بلال احمد پرے
دین ِ اسلام کا خطاب کسی خاص طبقہ کے لوگوں یا زمانے کے لئے نہیں بلکہ یہ خطاب عالمگیر سطح کا ہے ۔ جس میں تمام جہاں کے انسانوں کا طبقہ شامل ہے ۔ اس طرح یہ دین سارے عالم کے انسانوں کے لئے امن و سلامتی، عدل و انصاف اور محبت و بھائی چارگی کا خطاب کرتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’اے حبیب ؐ! کہہ دیجئے کہ اے لوگوں! ! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بیجھا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ (الاعراف؛ 158)
سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ جمال و جلال آفریں روشنی اور ضیاء بار کرنیں انسانی زندگی کے ہر شعبہ پر یکساں نمایاں نظر آتی ہے ۔ سیاسی زندگی ہو یا معاشی زندگی، انفرادی، اجتماعی، سماجی زندگی ہو یا آپؐ کے گھر اندر کی زندگی کا کوئی ایسا پہلو ہو ۔ سیرتِ طیبہ کے بحرِ بیکراں میں اس کی ہدایت و رہ نمائی موجود ہیں ۔
۱۔ امن و سلامتی ۔اسلام امن، سلامتی، بھائی چارگی (peace, security and brotherhood) کا پیغام دینے والا دین ہے ۔ امن کا مطلب ہر قسم کے جھگڑوں، فتنوں و فسادوں، تشّدد، مار پیٹ، گالی گلوچ و دیگر نازیبا حرکات اور ناشائستہ کلام سے پاک ہونا ہے ۔ جو صرف اسلام ہی سکھاتا ہے ۔ اسلام کا لفظی معنی بھی امن یا سلامتی کے ہیں ۔ اسلام لفظ س، ل، م حروف یعنی سَلَمَ سے ماخوذ ہے ۔ جس کے لغوی معانی محفوظ رہنے، بچنے، مصالحت اور امن و سلامتی جیسے پانے کے ہیں ۔
دین ِ اسلام میں ذات پات، جنس، رنگ، علاقہ جات پر کوئی تمیز نہیں ۔ حضرت نبی اکرمؐ کی حیاتِ طیبہ نے انسانی جان کو اتنا محترم اور قیمتی بنایا کہ ناحق کسی انسان کی جان لینے کو بہت بڑا گناہ فرمایا ہے ۔ یہاں ہر فرد کی عزت و آبرو اور مال کے تحفظ کی ضمانت فراہم فرمائی گئی ہے ۔
۲۔ انصاف اور مساوات۔ عدل و انصاف اور مساوات و برابری (justice and equality) ایک بہترین سماج کی تشکیل کیلئے ضروری ہیں ۔ یہی اس ڈھانچہ کے ستون ہیں جس پر سماج ترقی کر سکتا ہے ۔ حضرت نبی اکرم ؐ کی حیاتِ طیبہ میں عدل و انصاف اور مساوات و برابری کی کئیں روشن مثالیں ملتی ہیں ۔
ایک مرتبہ قریش کی اثر و رسوخ رکھنے والے گھر کی ایک خاتون نے چوری کی، تو انہوں نے بعض صحابہ کبار کے ذریعے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی سفارش کرنا چاہی ۔ تو اس پر آپؐ نے فرمایا:’’ تم سے پہلے کی قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ جب ان میں سے کوئی معمولی لوگ گناہ کرتے تھے تو ان کو سزا دی جاتی تھی اور جب بڑے لوگ کرتے تو ان کا جرم نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔‘‘ (البخاری؛ 4304)
۳۔ یونیورسل ایجوکیشن ۔قرآن کریم دائمی اور زندہ معجزہ ہے ۔ یہ انسانیت کے لئے دستور ہے ۔ اور زندگی گزارنے کا ایک روڑ میپ سے بڑھ کر ہے ۔ قرآن کریم کا نزول ہی لفظ ’’اقراء‘‘یعنی پڑھ سے ہوا ہے ۔ اور اس کی ذکر پانچ وقت نمازوں کے اندر ضروری ٹھرائی گئی ہے ۔ تاکہ ہمارے اندر اخلاقی بے داری پیدا ہو جائے ۔ اور حیاتِ جسدی (جسم و جان) کے ساتھ حیاتِ شعوری (عقل و فہم) اپنے کمال درجہ تک پہنچ سکیں ۔ تعلیم دینا ایک عظیم عبادت ہے ۔ جس سے ترقی ممکن ہے ۔
سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گوشہ میں جب جھانک کر دیکھتے ہیں تو جنگ بدر کے قیدیوں کے ساتھ حُسنِ سلوک نمایاں نظر آتا ہے ۔ اس دوران سبھی قیدیوں کے ساتھ مکارمِ اخلاق کے ساتھ فدیہ دے کر رہائی دی گئی اور جو قیدی انتہائی غریب تھے اور کسی طرح سے فدیہ ادا نہیں کر سکیں، لیکن پڑھنا لکھنا جانتے تھے، تو اُنہیں آپؐ نے دس دس صحابہ کو پڑھانے (Each One Teach Ten) کا کام تفویض فرمایا جس کے عوض ہر ایک کی رہائی ہوئی ۔ اس طرح عالمگیر تعلیم (Universal Education) کے تصّور کی بنیاد پڑ گئی ۔ جو اپنے آپ میں ایک بے مثال اقدام ہے ۔ آج کے دور میں اس طرح کے اقدام سے ہی سو فیصدی پڑھائی کی شرح حاصل کی جا سکتی ہے ۔
۴۔ دیگر اقوام سے تعلقات (Foreign Policy) ۔ دین ِاسلام اپنے ماننے والوں کو کسی بھی قسم کا عداوت، بغض، حسد یا دشمنی رکھنے کا روا دار نہیں ۔ بلکہ ہر ایک کے ساتھ عزت و اکرام سے پیش آنے، اخلاقی طور بہترین تعلقات بنائے رکھنے کا درس دیتا ہے ۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد حضرت نبی اکرم ؐ وہاں کے یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ آپس میں بہترین اور خوشگوار تعلقات بنائے رکھنے کا معاہدہ طے کرتے ہیں ۔ جس میں ایک دوسرے سے رواداری کا برتاؤ کرنے، مشکلات میں ایک دوسرے کی مدد فراہم کرنے، دوستانہ تعلقات استوار بنانے، اپنے حلیف سے دروغ گوئی کرنے سے بچنے، ان کی مذہبی آزادی کو برقرار رکھنے جیسے اہم اور منفرد اصول طے پائے گئے ہیں ۔ اس طرح کے تعلقات سے جو آپسی گفتگو ہوئی، اس سے آج کے دور میں مکالمہ بین المذاہب (Interfaith Dialogue) کے نام سے جانا جاتا ہے ۔
اسلامی نظامِ حکومت میں بھی زیادتی، بھید بھاؤ یا امتیاز کا برتاؤ نہ کرنے کی ہدایات ملتی ہے ۔ بلکہ جان و مال، عزت و آبرو، اموال و جائداد اور انسانی حقوق کی حفاظت یقینی بنانے کا درس ملتا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’ نیکی اور بدی برابر نہیں، بدی کو نیکی سے ہٹا دو، تو وہ شخص جس کے ساتھ تمہاری دشمنی تھی وہ تمہارا جگری دوست بن جائے گا ۔‘‘ (سورۃ حم سجدہ؛ 24)یہی تعلیمات آپسی رسہ کشی، عداوت، بغض، حسد، لڑائی جھگڑے، انتقام گیری، گلہ و شکوہ سے منع کرنے اور مضبوط دوستی، ہمدردی، غم خواری و رواداری کا معاملہ بنائے رکھنے کی کُھلی دعوت دیتی ہے ۔
۵۔ تباہی پہ ترقی کی ترجیح (Development Over War) ۔ خالقِ کائنات نے انسان کو اس بات سے واقف فرمایا کہ ہم نے تمہارے لئے زمین کو جائے قرار بنایا، آسمان کو چھت بنایا (غافر؛ 64) اور ہمارے لیے زندگی کے سامان زمین سے پیدا کئے گئے ہیں ۔ اس طرح رب العالمین نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ (Vicegerant) بنایا ۔ اور اس سے رہنے کا حق عطا کیا ۔اور دوسرے مقام پر یوں مخاطب بنایا گیا کہ تم زمین میں ہی زندگی بسر کرو گے اور زمین میں ہی مرو گے اور زمین میں سے ہی نکالے (الاعراف؛ 25) جاؤ گے ۔
اس طرح کی تعلیمات سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کو چھوڑ کر بِلا مذہب و ملت، امن و سلامتی پر زور دینا چاہیے ۔ اور جنگ و جدال جیسے تباہ کُن ماحول بنانے سے ممانعت کرتے ہوئے آپس میں بہترین معاشرتی، ثقافتی، تعلیمی، سیاسی، سماجی، معاشی، صنعتی و تجارتی تعلقات کو استوار کرنے کے لئے معاہدے طے کرنے چاہیے ۔
سیرت رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کے روشن اوراق میں یہ بات سنہرے حروف میں ملتی ہے کہ نبی اکرمؐ نے امن و سلامتی اور عفو و درگزر کو جنگ و جدال اور عداوت پر ترجیح دی ہے ۔ دُشمن کی عورتوں، بچوں، معذوروں، قاصدوں کو مارنے سے منع کرنا اور انہیں امن دے دینا، کھیت کھلیانوں اور درختوں کو کاٹنے کی ممانعت فرمانا، مذہبی مقامات کو ڈھانے سے روکنا، لوٹ و کھسوٹ کرنے سے منع فرمانا جیسے رہ نما اصول اس بات کی خوب عکاسی کرتی ہے کہ رحمت للعالمین محسن ِاعظمؐ انسانی جانوں کے ضیاع کو ناپسند فرمایا کرتے اور ہر حال میں (No War Pact) اور امن (Peace) کے علمبردار تھے ۔
الغرض اس طرح کی تعلیمات سے ہمیں امن و سلامتی (Peace Treaty) کا درس ملتا ہے ۔ آج کے دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محبوب پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر دنیا میں امن و سلامتی کے فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ تاکہ دنیا میں امن و سلامتی، بھائی چارگی، عدل و انصاف، عدم برداشت کی رواداری کے ماحول کا قیام ممکن ہو سکے ۔
(ہاری پاری گام، ترال،رابطہ ۔ 9858109109)
[email protected]