پرویز احمد
سرینگر //شبیر احمد کی اہلیہ حاملہ ہے اور تھوڑی سی پیچیدہ صورتحال پیدا ہونے کے بعد اس نے اپنی اہلیہ کو لل دید ہسپتال میں داخل کرایا۔ہسپتال میں یو ایس جی کیا گیا لیکن ڈیوٹی پر مامور ڈاکٹروں نے اسے صلاح دی کہ پرائیویٹ طور پربھی یو ایس جی کرائی جائے تاکہ کراس چیک کیا جاسکے۔اور یہیں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔شبیر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ میں نے رمضانہ ہسپتال کا رخ کیا لیکن یو ایس جی ممکن نہیں ہوئی، مرڈرن گیا، وہاں بھی انکار ہوا، طاہرہ خانم گیا، وہاں بھی کوئی نہیں، فلورنس گیا وہاں انکار کیا گیا، میڈی کیئر کرن نگر، شیخ العالم ہسپتال الغرض کہیں سے بھی ’’ ہا ں‘‘ میں جواب نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ رات کے سارھے بارہ بجے تک وہ اپنی حاملہ اہلیہ کو گاڑی میں ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال میں گھما رہا تھا لیکن ایک بھی نجی ہسپتال میں یو ایس جی کی سہولیات نہیں ملیں۔کشمیر عظمیٰ نے اس اہل مسئلے کی تہہ تک جانے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ سرینگر سمیت وادی کے تمام اضلاع میں نجی سطح پر کام کرنے والے 4ہزار کلنک اور 60نجی نرسنگ ہوموں اور ہسپتالوں میں کسی ایک میں بھی مریضوں کی سہولیت کیلئے رات کے وقت ایکسرے، یو ایس جی اور سی ٹی سکین کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ معروف ایڈوکیٹ ارشد بابا نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انکے ساتھ بھی یہ صورتحال پیش آئی ہے اور معلومات جمع کرنے کے بعد پتہ چلا کہ شام 6یا 7بجے کے بعد اگر ہنگامی صورتحال میں یو ایس جی، ایکسرے یا سٹی سکین کرنا پڑے تو وادی کے کسی بھی علاقے میں یہ سہولیات دستیاب نہیں رہتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کبھی کبھار رات کے دوران پرائیوٹ طور پر یو ایس جی یا سٹی سکین کرنا مجبوری بن جاتی ہے لیکن کشمیر میں رات کے دوران اس طرح کی سہولیات کسی بھی پرائیویٹ ہسپتال میں دستیاب نہیں رکھی گئی ہین حالانکہ قانون کی رو سے پرائیویٹ ہسپتالوں کو کسی بھی صورتحال میں ہر طرح کی سہولیات 24گھنٹے ہر طرح کی سہولیات فراہم رکھنا لازمی ہے۔راجدھانی شہر سرینگر میں شام 6بجے کے بعد سہولیات موجود نہ ہونا بہت بڑی بات ہے کیونکہ کبھی کسی مریض کو ہنگامی صورتحال کی وجہ سے نزدیکی پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کرانا پڑتا ہے ۔حالانکہ قانون کی رو سے انہیں ایسا کرنا لازم ہے کیونکہ سہولیات 24گھنٹے فراہم نہ کرنے کی بنا پر انکی رجسٹریشن منسوخ بھی ہوسکتی ہے۔
ہسپتال چاہیے پرائیویٹ ہو یا سرکاری، اسکا ہر ایک شعبہ لازمی سروس میں آتا ہے۔لیکن المیہ ہے کہ سرینگر سمیت وادی کے دیگر اضلاع میں شام کے بعد کسی بھی نجی ہسپتال میں ایکسرے، یو ایس جی اور سی ٹی سکین کی سہولیات دستیاب نہیں ہوتی ہیں۔ پرائیویٹ کلنک ایسوسی ایشن کے صدر عمر ڈار نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ نجی تشخیصی مراکز کیونکہ دن میں ہی کھلے ہوتے ہیں ، اسلئے رات کو تشخیصی مراکز میں سہولیات دستیاب رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ عمر نے بتایا کہ 6بجے کے بعد یو ایس جی اور سی ٹی سکین کی سہولیات دستیاب رکھنے کا کام نجی نرسنگ ہوموں اور ہسپتالوں کا ہوتا ہے جن کے ساتھ پہلے ہی یہ طے ہوچکا ہے۔ کشمیر پرائیوٹ ہسپتالوں کی انجمن کے سیکریٹری ڈاکٹر مسعود الحسن نے بتایا ’’ دن میں تشخیص کی تمام سہولیات دستیاب ہوتے ہیںلیکن جہاں تک 24گھنٹے ایکسرے، یو ایس جی اور سی ٹی سکین کی سہولیات دستیاب رکھنے کا سوال ہے تو یہ مالی پیچیدگیوں کی وجہ سے ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی ہسپتالوں میں ایکسرے ، یو ایس جی اور سی ٹی سکین کیلئے ٹیکنیشن موجود نہیں ہوتے کیونکہ اس کیلئے انہیں مالی وسائل چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ24گھنٹے تشخیصی سہولیت رکھنے کیلئے ہمیں 3ریڈیولاجسٹ کی ضرورت پڑے گی اور 2لاکھ 50ہزار روپے کی تنخواہ کے حساب سے ماہانہ7لاکھ 50ہزار روپے کا خرچہ آئے گا جبکہ مریض رات کے وقت کبھی کبھار ہی آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سہولیات دستیاب رکھیں گے تو یہ کافی منگی ہوجائیں گی ۔