پرویز احمد
سرینگر //گلوان پورہ بڈگام میں پیش آنے والے دلخراش واقعے، جس میں ایک کمسن بچی کو مبینہ طور پر عصمت دری کے بعد قتل کر دیا گیا، نے پوری وادی کو سوگ اور غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا(فیس بک، انسٹاگرام، ایکس اور نجی یوٹیوب چینلز) پر خود کومیڈیا اراکین بتانے والے افراد کی جانب سے متاثرہ بچی کا نام اور تصاویر شیئر کیے جانے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ حالانکہ پولیس نے واقعہ رونما ہونے کے فوراً بعد سوشل میڈیا کیلئے باضابطہ طور پر ایڈوائزری بھی جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ متاثرہ بچی کا نام اور دیگر تفاصیل ظاہر کرنا قانوناً جرم ہے اور یہ سپریم کورٹ گائیڈ لائنز کیخلاف بھی ہے لیکن اسکے باوجود اتوار کو دن بھر اور رات دیر گئے تک سینکڑوں سوشل میڈیا اکاونٹس پر اسکی تشہیر کی گئی۔
قابل غور بات یہ ہے کہ پیر کے روز تک پولیس کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والے( خود ساختہ) میڈیا افراد کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔پیر کی شام تک وادی کے کسی بھی پولیس تھانے میں کسی بھی ایسے شخص کیخلاف کوئی کیس درج نہیں کیا گیا تھا۔پولیس کی اس سرد مہری پر قانونی ماہرین اور سماجی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی جنسی زیادتی یا قتل کے متاثرہ بچے یا بچی کی شناخت ظاہر کرنا، نام لینا یا تصاویر شیئر کرنا قوانین کے تحت قابلِ سزا جرم ہے۔ ایسے اقدام سے نہ صرف متاثرہ خاندان کی اذیت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ یہ بچوں کے تحفظ اور رازداری کے اصولوں کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ وہ غیر مصدقہ معلومات، تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنے سے گریز کریں اور ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی فوری طور پر ایسے مواد کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور سوشل میڈیا پر متاثرین کی شناخت ظاہر کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔