یواین آئی
خرطوم// جنوبی کوردفان میں نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے ڈرون حملے میں کم از کم 79 شہری ہلاک اور 38 زخمی ہو گئے، جن میں 43 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ اطلاع سوڈانی حکام نے دی ہے۔جنوبی کوردفان ریاست حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ جمعرات کو مغربی سوڈان کے شہر کالوجی پر حملے میں متاثرین میں چار خواتین شامل تھیں۔بیان میں کہا گیا کہ “اس وحشیانہ حملے” میں ڈرون نے ایک کنڈرگارٹن، ایک ہسپتال اور گنجان آباد رہائشی علاقوں میں چار میزائل داغے،یہ حملہ ریپڈ فورسسز کے حلیف سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ-نارتھ نے کیا ہے۔حکام نے پہلے آٹھ ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی — جن میں چھ بچے اور ایک استاد شامل تھے مگر بعد ازاں ہلاکتوں کی تعداد 79 تک ہوگئی۔حکام نے بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ حملوں کے خلاف سخت موقف اختیار کریں، آر ایس ایف کو “دہشت گرد تنظیم” قرار دیں اور اس کے حلیفوں کو ان “غیر انسانی جرائم” کے لیے جوابدہ ٹھہرائے۔یونیسف نے ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “بچوں کے حقوق کی خوفناک خلاف ورزی” قرار دیا۔تنظیم کا کہنا ہے کہ متاثرین میں پانچ سے سات سال کی عمر کے دس سے زیادہ بچے شامل تھے۔یونیسف کے نمائندہ برائے سوڈان نے کہا”بچوں کو کبھی بھی جنگوں کی قیمت ادا نہیں کرنی چاہیے۔ یونیسف تمام فریقین پر زور دیتی ہے کہ وہ فوری طور پر ان حملوں کو بند کریں اور انسانی امداد کے لیے محفوظ، بلاخلاف رسائی ممکن بنائیں تاکہ محتاج لوگوں تک پہنچ سکے۔”بچوں کا قتل اور انہیں معذور بنانا، اور اسکولوں اور ہسپتالوں پر حملے بچوں کے حقوق کی شدید خلاف ورزیاں ہیں۔”