اہم ماحولیاتی مسئلہ عوامی بیداری سے ہی حل ہوسکتا ہے
اشرف چراغ
کپوارہ // ضلع کپوارہ جو عام طور پر دروں اور پہاڑوں پر مشتمل ہے اور اپنی قدرتی خوبصورتی، شفاف دریائوں، اور ہریالی کے لیے مشہور ہے، آج ایک سنگین ماحولیاتی چیلنج سے دوچار ہے۔ دریاؤں، ندیوں، اور محلوں میں کوڑا کرکٹ کا بے دریغ پھینکا جانا نہ صرف علاقے کی قدرتی خوبصورتی کو ختم کر رہا ہے بلکہ انسانی صحت، زراعت، اور علاقے کی مجموعی ترقی پر بھی منفی اثر ڈال رہا ہے۔ضلع کے لوگوں نے بارہا اس سنگین مسئلے پر اپنی شکایات درج کی ہیں اور متعلقہ حکام سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت نے ہر پنچایت میں فضلہ جمع کرنے کے لیے شیڈ تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا تاکہ گندگی کو ٹھکانے لگانے کا ایک منظم نظام بنایا جا سکے۔تاہم ان شیڈوں کے تعمیر ہونے کے باوجود بھی عملی طور پر کوئی واضح اور مثبت تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی اور صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں کے اہم ندی نالوں اور آبی ذخائر کے نزدیک یہاں تک کی سڑکوں پرگوبر اور گھر سے نکلنے والا فضلہ بھی پھینک دیا جاتا ہے۔ ندی نالوں میں کوڑا کرکٹ پھینکنے کا سب سے زیادہ نقصان آبی حیات کو ہوتا ہے۔ پلاسٹک، شیشے، اور دیگر غیر تحلیل پذیر مواد پانی کی آلودگی کا سبب بنتے ہیں، جو مچھلیوں، آبی پرندوں، اور دیگر جانداروں کے لیے مہلک ہے۔ اس کے نتیجے میں، نہ صرف ماحولیاتی توازن خراب ہوتا ہے بلکہ ان جانداروں کی نسلوں کو بھی خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔محلوں میں کوڑا کرکٹ کے ڈھیر سے پیدا ہونے والا تعفن نہ صرف ماحول کو آلودہ کرتا ہے بلکہ جن مقامات پر یہ گندگی جمع ہوتی ہے وہاں سے چلنا محال بن گیا ہے اور بیماریاں عام ہو جاتی ہیں۔صاف پانی کی قلت اور فضائی آلودگی، جو کوڑے کے جمع ہونے سے پیدا ہوتی ہیں، ضلع کے رہائشیوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ہر پنچایت میں شیڈ تعمیر کرنے کا منصوبہ ایک مثبت قدم تھا، لیکن ناقص منصوبہ بندی اور مناسب نگرانی کی کمی کی وجہ سے یہ اقدام ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکا۔ان شیڈوں کو مؤثر انداز میں استعمال نہ کرنے کے باعث گندگی کے مسائل جوں کے توں موجود ہیں، اور عوام کی شکایات دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہیں بلکہ پورے ضلع میں لوگ اپنے گھروں کا کوڑا کرکٹ ان شیڈوں کے نزدیک تو جمع کیا گیا لیکن اس کو ٹھکانے لگانے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا جا رہا ہے۔کپوارہ ضلع میں 245 پنچایتیں ہیں اور محکمہ دیہی ترقی نے 5 سال قبل یہاں پر شیڈ قائم کئے تاکہ کوڑا کرکٹ کو یہاں جمع کیا جائے گا لیکن یہ منصوبہ بری طرح سے ناکام ہوگیا۔ضلع میں اس مسئلے کے لئے کچھ ضروری اقدامات اور منصوبے کی مؤثر نگرانی ہونی چاہیے ۔ کوڑا کرکٹ کے لیے مخصوص جگہوں کا قیام ا ضروری ہے۔ ری سائیکلنگ کا نظام متعارف کرانااور عوام کو جانکاری دینا بھی ضروری ہے۔جو لوگ سرکار کی طرف سے دئیے گئے رہنما اصولوں پر عمل نہیں کریں گے، انہیں جرمانے اور قانون کے شکنجے میں لایا جائے۔ علاقائی کمیٹیاں اور لوگوں کا اہم کردار بھی اس معاملے میں ناگزیر ہے۔ضلع بھر میں کوڑا کرکٹ کا مسئلہ ایک ایسا چیلنج ہے جو صرف حکومت کے اقدامات سے حل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے عوام، مقامی ادارے، اور مذہبی و سماجی رہنما سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ شیڈ منصوبے کو کامیاب بنانے، قوانین پر عمل درآمد، اور عوامی بیداری کے ذریعے ہی اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔اگر سماج سے وابستہ ہر ذی شعور ذمہ داری محسوس کریں، ماحولیات کی حفاظت کو ایمان کا حصہ سمجھیں، اور کوڑے کو ٹھکانے لگانے کے جدید اور مؤثر طریقے اپنائیں، تو کپوارہ کو نہ صرف ایک صاف ستھرا بلکہ ایک مثالی ضلع بھی بنا سکتے ہیں۔یہ کوشش نہ صرف ہماری صحت اور خوشحالی کے لیے مفید ہوگی بلکہ یہ عمل آنے والی نسلوں کے لیے ایک خوبصورت اور محفوظ ماحول کا تحفہ ہوگا۔