سرنکوٹ //اگرچہ خدا خدا کرکے سرنکوٹ کے سنئی گائوں کو سڑک رابطے سے جوڑنے کیلئے بیس سال قبل شروع ہوئی روڈ پر دوسرے مرحلے کاکام حال ہی میں شروع کیاگیاہے لیکن یہ کام مکمل ہوجانے کے بعد بھی بہت بڑی آبادی پیدل سفر کرنے پر مجبور ہوگی ۔ واضح رہے کہ بیس سال قبل سنئی لوہر سے شاہستار شریف تک سڑک کی تعمیر کاکام ہاتھ میںلیاگیاتھا ۔پہلے لگ بھگ دو کلو میٹرکا کام محکمہ تعمیرات عامہ نے کیا جس کے بعد اسے بند کردیاگیا اور پھر دس سال قبل محکمہ پی ایم جی ایس وائی نے آگے کے حصے کا کام شروع کیا اور پہلے مرحلے کے تحت زمین کی کھدائی بھی کردی گئی ۔تاہم اس کے بعد کام بند کردیاگیا اور جہاں اسی پروجیکٹ کے ساتھ سرنکوٹ کے دیگر 23 پروجیکٹوں میںسے کچھ کادوسرے اور کچھ کاتیسرے مرحلے کاکام بھی مکمل کیاجاچکاہے وہیں سنئی کی روڈ کو تعطل کاشکار بنادیاگیا جس کیلئے محکمہ کے انجینئران کو ذمہ دار ٹھہرایاجارہاہے جنہوںنے سڑک کا چار کلو میٹر کے بجائے نہ جانے کیا مصلحت جان کر ساڑھے چار کلو میٹر کا بل تیار کرلیا جسے حکام کی طرف سے منظور ہی نہیں کیا گیا اور نتیجہ کے طور پر یہ پروجیکٹ التوامیں پڑ گیا۔اب سڑک پر بجری ڈال دی گئی ہے اور مزید کام بھی جاری ہے ۔محکمہ کے مطابق اسی سال کے اواخر تک سڑک پر تارکول بھی بچھادیاگیاجائے گا لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کام مکمل ہوجانے کے بعد بھی اپر سنئی کی بہت بڑی آبادی ایسی ہوگی جسے کئی کلو میٹر پیدل ہی سفر کرناپڑے گا۔یہ سڑک وارڈ نمبر دو دندلی والا محلہ تک تعمیر کی جارہی ہے جس کے اوپر کا وسیع علاقہ ابھی تک سڑک روابط سے محروم ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں سڑک کی تعمیر کی کوئی امید بھی کی جارہی ہے ۔ایک مقامی شخص کرامت حسین نے بتایاکہ انہیں لگ بھگ دو کلو میٹر کا سفر پیدل طے کرناپڑے گاجبکہ ان سے بھی اوپر رہ رہے لوگوں کو تو چار پانچ کلو میٹر سفر پیدل طے کرناپڑے گا۔ انہوںنے کہاکہ اس سڑک کاگائوں کے سبھی لوگوں کو تبھی فائدہ ہے جب اسے شاہستار شریف تک تعمیر کیاجائے ۔ایک اور شخص نذیر خان کاکہناہے کہ اگر کوئی بیمار ہوجائے تو اسے چارپائی پر اٹھاکر سڑک تک لیجاناپڑتاہے جو یہ ظاہر کرتاہے کہ انہیں کس طرح کے سڑک روابط میسر ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اس سڑک کی شاہستار شریف تک تعمیر کی جائے تبھی یہ فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے ۔مقامی لوگ کئی برسوںسے یہ مانگ کررہے ہیں کہ سڑک کی توسیع کی جائے لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی بھی اقدام نہیں کیاگیاہے ۔ اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے ایک افسر نے بتایاکہ دو سال قبل سڑک کی توسیع کا پرپوزل تیار کرکے حکام کو روانہ کیاگیاتھاتاہم اسے اب تک منظوری نہیں ملی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اس پرپوزل کو منظوری ملتے ہی کام شروع کردیاجائے گا۔مقامی لوگوں نے مطالبہ کیاہے کہ روڈ کی شاہستار شریف تک توسیع کی جائے تاکہ انہیں چھ کلو میٹر سے آگے کا سفر پیدل طے نہ کرناپڑے۔