مینڈھر//منکوٹ کے سلانی علاقے میں پینے کا پانی نایاب ہوگیاہے اور لوگ یادو گھوڑوں کے ذریعہ کئی کلو میٹر دور سے یاپھر گاڑیوں کے ذریعہ پانی خریدکر استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔علاقے میں پینے کے پانی کی شدید قلت پائی جارہی ہے جس کی وجہ سے مقامی آبادی پریشانی سے دوچار ہے۔اگر کہیں چشمے وغیرہ ہیں بھی تو ان میں پانی بہت کم اور طلب بہت زیادہ ہے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ محکمہ بجلی کی طرف سے بجلی فراہم نہیں ہورہی اور محکمہ پی ایچ ای بھی اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام ثابت ہورہاہے ۔ان کاکہناہے کہ فوجی اہلکار اورنگزیب کی ہلاکت کے بعد کچھ دنوں تک سوگوار خاندان کو پانی کی سپلائی گاڑیوں کے ذریعہ کی گئی لیکن اس کے بعد کوئی انتظام نہیں اور لوگ بوند بوند کو ترساں ہیں۔سابق نائب سرپنچ محمد حمید کاکہناہے کہ پانی کی قلت کی سب سے بڑی وجہ بجلی سپلائی کامتاثررہناہے۔انہوں نے کہاکہ لوگ کئی کلو میٹر دور سے گھوڑوں کے ذریعہ پانی لارہے ہیں یاپھر ٹریکٹر ٹرالیوں کے ذریعہ دو دو تین تین ہزار روپے پر پانی خرید رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بجلی کی سپلائی لائن بہتر بنائی جائے تاکہ پانی کی سپلائی میں کوئی مشکل پیش نہ ہو۔اس سلسلے میں اے ای ای مینڈھر کاکہناہے کہ ا ن کی کوشش ہوگی کہ پانی کی سپلائی بغیر کسی کٹوتی کے فراہم کی جائے ۔انہوںنے کہاکہ اگر بجلی فراہم رہے گی تو ان کے ملازمین کو سپلائی میں کوئی مشکل پیش نہیں رہے گی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ امسال خشک سالی کے باعث پورے خطہ پیر پنچال اور خاص طور پر مینڈھر علاقے میں پانی کی شدید قلت کاسامناکرناپڑرہاہے اور جہاں پانی کے قدرتی ذخائر سوکھ گئے ہیں وہیں لفٹ سکیمیں بھی ناکارہ بنتی جارہی ہیں۔