اسلام نے شروع سے ہی انفاق فی سبیل اللہ یعنی ا للہ کی راہ میں خرچ کر نے کی تعلیم اُمت مسلمہ کو دی ہے ۔بنی مہربان صلعم کے دور اول سے ضرورت مندوں اور غریبوں کے لئے ہمدردی و غمخواری کا کام شد و مد سے جاری رہا ۔ اسلام میں بیت ُالمال کا نظریہ اورتصور شروع میں ہی دیا گیا ہے۔بیت المال کا مقصد بھی یہی تھا اور آج بھی ہے کہ صاحب ثروت افراد سے ہر طرح کی معاونت حاصل کر کے اِس سے مفلوک الحال لوگوں اور یتیم بچوں کی کفالت وغیرہ کا کام بحسن خوبی انجام دیا جائے تاکہ مجبور و محتاج لوگ زندگی جینے کے لئے کسی غلط راستے کا انتخاب نہ کریں ۔اسی حوالے سے( یعنی انفاق فی سبیل اللہ )اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں بہت ساری آیات مبارکہ نازل فرمائی ہیں جن میں سے ایک آیت مبارکہ کا میں یہاں تذکرہ کر نا چاہوں گا جو کہ سوہ الحدید میں درج ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ’’ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو ان چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے،پس جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے ان کے لئے بڑا اجر ہے‘‘۔اس آیت مُبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے آخر میں صاحب ’’روح القرآن‘‘ مولانا ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی صاحب یوں رقم طراز ہیں ’’آیت کریمہ کے آخر میں فرمایاکہ جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے اُن کے لئے بڑا اجر ہے ۔‘‘اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں انفاق کو ایمان کی شہادت کے طور پر لایا گیا ہے یعنی جو لاگ ایمان لانے کے بعد انفاق سے جی چراتے ہیں وہ دعوائے ایمان میں کچے ہیں ۔اگر وہ اپنے دعویٰ میں سچے ہوتے تو یہ کیسے ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ؐکے حکم کو ماننے کے وعویٰ کے بعد وہ اپنے مال کو اس کے راستے میں خرچ کرنے سے دریغ کرتے ،کیوں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ نہیں کرسکتا ،وہ پسینہ کیسے بہائے گا اور ضرورت پڑی تو دین حق کے لیے جان کیسے نچھاور کرے گا۔یہ تو اسی صورت میں ممکن ہے کہ ایمان لانے والا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے تیاگ چکا ہو اور قرآن کریم کی زبان میں حیات دُنیا کو آخرت کے بدلے میں بیچ چکا ہو ۔جس شخص نے ایمان و انفاق کو جمع کر لیا اسے بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کا بہت بڑا اجر ہے ۔اس نے اسے ایسے نفع بخش کاروبار میں سرمایہ لگایا ہے جس میں نقصان کا کوئی اندیشہ نہیں البتہ نفع کے ایسے امکانات ہیں جس کا دنیا میں تصور بھی مشکل ہے ۔‘‘
اس آیت مبُارکہ پر من و عن عمل کر کے صحابہ کرام نے دُنیا کو دکھا دیا ہے کہ اگر اس ہدایت پر ساری دُنیائے انسانیت عمل پیرا ہو جائے تو دُنیا میں کوئی بھی انسان مجبور ی اور مفلوک الحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور نہیں ہوگا۔اِسی حوالے سے غزوہ تبوک کے موقعہ پر نبی مہربان ؐ نے اپنے صحابہؓ سے حکم فرمایا کہ اس وقت اسلام کو مال کی ضرورت ہے اور جس سے جتنا ہو سکے وہ اپنا مال جمع کریں ۔ حضرت عمرؓ نے اپنی پراپرٹی میں سے آدھا حصہ آپ ؐ کی خدمت میں پیش کیا ،اور اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق ؓنے اپنے گھر کا جھاڑو تک لایا۔آپ ؐ نے حضرت ابو بکرؓ سے پوچھا کتنا مال لایا اور گھر میں کیا رکھا؟ آپ ؓ نے فرمایا گھر میں بس اللہ کا نام رکھا ہے۔
چونکہ دنیا میں عموماً اور کشمیر میں خصوصاً سیاسی ہلچل اور دیگر آفات کی وجہ سے بعض مسلمانوں کی مالی حالت نا گفتہ بہ ہے۔ مسلم معاشرے میں ایسے بہت سارے طلبہ ہیں جو غربت کی وجہ سے اپنی تعلیم کو جاری نہ رکھ سکتے اور آدھے راستے میں تعلیم کو خیر باد کہہ کر محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ آج بھی ایسے طلبہ ہیں جو قلم کاپی اور نہ جانے کن کن معمولی تعلیمی اخرجات کے لئے ترستے اور تڑپتے ہیں ۔اگربروقت ان معمولی معمولی چیزوں کو طلبہ کے لئے مہیا کیا جائے تو امید قوی ہے کہ کوئی بھی طالب علم تعلیم کو خیر باد نہیں کہہ دے گا۔اس اہم اور پیچیدہ مسئلے کو لے کر جموں و کشمیر اسلامی جمعیت طلبہ نے بارہ مولہ ضلع میں ایک اہم مہم چھیڑ دی جس میں طلبہ سے ہی استعمال شدہ وردیاں اور کتابوں کے لئے اپیل کی گئی تا کہ ضلع کے ہی دوسرے ضرورت مند طلبہ کی مدد کر کے ان کی تعلیم کو جاری رکھی جاسکے۔اس سلسلے میں سب سے پہلے ضلع کے کئی ایک اسکولوں میں جا کر طلبہ کو انفاق فی سبیل اللہ کے حوالے سے روشناس کرایا گیا،اور سماجی رابطہ کی ویب سائٹ فیس بُک وغیرہ پر بھی اس بارے میں طلبہ سے اپیل کی گئی کہ آپ کی استعمال شددہ وردیاں اور کتابیں شاید کسی دوسرے طالب علم کو اپنی تعلیم جاری رکھنے میں معاون و مدد گار ثابت ہو ں، انہیں شئیر کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف کالجز کے پرنسپل صاحبان،پروفیسر صاحبان کے علاوہ سماج کی چند اہم شخصیات کے ساتھ بھی اس حوالے سے تبادلہ ٔ خیال کیا گیا۔مارچ میں اسکول کھلنے کے ساتھ ہی ضلع بارہمولہ میں چند ایک تعلیمی اداروں میں طلبہ کی استعمال شدہ وردیاں اور کتابوں کے حصول کے لئے کونٹرس کھولے گئے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے طلبہ نے جوش اور ولولے کے ساتھ اس مہم میں حصہ لے کر زندہ دلی اور انسانی ہمدردی کا وافر ثبوت دیا ۔ اس مہم میں مسلم طلبہ ہی نہیں بلکہ سکھ طلبہ نے بھی اپنے گھروں سے استعمال شدہ وردیاں اور کتا بیں اسلامی جمعیت طلبہ کے کوانٹرس پر جمع کروائیں ۔محض حوصلہ افزائی کے لئے جمعیت نے ڈونرس کو چھوٹے موٹے تحائف سے اُن کی حوصلہ افزائی کی تا کہ مستقبل میں بھی مفلوک الحال طلبہ کے تئیں ان کی مددکا جذبہ ایسے ہی برقرار رہے ۔ جب طلبہ ہنستے مہکتے چہروں کے ساتھ اپنی استعمال شدہ وردیاں اور کتابیں سجا سجا کر کونٹروں پر جمع کروا رہے تھے تو منظر دیدنی تھا ، اور روحانی طمانیت محسوس ہو رہی تھی ۔اس کے بعد ان ساری چیزوں کو علاقہ نارواو کے ایک اسکول اور بارہمولہ قصبہ کے ایک دوسرے اسکول میں جمع کیا گیا ،کل ملا کر ہزاروں کی تعداد میں کتابیں،وردیاں،جوتے ،کاپیاں وغیرہ ضرورت مند طلبہ و طالبات میں مفت تقسیم کی گئیں۔وردیاں اور کتابیں جمع کرنے سے لے کرانہیں مستحق بچوںمیں اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان و رفقاء کے ہاتھوں تقسیم کاری تک جوش و جذبہ کا جومنظردیکھا گیا، وہ ایمان افروز تھا ۔اگر یہی جذبہ قوم کے جوانوں میں پیدا ہو جائے تو وہ دن دور نہیں جب خواندگی کی شرح یہاں ننانوے فیصد ہو گی۔ اس کی بدولت ہمارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے گا ، جہالت و گمراہی کا دور دور تک کوئی نشان نہ ملے گا،کیوںکہ کسی بھی صحت مند سماج کے لئے نوجوانوں کا تعلیم یافتہ ہونالازم ہوتا ہے ۔ اگر ہمارے نوجوانوں میں اسلام کو سمجھنے ، عمل صالح کرنے اور ایثار کی راہ پکڑنے کا شوق پنپ جائے تو وہ دن دور نہیں جب روتی تڑپنی انسانیت کو سکون میسرہو گا اور انسانیت کے مایوس چہرے پر زندگی بخش مسکراہٹ چھاجائے گی ۔ سماج کے ضرورت مند طلبہ کے تئیں اس انسانی خدمت کے لئے اسلامی جمعیت طلبہ مبارک باد اور شاباشی کی حق دار ہے ۔ اُمید ہے آئندہ بھی ضرورت مند طلبہ و طالبات کے لئے جمعیت محض اللہ کی خوشنودی کے لئے اسی جذبے اور شوق سے کام کرتی رہے گی ۔ سماجکے باشعور افراد ،تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں اور اسا تذہ صاحبان کے علاوہ صاحب ِثروت طلبہ و طالبات سے بھی درد مندانہ اپیل ہے کہ سماجی بھلائی کے لئے ایسے انسانیت نواز پروگراموں کی حوصلہ افزائی کر یں تا کہ سب مل کر ایک صالح اور انسان دوست معاشرے کی تعمیر کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے ساتھ ساتھ انسانیت کی بھی بلا کسی تمیز وتفریق کے خدمت کی جاسکے ۔
رابطہ نمبر۔9469923772