ہندوستان کی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی ترقی کے لئے ایک عرصہ پہلے بارڈر روڈ آرگنائزیشن قائم کی گئی تھی۔ بی آر او نے ملک کے دیگر سرحدی علاقوں میں بخوبی کام کو سر انجام دیالیکن شہر سے دور ایک ایسی دنیا موجود ہے جہاں سڑک کا رابطہ نہیں ہے۔ ان غیر منقولہ علاقوں میں دیہاتی آج تک ہر طرح کی سہولیات سے محروم ہیں۔ منصوبہ ساز جو دور دراز علاقوں کی ترقی کے ذمہ دار ہیں، انہیں یہ احساس کرنا ہوگا کہ سڑک کی فراہمی دیہی ترقی کے بڑے مقاصد میں کس طرح فٹ بیٹھتی ہے۔یوٹی جموں اور کشمیر کا ضلع پونچھ ،جو منی کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے، اس لیے بھی مشہور ہے کہ جب دو پڑوسی ملک اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیںتو اس علاقے کے باشندوں کو سب سے زیادہ اس کی قیمت چکانا پڑتی ہے جو آئے دن اخبارات اور ٹی وی چینل میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔
سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل منکوٹ گاؤں کینی مگیاد کے لوگ جو ہر دن معمولی کام کے لیے پہاڑ کی اونچائی سے پیدل چل کر جایا کرتے تھے، گھر کا سامان لانے کے لئے وہاں کے لوگ بڑی مشقت سے اپنی زندگی بسر کر رہے تھے۔ پھر سال 2009 میں پہاڑیوں کے بیچوں بیچ سڑک نکالنے کی ایک کرن دکھائی گئی تھی ۔اس کے بعد پھر سال 2010 اور 2011 کے بیچ اس کام کو مکمل کیا گیا اور پھر وہاں پر رہنے والے باشندوں کے لیے ہر کام آسان ہوگیا ۔جہاں وہ پہلے دو گھنٹے لگا کر اپنے گھر پہنچتے تھے، اب وہ 30 منٹ میں گھر پہنچنے لگے تھے۔
لیکن بات یہ ہے کہ وہ خوشی صرف چند سال کی ہی تھی کیونکہ کام اتنے اچھے سے نہیں کیا گیا تھا جس کی وجہ سے 6 مہینے کے اندر ہی سڑک کی حالت بگڑ گئی۔پھر وہی کھڈے پڑ گئے اور اب وہاں پر کوئی بھی ڈرائیور گاڑی لے کر نہیں جانا چاہتا ہے ۔ اگر جاتا بھی ہے تو زیادہ پیسے لیتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہاں سڑک پر کھڈے ہونے کی وجہ سے لوگ ابھی بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ 2017 میں اس کی وجہ سے وہاں پر ایک بڑا حادثہ بھی ہو چکا ہے۔اس حادثہ کے بعد لوگوں نے سڑک کو ٹھیک کرنے کے لئے حکومت سے مانگ کی لیکن اب تک وہ سڑک ویسی کی ویسی ہی ہے۔ کافی بارمقامی انتظامیہ سے اپیل بھی کی گئی ،لیکن کوئی ہلچل نظر نہیں آئی۔ وہاں پر رہنے والے باشندوں کا کہنا ہے کے اب یہ سڑک جلدی ٹھیک کرایا جائے ۔ہمیں بہت مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وہیں ڈرائیوروں کا کہنا ہے اگر ہم دن میں بارہ سو کی کمائی کرتے ہیں تو اس میں ہزارروپیہ گاڑی کو ٹھیک کروانے میں ہی لگ جاتا ہے ۔
گاؤں کے وارڈممبر خادم چودھری کا کہنا ہے کہ ہم نے کتنی بار اپیل کی ہے لیکن کوئی ہلچل نہیں ہو رہی ہے۔ان کا کہناہے کہ انہوں نے اس سے جڑے تمام محکمہ کے چکر کاٹے، لیکن کوئی بہترجواب نہیں ملا۔ وارڈنمبر پانچ کے چیئرمین سابق حوالدار محمد شکیل کے مطابق انہوںنے اس سلسلہ میں ڈی سی کے ساتھ جلسہ مشاورت بھی کی تھی اور اس میں سڑک کے لیے اپیل بھی کی تھی ، انہوں نے کہا تھا کہ اس بار یہ کام ہو جائے گا، لیکن ابھی تک کوئی بھی حل نہیں نکلا ہے اور اب تک سڑک کی حالت بہتر نہیں ہوئی ہے۔ سڑک خراب ہونے کی وجہ سے اسکول جانے والے بچوں کو بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔یہاں سے پہلے ہر روز گاڑی جاتی تھی بچوں کو اسکول جانے میں آسانی ہوتی تھی لیکن اب یہاں کی سڑک خراب ہونے کی وجہ سے کوئی گاڑی نہ ہی آتی ہے نا جاتی ہے جس کی وجہ سے طلباء کوا سکول جانے میں کا فی وقت لگ جاتا ہے۔پیدل راستے میں دریا سے گزر کر جانا پڑتا ہے ۔بارش کے موسم میں دریا میں طغیانی کی وجہ سے بچے اسکول نہیں جا پا تے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے۔
مقامی باشندے سرکار سے اپیل کر رہے ہیں کہ ان کی مشکلات کا ازالہ کیا جائے اور اس سڑک پر تھوڑا دھیان دیا جائے تاکہ وہاں جانے کے لئے کوئی بھی ڈرائیور منع نہ کرے اور بچے بھی اسکول آسانی سے جا سکیں۔وزارت دیہی ترقی کی ویب سائٹ پر حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صرف جموں وکشمیر میں ہی مرکز نے نیشنل فلیگشپ پروگرام پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی) کے تحت 11ہزار517کلومیٹر لمبائی کی 1858 سڑکیں اور 84 چھوٹے پل تعمیر کیے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس اسکیم کے لئے حکومت نے گذشتہ بیس برسوں میں رکھے گئے فنڈز کا صحیح استعمال کیا ہے یا نہیں؟ اور اگر اس کو استعمال کیا جاتا ہے تو پھر یہ سڑکیں اتنے برسوں میں کیوں مکمل نہیں ہوئیں؟آخر کیوں علاقے کے لوگوں کو ترقی سے محروم رکھا جا رہا ہے، کیونکہ سڑک کے بغیر ترقی کا خواب ادھورا ہوتا ہے۔کیاانتظامیہ کو مقامی لوگوںکی پریشانیوںکی فکربھی ہے؟(چرخہ فیچرس)