رمیش کیسر
نوشہرہ//نوشہرہ سب ڈویژن کے سرحدی دیہات سیال اور مگنیوٹ کے مکینوںنے لیفٹیننٹ گورنر جموں و کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے دونوں دیہات کو دوبارہ تحصیل نوشہرہ میں شامل کیا جائے تاکہ عوام کو درپیش انتظامی اور ریونیو سے متعلق مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔مقامی لوگوں کے مطابق سیال اور مگنیوٹ 1947 سے سال 2014 تک تحصیل نوشہرہ کا حصہ تھے، تاہم انتظامی سطح پر کی گئی تبدیلیوں کے بعد ان دونوں دیہات کو تحصیل بیری پتن میں شامل کر دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے باعث روزمرہ کے سرکاری امور انجام دینے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ تحصیل بیری پتن کے تحصیلدار کا دفتر بیری پتن کے بجائے سندر بنی میں قائم ہے۔مکینوںنے بتایا کہ ان کے تمام ریونیو ریکارڈ، پٹواریوں کی دستاویزات اور دیگر سرکاری فائلیں تحصیلدار کے دفتر سندر بنی میں موجود ہیں، جس کے باعث معمولی نوعیت کے کاموں کے لیے بھی انہیں طویل سفر طے کرنا پڑتا ہے۔
اس سے نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ مالی بوجھ بھی بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر بزرگ افراد، کسانوں اور روزانہ مزدوری کرنے والوں کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اگر تحصیل بیری پتن قائم کی گئی تھی تو اس کا ہیڈکوارٹر بیری پتن میں ہونا چاہیے تھا، لیکن ایک سیاسی فیصلہ کرتے ہوئے اسے سندر بنی منتقل کر دیا گیا، جس کا براہ راست خمیازہ سیال اور مگنیوٹ کے عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کا پولیس اسٹیشن، بلاک سطح کے بیشتر سرکاری دفاتر، بینک اور دیگر ضروری خدمات آج بھی نوشہرہ میں واقع ہیں، جبکہ صرف ریونیو معاملات کے لیے انہیں سندر بنی جانا پڑتا ہے۔ اس انتظامی تضاد نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔مکینوں نے سوال اٹھایا کہ جب تقریباً سات دہائیوں تک ان کے دیہات تحصیل نوشہرہ کے تحت رہے اور عوام کو کسی قسم کی دشواری پیش نہیں آئی، تو پھر 2014 کے بعد انتظامی حدود میں تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ عوامی سہولت کے بجائے مشکلات کا باعث بنا ہے۔سیال اور مگنیوٹ کے باشندوں نے لیفٹیننٹ گورنر، ڈویژنل کمشنر جموں اور ضلع انتظامیہ راجوری سے اپیل کی ہے کہ اعلیٰ سطحی ٹیم ان دونوں دیہات کا دورہ کرے، زمینی صورتحال کا جائزہ لے، عوام کے مسائل کو براہ راست سنے اور دونوں دیہات کو دوبارہ تحصیل نوشہرہ میں شامل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے اور انہیں غیر ضروری دفتری مشکلات سے نجات حاصل ہو۔