ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ ہر شاہراہ پر ٹریفک زیادہ ہوتی ہے جو شاہراہ شہر سے گزرتے ہیں ،شہر میں ٹریفک کا زیادہ ہونا عام بات ہےاوران میں حادثات بھی زیادہ ہوتے ہیں ،اوران حادثات کا کوئی پُرسانِ حال بھی نہیں ہوتا۔اگرصرف چاردن کے اندردوحادثات ہوں اوردونوں حادثات میں دو جانیں بھی چلی جائیں تو بھی حکومت یا ٹریفک پولیس وہاں پر کچھ کرنہیں پاتی ہے ۔جب عوام کا زبردست احتجاج ہوتا ہے جس کے بعد ہی کچھ کارروائی ہوتی ہے اور وہ بھی کچھ دنوں کے لئے۔ تا کہ عوام جو احتجاج کررہی ہے، وہ خاموش ہوجائے ، اوروہاں پر پولیس کا پہرہ لگا دیاجاتا ہےاورسگنل بھی اسٹارٹ کردیاجاتاہے ۔پھر کچھ دنوںکے بعد وہ پہرہ بھی ہٹ جاتاہے اوروہ سگنل بھی بند ہوجاتاہے ۔تب کو ئی اس کا پُرسانِ حال نہیں ہوتا۔ اس کے بعدہر کوئی اپنی مصروفیت میں مصروف ہوجاتاہے ،ایسانہیں ہوناچاہئے ۔
جب ایک شخص گھر سے یہ کہہ کر نکلا تھاکہ بس تھوڑی دیر میں واپس آتا ہوں،گھر سے نکلتے ہی کچھ فاصلے پر تیز رفتار ٹریکٹر ٹرالی نے اسکو کچل کر موت کی وادیوں میں دھکیل دیا۔ان میں لائن کی خلاف ورزی، اوور سپیڈنگ، ڈرائیورز کی جانب سے تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹریفک سگنل کا توڑنا،ون وے کی خلاف ورزی،دورانِ ڈرائیونگ سیٹ بیلٹ نہ لگانا، ٹریفک قوانین کے بارے میں ناقص معلومات اور ان پر عمل نہ کرنا، گاڑیوں میں ہونی والی تکنیکی خرابیاں جیسے بریک کا فیل ہونا،ٹائر کا پنکچر ہونا، محدود مدت کے بعد ٹائروں کوتبدیل نہ کروانا شامل ہیں۔اسی طرح ڈرائیورز کی لاپروائی بھی گاڑیوں کے تیکنیکی خرابی سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے اس وجہ سے100 فی صد حادثات میں70 فیصد اموات ڈرائیورز کی تیز ڈرائیونگ کی وجہ سے ہوتی ہیں۔میںخاص کر والدین سے یہ گذارش کرتاہوں کہ اپنے کم عمر بچوں کوگاڑی مت دیں جس کی وجہ سے وہ بھی حادثہ کا شکار ہوسکتے ہیں ۔
مقررہ رفتار کی خلاف ورزی یا خطرناک طریقے سے اوورٹیک کرنے والی گاڑیوں کا روٹ پرمٹ منسوخ کرکے انکے ڈرائیوروں کوجرمانے کے ساتھ ساتھ قید کی سزا کو بھی یقینی بنانا ہوگا، نشہ آور اشیا استعمال کرنے والے ڈرائیوروں کے لائسنس منسوخ کر کے ان کے ڈرائیونگ کرنے پرتاعمر پابندیاں عائد کرنی ہوگی۔اسی طرح ٹریفک قوانین کی پابندی پر سختی کرتے ہوئے اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو ہر قیمت پر سزا دی جائے۔سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کے دوران گاڑیوں کا ایک دوسری کو غلط طور پر کراس کرنا جو عام ہے ، حادثات کی وجہ بنتا ہے، راستہ نہ دینے اور غلط طرف سے دوسری گاڑی کو کراس کرنے والوں کی روک تھام کیلئے لائحہ عمل وقت کی اہم ضرورت ہے۔غفلت، جلدبازی، غیر محتاط رویے اورٹریفک قوانین پرعمل نہ کرنے کی وجہ سے ٹریفک حادثات پیش آتے ہیں۔ ڈرائیونگ کرتے ہوئے ذر ا سی بے احتیاطی آپ کی سمیت کئی افراد کی زندگی چھیننے یا تکلیف کا باعث بن سکتی ہے۔ نوجوانوں کی اکثریت گاڑی/موٹر سائیکل چلاتے وقت کانوں میں ہینڈز فری استعمال کرتے ہیں، اس طرح وہ خود کو فیشن ایبل سمجھتے ہیں۔ تاہم بعض اوقات وہ موسیقی وغیرہ میں اتنے مگن ہوجاتے ہیں کہ اِردگر د دِھیان نہیں دیتے اور یوں کسی حادثے کی صورت میں وہ اپنا یا دوسروں کا نقصان کربیٹھتے ہیں۔ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال کرنا جرم ہے کیونکہ یہ 60فیصد ٹریفک حادثات کا سبب بنتا ہے۔ ان میں37فیصد افراد فون پر مصروف ہونے کے سبب بروقت بریک نہیں لگاپاتے۔ تیز رفتاری سے گاڑی/موٹر سائیکل چلانے اور دوسروں سے آگے نکلنے کی دُھن بھی حادثات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ یہ سوچ کر موٹر سائیکل یا گاڑی ہر گز نہ بھگائیں کہ آپ نے مخصوص وقت میں کسی جگہ پہنچنا ہے، یہ سوچ کئی حادثات کاسبب بنتی ہے۔ ٹریفک کی نوعیت دیکھتے ہوئے ڈرائیونگ کیجیے۔ مشاہدے میں یہ بات آتی ہے کہ تیز گاڑی/موٹر سائیکل چلانے والوں کو منزل پر پہنچ کر عموماً کوئی خاص یا فوری کام نہیں ہوتا۔ ہر شہر میں غلط سمت سے اوورٹیک کرنے کا رجحان بھی عام ہے، حالانکہ اس پر جرمانہ ہوتا ہے۔ روز صبح و شام شاہراہوں پر کئی افراد اچانک غلط سمت سے اوور ٹیک کرتے ہیں، جس کے باعث کئی حادثات بھی رونما ہوتے ہیں۔ ڈرائیونگ کرتے ہوئے گاڑی/موٹر سائیکل اپنی لائن میں رکھیں۔ اگر دائیں یا بائیں مڑنا مقصود ہو تو ہمیشہ انڈیکیٹر کے ذریعے پیچھے آنے والوں کو اپنے اِرادے سے آگاہ کریں۔ خاص طور پر ایسی شاہراہوں پر جہاں بیک وقت ٹریفک کی آمد و رفت تیزی سے جاری رہتی ہے۔ انڈیکیٹر دِیے بنا اچانک مڑنا حادثات کا باعث بنتا ہے۔ دوران ڈرائیونگ صرف شیشوں پر بھروسہ کرنے کے بجائے چاروں طرف نظر رکھیں۔ گاڑی کے اِردگرد ایسی جگہیں ہوتی ہیں، جو شیشے میں نظر نہیں آتیں۔ ذرا سا وقت بچانے کی خاطر’ ’رانگ وے‘‘ آنا بھی کئی حادثات کی وجہ بنتا ہے۔
مجھے اس تحریر کے ذریعہ عوام سے گذارش کرنی ہے کہ اپنی گاڑیوں کودھیان سے چلائیں ،اورخاص کر میں اکثر یہ دیکھتا ہوںکہ زیادہ تر لوگ فون کو کاندھے سے کان کو لگاکر ڈرائیونگ کرتے ہیں۔اور وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ا ن کے پیچھے کوئی بڑی گاڑی ہوسکتی ہے اور وہ حادثہ کا شکار ہوسکتے ہیں۔اور آٹووالوں کی ڈرائیونگ سے تو ہر کوئی واقف ہے۔ مجھے اس کے بارے میں زیادہ بولنانہیں چاہئے مگر بولنابھی ضروری ہے کیونکہ آٹوکے ڈرائیور زکبھی بھی کسی سمت ،کسی بھی جگہ اورکوئی بھی سڑک کے بیچوبیچ چلتے چلتے اچانک رُک سکتے ہیں اور ان کو کوئی بھی کچھ بھی نہیں بول سکتا ۔اگر کوئی شخص بول بھی دے تو اس کو آٹوڈرائیور ہی بولتا ہے کہ آپ دیکھ کر چلائیے۔ہرشہرمیں(میں کسی ایک شہر کی بات نہیں کررہاہوں یہ ہر شہر کی بات ہے ۔) اگرعوام کو زیادہ تکلیف ہے تو وہ آٹوڈرائیور ز کی بے تکا ڈرائیونگ سے اورا ن کے اچانک آٹوکورُوک دینے سے ۔آٹوڈرائیورز کو یہ سمجھناہوگا کہ آپ کے پیچھے بھی کوئی آرہاہوگا۔ میں اپنی بات ختم کرتے ہوئے یہ کہنا چاہونگاکہ گاڑی کو صحیح طریقے سے چلائیںاورٹریفک قوانین کی خلاف ورزی نہ کریں ،اورنہ سنگل کو توڑیں ۔اس میں ہماری ہی بھلائی ہے ۔جس کی وجہ سے ہم بھی صحیح سلامت گھر کو پہنچ سکتے ہیں اور دوسرے بھی اپنے گھروں کو صحیح سلامت پہنچ سکتے ہیں ۔شاہراہوں کے حادثات کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو اپنی گاڑیوں کوبے تکااوور اِسپیڈاورفون پر بات کرتے ہوئے چلاتے ہیں ۔اور وہ لوگ بھی جو ڈرائیونگ کو اچھی طرح سے نہیں جانتے ۔
موبائیل نمبر:9380679429