سرینگر// سرینگر سمیت وادی کے چند علاقوں میں گذشتہ برس میکڈم میں استعمال کئے گئے غیر معیاری میٹریل کی جانچ و نگرانی نظام کیلئے خصوصی ٹیموں کی تشکیل اور نمونوں کی لیبارٹریوں میں جانچ کرنے کے دعوئے سراب ثابت ہوئے ہیں۔آج تک میکڈم میں غیر معیاری میٹریل استعمال کرنے کیلئے کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے اور نہ کوئی جانچ رپورٹ منظر عام پر لائی گئی ہے۔وادی بھر کی سڑکوں کی موجودہ خستہ حالت پر واویلا ہی کیا جاسکتا ہے کیونکہ کوئی بھی سڑک ایسی نہیں جہاں جگہ جگہ میکڈم اکھڑ نہیں گیا ہے، جہاں جگہ جگہ کھڈ نہ بنے ہیں۔محکمہ تعمیرات عامہ کے اعدادوشمار کے مطابق پچھلے سال وادی میں میکڈم بچھانے کیلئے جو ٹارگٹ رکھا گیا تھا وہ پورا نہ ہوسکا۔حق اطلاعات قانون کے تحت فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق محکمہ تعمیرات عامہ کا کہنا ہے’’محکمہ نے میکڈم بچھانے کے عمل کی نگرانی کیلئے خصوصی ٹیموں کو تشکیل دیااور ان کاموں کے معیار کی جانچ( کالٹی کنٹرول ٹیسٹ) کیلئے لیبارٹریوں کو بھی قائم کیا گیا‘‘۔
محکمہ نے بتایا کہ مزید میکڈم کی جانچ کرنے کیلئے نمونے این آئی ٹی( نیشنل انسٹی چیوٹ ٹیکنالوجی) حضرتبل بھیجے گئے تاکہ اس بات کی جانچ کی جاسکے تاکہ میکڈم میں تار کول کی مقدار اور کوالٹی کی جانچ کی جاسکے۔سرینگر میں گزشتہ برس سٹی اینڈ ٹاونز مد میں سڑکوں کی مرمت اور تار کول کیلئے6کروڑ93لاکھ75ہزار روپے کا تصرف کیا گیا جبکہ سٹیٹ سیکٹر کے تحت2کروڑ80لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔ مجموعی طور پر گزشتہ مالی سال کے دوران سرینگر میں سڑکوں کی تجدید و مرمت اور تار کول کیلئے9کروڑ74لاکھ25ہزار روپے کاتصرف عمل میں لایا گیا۔حق اطلاعات کارکن ایم ایم شجاع کا کہنا ہے کہ وادی میں میکڈم بچھانے کا جو وقت مقرر کیا جاتا ہے وہ عین سردیوں سے قبل کا ہوتا ہے حالانکہ یہ موسم تار کول بچھانے کیلئے موزوں نہیں ہے۔انہوں نے کہا’’ اس طرح افسراں اور میکڈم پلانٹ مالکان کو یہ بہانہ ملتا ہے کہ سردیوں میں سڑکیں خراب ہوئیں۔‘‘عام شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکار نے زر کثیر صرف کیا تو انکی حالت فی الوقت ایسی کیوں ہے؟۔لوگوں کا الزام ہے کہ کورونا کے باعث جلدی میں بچھائے گئے تار کول کا نہ معیار دیکھا گیا اورنہ ہی اس کی جانچ کی گئی،جس کے نتیجے میں متعلقین نے غیر معیاری میٹریل استعمال کیا، جس کے باعث سڑکوں کی موجودہ حالت بن گئی ہے۔
انتظامیہ اور کانٹریکٹروں کے درمیان تار کول بچھانے سے متعلق پہلے ہی ایک معاہدہ ہے،جس کے تحت50ایم ایم تار کول بچھانے کے بعد اس ٹھیکیدار کو آئندہ3برسوں تک سڑک کی مرمت کی ذامہ داری ہوتی ہے جبکہ25ایم ایم تار کول کیلئے یہ مدت18ماہ ہے۔ محکمہ تعمیرات عامہ ذرائع نے بتایا کہ چیف انجینئر نے اس سلسلے میں متعلقہ ایگزیکیٹو انجینئروں کے نام مکتوبات بھی روانہ کئے ہیں،جن میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے حدود میں آنے والی خستہ حال سڑکوں،جن پر گزشتہ برس تار کول بچھایا گیا ہے، ٹھیکیداروںکو ہدایت دیں کہ وہ معاہدے کے تحت ان سڑکوں کی مرمت کا کام شروع کریں۔ پرزہ کا کہنا ہے کہ اخلاقی طور پر وہ سڑکوں کی مرمت کیلئے ذمہ دار نہیں ہیں کیونکہ موسمی صورتحال کے دوران غیر موزوں مشینوں کا استعمال کرنے سے سڑکوں کی اوپری سطح تباہ کردی گئی ہے۔ سینٹرل کانٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کے صدر غلام جیلانی پرزہ کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی ناگفتہ بہہ حالت اور خستہ حالی کیلئے انتظامیہ از خود ذمہ دار ہے۔انہوں نے کہا’’ موسم سرما کے دوران بھاری برف باری کے بعد سڑکوں سے برف ہٹانے کیلئے جے سی بی اور ٹریکٹروں کا استعمال عمل میں لایا گیا،جس کی وجہ سے سڑکیں خراب ہوئیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ سڑکوں سے برف ہٹنانے کیلئے مخصوص مشینیں اور ایک معقول نظام ہوتا ہے تاہم انتظامیہ کی غفلت شعاری کہیں یا مجبوری، انہوں نے موسم سرما کے دوران ان مشینوں کو استعمال میں لایا گیا،جو غیر موزوں تھیں۔