جناب نبی رحمت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کے ضمن میں فرمان ہے کہ: "سب سے بہترین اور بابرکت نکاح وہ ہے جس میں اخراجات کم ہو" (مشكاة المصابيح کتاب النکاح 3097)، مگر المیہ اور امر واقعہ یہ ہے کہ ہم مسلمان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور دیکھا دیکھی کے عالم میں فرمان رسولؐ کو ٹھکراکر نکاح جیسی بابرکت و سنت عمل کو رسومات، رواجات اور بدعات سے مزّین کر کے کٹھن اور مشکل سے مشکل ترین بناچکے ہیں۔ اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو خوشی و مسرت کے مواقع ہوں یا دکھ و کرب کے۔ دونوں صورتوں میں معاشرے میں لوگوں کی اکثریت موجود ہیں جو دکھ اور سکھ دونوں مواقع پر نِت نئے رسومات، رواجات اور بدعات کو تخلیق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں۔
بہرحال وادی کشمیر میں شادیوں کا موسم جاری و ساری ہے اور دورِ حاضر میں وادی کے مختلف اطراف و اکناف میں جس انداز سے شادیوں کی تقریبات انجام دی جارہی ہیں، وہ سب عیاں و بیان ہیں۔ معاشرے کے صاحب ثروت و مالدار لوگ شادیوں کی انجام دہی میں ابتدا سےپایہ تکمیل تک نت نئےرسومات و بدعات کو فروغ دے کر اس قدر فضول خرچی کررہے ہیںکہ معاشرے میں رہنے والے کمزور، غرباء اور متوسط طبقہ جات کے لوگ اپنے بچوں کی شادیاں انجام دینے سے قاصر رہتے ہیں۔ اگر ان طبقہ جات میں کوئی شخص شادی انجام دینا بھی چاہے تو اس کو مجبوراً دوسرے لوگوں باتوں اور طعنوں سے بچنے کے لئے،مالدار و دولت مند لوگوں کی تشکیل شدہ رسم و رواجات کو مدنظر رکھ کر لاکھوں روپے کے قرضے لینے پر مجبور ہونا پڑتا ہےاور عمر بھر کے لئے مقروض رہنا پڑتا ہے۔ جس کے نتیجے میں اس کی پوری زندگی قرضہ چکانے میں نکل جاتی ہے۔ کیا ہم نے کبھی اس بات پر غور و فکر کیا ہے کہ اس شخص کو مقروض کس نے بنا دیا ہے؟کس نے اس کو قرضہ لینے پر مجبور کیا ہے؟اگر ان سوالات کی طرف توجہ مرکوز کی جائے اور اس پر غور و فکرکیا جائے تو دل و دماغ نہ صرف اس بات کی تصدیق کرتا بلکہ گواہی دیتا ہے کہ انفرادی و اجتماعی سطح پر تقریباً ہم سب اس شخص کو عمر بھر کے لئ مقروض بنانے کے ذمہ دار ہیں۔ وہ اس لئے کہ جب بھی ہمارے معاشرے میں کسی نے نکاح کو سادگی اور اسلامی طریقے سے انجام دینے کی سوچی یا کوشش کی تو کہیں نہ کہیں ہم سب نے اس کو بلواسطہ یا بلا واسطہ الگ الگ باتیںسنائی ہونگی اور طعن بھی دئے ہونگے۔ اس ضمن میں سماج کے وہ مالدار و دولت مند لوگ بھی براہ راست ذمہ دار ہیںجو اپنی شادیوں کو انجام دیتے وقت اپنی جاہ و حشمتکا بھرپور مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔ سماج میں رہنے والے پسماندہ، غریب اور مالی طور پر کمزور لوگوں کاذرا بھر بھی خیال نہیں کرتے کہ اگر رسم و رواجات اور بدعات کے نام پرجو بے ہودہ حرکات وہ کرتے ہیں، سماج میں رہنے والے غریب لوگ شادیوں پر اس کا کیسا اثر پڑتا ہے؟ ہماری عیاشیوں اور خرافات سے براہ راست معاشرے پر کتنے منفی اثرات پڑتے ہیں؟۔قطع نظر اس کے کہ اُن کی دولت جائز ہے یا ناجائز! کیا ایک بار بھی انہوں نے خود سمجھنے اور دوسرے کو سمجھانے کی زحمت گوارہ کی کہ ہم جس طر ح کھلم کھلا شادی بیاہ کی تقریبات کے انعقاد بے جا سرمایہ پانی کی طرح بہاتے ہیںاور جہیز کے لین دین میںبڑی بڑی رقومات، سونا، چاندی، گاڑیاں اور دیگر غیر ضروری اشیاء کا تبادلہ کر رہے ہیں،اُس کا منفی اثر سماج پر پڑتا ہے جس کے نتیجہ میں غریب لڑکیاں اور لڑکےذہنی طور منتشر ہوجاتے ہیںاور پھراُن کے لئے خودکشی کا سبب بن رہا ہے؟ یہ بھی ایک وجہ ہے غریب باپ اور بھائی اپنے عزیزوںکی جان بچانے کے لئےمجبوراً مقروض بنتا ہے۔کئی لوگ اپنے بچوں اور بھائی اپنی بہنوں کو بوجھ سمجھتے ہیں اور اسی وجہ سے رشتوں میں فاصلے اور دراڑیںپیدا ہوگئی ہیں۔ ایک دوسرے سےپیار و محبت و اخوت ختم ہوگئی ہے اور حسد، بغض و نفرت عروج پارہی ہے۔
میرے پیارے ہم وطنو! آو، ہم سب مل کر نکاح کو سادہ اور عام کرے اور شادیوں میں بے ہودہ حرکات، فضول خرچی، رسومات اور بدعات کو نیست و نابود کریں۔ آئیے! ہم سب مل کر نوجوان نسل کو بد اخلاقی ، بے حیائی اور برائیوں سے دور رکھیں۔ اور اُن تمام خاندانوں اور گھرانوں کو دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارک باد اور نیک خواہشات پیش کریں جو اس ظالم سماج میں شادیوں کی تقریبار نہایت سادگی اور سنت ِنبوی کے تحت انجام دے رہے ہیں۔ میں اللہ تعالی سے دعا گوں ہوں کہ ہم سب کو اُس طریقے پر نکاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس طور طریقے سے کائنات کے صادق الامین پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے انجام دینے کی تعلیمات دی ہیں۔ آمین
، گوئیگام کنزر بارہمولہ
رابطہ:- 8803250765