نئی دہلی//چناب دریا پربھارت کی طرف سے پن بجلی پروجیکٹ تعمیر کرنے پر اسلام آباد کے خدشات اوردیگر معاملات پرتبادلہ خیال کرنے کیلئے سندھ طاس آبی معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے کمشنر23اور 24مارچ کوملاقات کریں گے۔اس بات کی جانکاری اعلیٰ حکام نے دی ہے۔یہ سندھ طاس آبی معاہدے کے تحت مستقل سندھ طاس کمیشن کی سالانہ میٹنگ ہوگی جو معاہدے کی رو سے سال میں ایک بار اسلام آباد اور نئی دہلی میں منعقد ہوتی ہے۔ بھارت کے سندھ طاس کمشنرپی کے سکسینہ نے کہا کہ میٹنگ نئی دہلی میں23اور24مارچ کو منعقدہوگی۔یہ دونوں ممالک کے درمیان جموں کشمیرکاخصوصی درجہ دفعہ370ختم کئے جانے کے بعد دونوں کمشنروں کے درمیان پہلی ملاقات ہوگی۔تب سے بھارت نے لداخ میں متعدد پن بجلی پروجیکٹوں کومنظوری دی ہے،جن میں 19میگاواٹ کے دربک شیوک ،18.5میگاواٹ کے شانکو،24میگاواٹ کے نموچلنگ،12میگاواٹ کے رونگڈو،10.5میگاواٹ کے رتن ناگ،پروجیکٹ لداخ میں اورکرگل میں 19میگاواٹ کا مانگ ڈم سانگرا،25میگاواٹ کاہنڈرمین اور12میگاواٹ کاتماشاپروجیکٹ شامل ہیں۔بھارت نے ان پروجیکٹوں کے بارے میں پاکستان کو مطلع کیاتھا اورمیٹنگ کے دوران اس مسئلہ پربات ہوگی ۔سکسینہ نے کہا کہ چناب دریا پر بھارت کے پن بجلی پروجیکٹوں کے ڈئزاین پر پاکستانی خدشات پر بھی میٹنگ میں گفتگوہوگی۔قابل ذکر ہے کہ کوروناوباء کی وجہ سے گزشتہ برس نئی دہلی میں منعقد ہونے والی میٹنگ معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد پہلی بار منسوخ کی گئی تھی۔بھارتی وفد کی قیادت سکسینہ کریں گے اور ان کے ہمراہ سینٹرل واٹر کمیشن ،سینٹرل الیکٹرسٹی اتھارٹی اور نیشنل ہائیڈروالیکٹرک پاورکارپوریشن کے صلاح کار ہوں گے،جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت مہرعلی شاہ کررہے ہیں جو پاکستان کے سندھ طاس معاہدے کے کمشنر ہیں اوران کے ساتھ آٹھ صلاح کار ہوں گے۔ سندھ طاس آبی معاہدے کے تحت ستلج ،بیاس اور راوی دریائوں کاپانی بھارت استعمال کرے گاجبکہ سندھ،جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کواستعمال کرنے کاحق ہے۔