اس سال ماہ فروری میں شب زندہ شہر کہلانے والی جگہ ممبئی جانے کا موقع ملا۔ ہماری فلایٹ رات کے آٹھ بجے ممبئی ایرپورٹ پر لینڈ کرگئی۔ اس طرح سے ہم یخ بستہ موسم کو چھوڑ کر چلچلاتی دھوپ کے گرم سائے میں آگئے جہاں کا درجہ حرارت تیس ڈگری تھا ۔میرے فرزند ارجمند کو فلایٹ میں ہی نیند آگئی اور اس طرح سے وہ ممبئی ایر پورٹ کا نظارہ نہ کرسکا۔ڈرائیور ہمارا انتظار بے صبری سے کر رہا تھا۔ جب اس نے ہمیں پایا، اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی اورہمارے ہونٹوں پر ہلکی سی تبسم اس مسکراہٹ سے وہ ہمارا استقبال کررہا تھا اور ہم پھیلی ہوئی تبسم سے اس کا شکریہ ادا کر رہے تھے ۔رات کے نو بجے ہوٹل صبح پیلس پہنچ گئے جہاں تعینات عملے نے بڑی آئوبھگت کی اور انتہا ئی مودبانہ انداز میں ہمارا والہانہ خوش آمدید کیا ۔تھکاٹ دور کرکے ڈنر کے لئے ڈائنگ حال پہنچ گئے جہاں ہمارے لئے بہترین اور تسلی بخش Dinner کا اہتمام کیا گیا تھا۔ یہ بات الگ ہے کہ کشمیری وازوان کا دنیا میں کوئی متبادل نہیں ہوسکتا لیکن ہمارے وازوان کا چکن موجود تھا جس کو ہم نے اپنے کشمیری انداز میں ہڈیوں سمیت چبا دیا۔ Dinner ختم کرنے کے بعد مزید پروگرام طے پایا گیا۔
پروگرام کے مطابق ہمارا سفر گیٹ وے آف انڈیا سے شروع ہوا۔ الیفنٹاکیو کی طرف ہم شپ سے روانہ ہوئے۔ پہلی بار سمندر کو بچشم خود دیکھا۔ بہت لطف حاصل ہوا ،خاص طور ان سمندری یا بحری پرندوں کاشپ کے ارد گرد گھومنے اور سواریوں کے ساتھ ساتھ چلے جانے کا منظر نہایت ہی دلفریب تھا ۔پورا دن الیفنٹاکیومیں گزارا۔ شام کے سات بجے میرین ڈرائیو پر جاکر ہم ان لہروں کو دیکھتے رہے جو دن کوخاموشی سے اپنے سفر پر رووں دواں رہتی ہیں اور سانجھ شام ہی مچل کر ناظرین کا دل موہ لیتی ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ نظارہ کرنے والے ہر فرد سے گویا یہ لہریں مخاطب ہوتی ہیں کہ کیا آپ بھی ہماری طرح دنیا میں بے تاب رہتے ہیں ۔بلا کون سمجھائے ان بیخبر اور آوارہ لہروں کو کہ تم صرف اس بند سمندر میں قید ہوکر ٹھاٹھیں مارتی چلی جاتی ہو لیکن ہم وسیع دنیا میں رہنے کے باوجود بھی اپنے ہی حصار میں قید ہیں ،اپنی ہی جنگ خود سے لڑنی ہی پڑتی ہے ،خود سے ہار جانا پڑتا ہے اور خود سے ہی جیت جانا پڑتا ہے۔ میں نے ادبی زبان میں ان مچلتی لہروں سے یوں کہہ دیا
’’اے سمندر کی لہرو تم کیا جانو زندگی کیا ہوتی ہے۔زندگی شاہ رخ خان کی ایکٹنگ نہیں ہے، نہ یہ سلمان بھائی کی فائٹنگ ہے اور نہ ہی امیتاب بچن کی فلمی کہانی ۔زندگی ڈاکوہے ،ایک ایسے ڈاکو کی جو صرف ڈاکوگی کے عنوان سے بدنام ہے اور ڈاکوگری نہیں جانتا۔اے لہرو اگر زندگی دیکھنی ہے تو آکر ہماری دیکھو ،جہاں ہر سو اندھیرا ہے ،جہاں جگہ جگہ ڈاکو ڈھیرا ڈالے ہوے ہیں لیکن اصلی والے ڈاکو جہاں زندگی کے نام پر موت ملتی ہے اور آزادانہ سوچ پر قید ملتی ہے، جہاں جوان ہونا قانون کے برخلاف ہے اور جہاں نوجوانوں، جوانوں پیرو زن کا قتل ہونا قانونی ہے۔ہماری زندگی وہی ہے جہاں گل کھلتے ہیں ،تازہ قبروں پر جہاں ہوائیں روتی ہیں خونین شاموں پر‘‘۔
فلم سٹی کو اکثر فلموں میں دیکھا تھا جہاں ہر لمحہ اجنبی لوگوں سے دھوکہ ہوتا ہے۔ گووندا کی ایک فلم میں جب گوندا ایک دیہاتی بن کر ممبئی چلا جاتا ہے تو راستے میں اس کا بکسا چور چرا کرلے جاتے ہیں۔ تب ہی کوئی آکر اسے کہتا ہے بھائی یہ ممبئی ہے یہاں ایسے حادثے روز ہوتے ہیں۔ ہمارے ساتھ بھی اسی نوعیت حادثے یوں ہوئے کہ فلم سٹی دیکھنے کے شوق نے فلم سٹی کی طرف روانہ کرادیا لیکن وہاں معلوم ہوا کہ فلم سٹی کرونا کی وجہ سے ابھی بند ہے۔ اس دوران گیٹ کے باہر ہم معصوموں کی طرح ایک ٹھگ کے ہاتھوں ٹھگے گئے جنھوں نے لائیو شوٹنگ دکھانے کے بہانے ہم سے اچھی خاصی اور موٹی رقم حاصل کی اور اس کے عوض دکھائے گئے کچھ ڈراموں اور فلموں کے لائیو سین دکھائے لیکن ہمارے ساتھ ہمارے پیارے ڈرائیور جناب کلم مسیحا بھی اس دھوکے سے شرمسار ہوئے کیوںکہ انکے مطابق ان کے شہر میں ایک شخص نے آئے ہوئے مہمانوں کو ٹھگ لیا ۔واپسی پر ہم نے یہ ماجرا ہوٹل منیجر کو سنایا جنھوں نے اس واقعے کی مذمت کرکے ہم سے معذرت کی اور گویا ہوئے کہ ممبئی شہر میں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں، اسی لیے ہم اپنے کسٹمرس کو اپنی ہی گاڑی فراہم کرتے ہیں۔ کمل مسیحا ہمارا ڈرائیور ارادوں کا پختہ اور مکمل پابند اصولوں کا شخص تھا جو دل کا اچھا اور زبان کا صاف گو تھا ۔میرے بیٹے اور کمل مسیحا کی اچھی دوستی ہوئی۔ ان کے لئے کمل’کمال دادا‘ بن گیا اور کمل کے لئے میرا بیٹا احمد میاں بن گیا۔ دوستی اس قدر گہری ہوئی کہ دونوں کے درمیاں فون پر بات ہوتی رہتی ہے۔۔ہوٹل کے تمام ملازمین اچھے اخلاق والے اور نہایت ادب و احترام کے ساتھ ہر ایک سے پیش آتے تھے۔خاص کر ہوٹل کے منیجر ابراہم سر اور انچارج ڈاینگ ہال جناب طارق احمد۔طارق احمد کے ساتھ ایک خاص قسم کا لگائو ہوا۔ ہماری الگ سے آملیٹ بنانا اس کو عزیز لگتا تھا۔ ہر دن ڈنر ختم کرنے کے بعد ہمارے کمرے میں الگ سے میٹھا پہنچانا طارق بھائی کی محبتوں کا نیک اظہار تھا۔ ایک دن ہمارے لیے مینو کے علاوہ ڈنر میں میں سمندر ی مچھلی کی ضیافت تیار کروائی تھی حالانکہ وہ اس دن ڈنر ضیافت میں شامل نہیں تھی لیکن طارق نے الگ سے اہتمام کرایا تھا۔ایک روز ناشتے کے دوران میرے دوست عادل بھائی کے ہاتھوں سے شیشہ کا گلاس ٹوٹ گیا تو ٹوٹنے کی آواز سن کر سارے ملازم عادل بھائی کی خیر و آفیت اس طرح سے پوچھنے لگے جیسے کہ ان کی وجہ سے قصداًکوئی حادثہ ہوا ہو ۔ یہ واقعہ دیکھ کر میں ان کےcivic senseکو بغور دیکھتا رہا جس نے مجھے اس بات پر سوچنے کے لئے مجبور کیا کس قدر وہ لوگ تہذیب یافتہ ہیں ۔ ایک دلچسپ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ہم نے ایک معمولی مسافت طے کرنے کے لئے آن لائن کیب بک کی جس میں اس معمولی سی مسافت کے لئے ہم سے ڈھائی سوروپے وصول کئے لیکن اسی مسافت کو واپسی پرطے کرنے کے بعد رننگ کیب کو صرف پچیس روپے کا کرایہ دینا پڑا ۔Driverسے یہ پوچھے جانے پر کہ کرایہ اتنا ہی کیوں ہو ا تو جواب میں اس نے میٹر چالو کرنے کا فارمولا بتا یا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ رننگ کیب میں سفر کے دوران driverسے بتانا چاہئے ’’ بھائی میٹر چالو کرو ‘‘ ۔یہ فارمولا استعمال کر کے ہم نے باقی لوکل سفر انتہائی کم رقم میں طے کیا۔اس سفر کے دوران ہم نے مختلف جگہوں کے ساتھ ساتھ ہینگنگ گارڑن ، پریا درشنی اور حاجی علی جیسے مقامات کی بھی سیر کی ۔ کلہم طور پر ہماراسفر انتہائی خوشگوار رہا ۔
پتہ : اسسٹنٹ پروفیسر ڈگری کالج حاجن
������