انگریزی کا ایک لفظ ہے Agathokakological جس کے معنی ہیں وہ چیز جو خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہو یا بالفاظِ دیگر ایسی چیز جس میں بیک وقت خوبیاں اور خامیاں دونوں پائی جائیں۔یہ لفظ دیگر کئی چیزوں کی طرح اگرانٹرنیٹ خاص کر سوشل میڈیا کے لیے استعمال کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔سوشل میڈیا مثلاً فیس بک،یوٹیوب ،ٹوئٹر وغیرہ جہاں ایک طرف سے ہمارے لیے کافی کارگر اور فائدہ بخش ہے وہی دوسری جانب اس کے منفی اثرات سے بھی کسی فردِ بشر کو انکار نہیں۔زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں،چند روز قبل کا ہی واقعہ ہے کہ راقم سرینگر کی پرتاپ پارک میں بیٹھا تھا کہ وہاں چار کم عمر لوگوں پر نظر یں جم گئیں۔لباس سے تو چاروں لڑکے ہی معلوم ہوتے تھے لیکن ہاںایک میں ذرا تذبذب تھا کہ یہ لڑکا ہے یا لڑکی۔وہاں میرے ساتھ بیٹھے اپنے ایک دوست سے اس بارے میں استفسار کیا تو اُس نے کہا کہ یہ لڑکی ہے۔تذبذب اس لیے بھی ہوا کہ مردانہ لباس کے ساتھ ساتھ اُس نے سر کو اپنے جیکٹ یا اَپر کی ٹوپی سے ڈھانپ رکھا تھا اور چہرہ بھی غالباً ماسک سے ڈھکا ہوا تھا۔پھر اپنے دوست سے استفسار پر پتا چلا کہ یہ لڑکی ہے اور یہاں دراصل اپنے ہی ہم عمر ایک لڑکے کے ساتھ اداکاری کرکے ویڈیو ریکارڈ کروا رہی ہے جسے شائد وہ بعد میں سوشل میڈیا پر ایک مختصر ویڈیو کی صورت میں اپلوڈ کرتی، جسے ہم Reelکے نام سے بھی جانتے ہیں اور نسلِ نوکے سر پرجس کا بھوت سوار ہوچکا ہے۔ہم چونکہ دور بیٹھے تھے اس لیے اُن کی باتیں تو ہمارے گوشۂ سماعت سے نہیں ٹکرائی ،البتہ اُن کے حرکات سے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے بالی ووڈ کی کسی فلم کی شوٹنگ چل رہی ہے ۔اوریہ بات پہلے بھی لکھی جاچکی ہے کہ سارے ’اداکار ‘ مع کیمرہ مین وغیرہ سبھی کم عمر ہی تھے،اندازاً نویں،دسویں جماعت کے طالب علم !
یہ تو خیر تصویر کا ایک پہلو ہے۔مندرجہ بالا واقعہ چونکہ کم عمروں کے حوالے سے تھا اس لیے زیادہ گلے شکوے کی گنجائش نہیں ہے ۔اب ذرا وادیٔ کشمیر میںسوشل میڈیا پر چل رہی دیگر واہیات پر ایک نظر دوڑائیں جس میں بچے نہیں بلکہ بالغ العقل لوگ بڑھ چڑھ کر ملوث ہیں۔سوشل میڈیا نے جہاں روزگار کے وسائل بہم پہنچانے میں آسانی پیدا کی اور لوگوں خاص کر نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم عطا کیا تھا، جہاں وہ اپنی گوناگوں صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتے تھے، وہ بھی زیادہ پیسے خرچ کیے بغیر ،وہی اس کے کچھ منفی اثرات بھی سامنے آگئے اور آج ہماری چشمِ ہائے بدنصیب کو Contentکے نام پر واہیات اور خرافات دیکھنی پڑ رہی ہے۔Roastingکے نام پر دوسروں کا قافیہ حیات تنگ کیا جارہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ایسی ویڈیوز میں اس قدر نازیبا اور ناشائستہ زبان کا استعمال کی جاتی ہے کہ ذی شعور انسان ایک منٹ کے لیے بھی ایسا مواد دیکھنا گوارا نہیں کرے گا۔بات روسٹنگ پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ Vloggingکے نام پر نہ جانے کیا کیا دکھایا جارہا ہے۔اسی طرح Snapchatنامی ایپلی کیشن نے بھی لوگوں کی زندگی کواس قدر اثر انداز کیا ہے کہ اب وہ نائی کے پاس جانے سے لے کر سڑک پر چلنے تک کے سنیپ (تصاویر؍ویڈیو) بنا کر اپنے دیگر ساتھیوں کو اس ایپلی کیشن کی مدد سے بھیجتے ہیں۔
جمہوریت کا چوتھا ستون مانے جانے والی صحافت کو کیونکر فراموش کیا جائے؟ جہاں پورے ملک میں صحافت کا معیار گرچکا ہے اور بعض لوگ صحافت کے نام پر دلالی کررہے ہیں وہیں دوسری جانب وادی ٔ کشمیر کا حال بھی اس حوالے سے بالکل ٹھیک نہیں ہے۔موضوع چونکہ سوشل میڈیا ہے ،اس لیے یہاں کی اخباری اور ٹیلی ویژن صحافت پر بات کرنے کی گنجائش کم ہی ہے۔صحافت کے نام پر جموں کشمیر میں درجنو ں صفحات اور چینل سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں لیکن معیار ندارد۔انگریزی میں کوئی خبر لکھی جائے تو کبھی کبھار اُس میں ایسی فاش غلطیاں ہوتی ہیں کہ اس زبان کی روح بھی تڑپ اُٹھے۔نقل و چسپاں(Copy Paste) تو ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔اسی طرح اہم خبروں کی بجائے چٹکلے دکھانا اب یہاں ایسے سوشل میڈیا صفحات یا چینلز کا معمول بن چکا ہے۔اب آپ ہی بتائیے کہ اگر اس طرح کے ایرے غیرے نتھو خیرے جیسے ببر شیروں کو باہر نکالا جائے توپھر ان کے پاس بچتا ہی کیا ہے؟اخلاقی طور پر ہمارے خود ساختہ صحافی اس قدرپستی کی جانب جارہے ہیں کہ اپنا کاروبار چمکانے کے لیے دماغی طور پر کمزور کسی بھی انسان کا استحصالکرتے جارہے ہیں۔
سوشل میڈیا کے جو منفی اثرات اس مضمون میں بیان کئے گئے وہ یقینا قابلِ تشویش ہیں لیکن اس سے بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ عام لوگ بھی کس قدر تنزلی اور اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوگئے ہیںکہ وہ معیاری چیزوں کی بجائے ایسی ہی واہیات کو دیکھ دیکھ کر انہیں فروغ دے رہے ہیں۔آپ نے بھی شائد اس بات کا مشاہدہ کیا ہوگا یا اگر نہیں کیا ہے تو ضرور کیجئے گا کہ ایک طرف کوئی شخص سوشل میڈیا پر معیاری چیزیں ڈالنا شروع کردے اور اُس کے ساتھ ہی دوسرا شخص واہیات کو فروغ دے،چند عرصہ بعد آپ پر یہ بات آشکار ہوگی کہ معیاری چیزیں ڈالنے والے کومٹھی بھر لوگ فروغ دیں گے اور واہیات ڈالنے والا دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتے رہیں گے۔اس گراوٹ میں جہاں ایسا مواد تیار کرنے والے جولوگ ملوث ہیںوہیں اُن سے زیادہ عام لوگوں کو مورد الزام ٹھہرانابے جا نہیں ہے کیونکہ وہ معیاری چیزیں کم اور واہیات زیادہ دیکھنا پسند کرتے ہیں بالخصوص ہمارے معاشرے کی نوجوان نسل۔
ضرورت اس بات کی ہے اپنا احتساب کرکے بحیثیت قوم ہم ا س بات پر غور کریں کہ اگر ہم اسی روش اور ڈگر پر چلتے رہیں تو ہمارا آنے والا کل کس قدر تاریک ہوگا؟سوشل میڈیا پر غلیظ مواد کو اَپلوڈ کرنے والے اُس دن خود بہ خود سبق لیں گے جس دن عوام اُن کو نظر انداز کرنا شروع کردے گی۔آپ جب بھی اب کبھی اس طرح کا مواد سوشل میڈیا پر دیکھیں تو یہ آپ پر لازم بن جاتا ہے کہ آپ اُسے بالکل نظر انداز کریں بجائے اس کے کہ آپ اسے تفریح کا سامان سمجھ کر زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔ایسا مواد بنانے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں کیونکہ سماج کی تعمیر میں اُن کا حصہ بھی کچھ کم نہیں۔اسی طرح سرکار کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرح کے ناشائستہ اور نازیبا مواد کی تشہیر کوروکنے میں اپنا رول ادا کریں ۔
برپورہ پلوامہ کشمیر
رابطہ[email protected]