قصبہ اور منشیات سے پاک شہر کی مہم جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے میں مددگار ثابت ہوگی ۔ رضاکار تنظیموں کے ‘مشوروں اور تعاون سے صوبہ جموں میں منشیات کے استعمال کے متاثرین کے علاج اور بحالی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔ انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کھیل کود کی سرگرمیوں کے ذریعے نوجوانوں کی توانائیوں کو مثبت انداز میں بروئے کار لانے کے لیے اسپورٹس کیمپس کا انعقاد بھی کیا جائے، تاکہ انہیں منشیات کی بُری عادت میں مبتلا ہونےسے بچایا جائے ۔
اے دردِ دل انسان! آو۔ اس خباثت کے کاروبار سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں ۔ کیونکہ دین ِ اسلام ابتدا سے ہی اپنے ماننے والوں کو پاکیزگی، عفت و پاکدامنی، شرم و حیا اور راست گوئی و راست بازی جیسی اعلیٰ صفات سے متصف اور مزین دیکھنا چاہتا ہے۔ جب کہ ناپاک، بےحیائی و بے شرمی، بدگوئی اور بے راہ روی جیسی رذیل و ملعون عادات سے بچنے کا حکم اور تلقین کرتا ہے ۔ مسلمانوں کے لئے شراب پینا، فکی، چرس، گانجہ، ہیروئین، افیم یا دیگر ایسی ممنوعہ اشیاء جس کے استعمال کرنے سے عقل میں فتور پیدا ہو سکے، اس کی خرید و فروخت، اس کا استعمال، اس کی کاشت، اس کا کاروبار کرنا، اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ سے لانے لےجانے، یا کسی اور طریقہ سے اس ناپاک و غیر قانونی کاروبار کے ساتھ منسلک ہونے کو حرام قرار دے دیا ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؒ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا ،’’ شراب کی قلیل و کثیر (مقدار) حرام کر دی گئی ہے اور ہر مشروب جس سے نشہ آئے ،حرام ہے ۔‘‘ (نسائي، السنن، كتاب الأشربة، 3: 233، رقم: 5193)
ہندو مذہب میں بھی اس کی ممانعت کا حکم موجود ہے جس میں ’’اس کے استعمال کرنے والے کو گناہ گار تصور کیا جاتا ہے۔‘‘ (ریگ ویدا؛ 10.5.6) اسی طرح سکھ مذہب کے اندر بھی اس کی ممانعت موجود ہے (سکھ خالصا)۔ غرص دنیا کے دیگر بڑے مذاہب میں بھی منشیات کے استعمال کی ممانعت موجود ہے ۔
منشیات کی یہ چنگاری رفتہ رفتہ ہر گھر کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو متاثر کئے بغیر نہیں چھوڑے گی ۔ کیونکہ آج کل منشیات کے اس دلدل میں گرفتار ہونا کوئی بعید نہیں ہے ۔ لہٰذا قبل اس کے کہ یہ آگ ہمیں اپنی لپیٹ میں لےلیں ، ہمیں اس کے خلاف اس نئی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لینا چاہیے ۔اس وقت منشیات کی پھیلی ہوئی وباء کو روکنے کے لیے ہمیں اپنی پوری قوت کے ساتھ آگے آنا چاہئے ۔ اس دلدل میں پھنسے لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر اُنہیں صحیح راہ پر لانا چاہیے اور سماج کے تئیں ایک فکر مند شہری کے طور پر اپنا منفرد کردار ادا کرنا چاہیے ۔ تب جا کر ہم اپنے گاؤں، قصبہ اور شہر کو منشیات سے پاک بنا سکتے ہیں ۔
(رابطہ۔ 9858109109 )
[email protected]