دینی خدمات ناقابل فراموش:ڈاکٹرفاروق وعمرعبداللہ،روحانیت کامجسم :محبوبہ ،ذاتی نقصان:الطاف بخاری
کپوارہ//سرکردہ عالم دین اور شمالی ضلع کپوارہ کے تبلیغی جماعت کے امیرمولاناپیر شمس الدین کا جمعہ دوپہر کومختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔90برس کے پیر شمس الدین مرحوم کا تعلق وادی لولاب کے سونہ نار گائوں سے تھا اورآپ ایک علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ پیر شمس الدین کے والد کا نام پیر عبد اللہ شاہ تھا اور وہ بھی اپنے وقت کے دیندار شخص تھے۔ آپ کے دوسرے برادربھی علم و تقوی سے آراستہ تھے ،جن میں پیر عبد العزیز شاہ جو عالم با العمل اور زہد و تقوی سے مزین ایک سادہ مزاج لیکن با اثر اور علمی شخصیت کے مالک تھے اور ان کے برادر اصغر غلام احمد شاہ جو پیشے سے ایک استاد تھے لیکن پوری زندگی دعوتِ تبلیغ میں گزارتے ہوئے فی الوقت لولاب وادی میں امارت کے منصب پرفائز ہیں لیکن کئی ماہ قبل وہ حادثہ کا شکار ہوئے جب سے وہ بستر علالت پر صاحبِ فراش ہیں۔پیر شمس الدین صاحب بچپن سے ہی ایک زبردست عابد زاہد تھے اور منفرد وجاہت کے مالک پیر صاحب ملنسار، خوش گفتار، باکردار اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ فارسی کی اہم کتابوں کا مطالعہ اپنے بردار مرحوم عبد العزیز شاہ سے کیا تھا اور فارسی کے اشعار ہمیشہ ازبر رہتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب منشی اللہ دتا صاحب نظر بزرگ کشمیر تشریف لائے ،پیر شمس الدین شاہ ان دنوں سوگام جامع مسجد میں امامت و خطابت کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ اس دوران بارہمولہ سے جب حضرت منشی اللہ دتا صاحب سوگا م لولاب تشریف لے گئے تو پیر شمس الدین صاحب کو اپنی نظر شفقت و عنایت سے نوازا اور ان کی شرافت ، متانت ،سنجیدگی ،بردباری ،مستقل مزاجی سادگی اور دین داری کو دیکھ کر فرمایا کہ مجھے میرا مطلوب مل گیا پیر صاحب بھی اپنے مربی کو پہچان گئے اور انہیں دیکھ کر بہت متاثر ہو ئے اور حضرت منشی صاحب کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اور تاحیات ان کے شریک سفر بنے چنانچہ پیر شمس الدین کوپہلے ہی سے اپنے علاقے میں ایک خاص خاندانی اثر موجود تھا ،اس وجہ سے جلد ہی عوام میں کافی مقبولیت حاصل کی۔ اس اثر اور مقبولیت نے دعوت و تبلیغ کے کام کو عوام میں متعارف کرنے میں کافی مدد دی ،جو منشی جی کے ہاں پیر صاحب کے زیادہ منظور نظر بننے میں ممد و معاون ثابت ہوئے۔پیر صاحب نے بڑی استقامت کے ساتھ اپنے آپ کو حضرت منشی جی کے ساتھ مربوط رکھا جس کی وجہ سے یہ دونوں حضرات ایک جان دو قالب ہوگئے اورجب منشی جی نے دہلی واپس جانے سے قبل بارہمولہ کے اس زمانہ کے تاشقند اڈہ کے اجتماع میں اعلان فرمایا کہ میں نے اپنے دو مریدوں یعنی پیر شمس الدین صاحب لولابی اور ولی محمد شاہ صاحب سوپوری کو خلافت دی ہے ۔لہذا میرے واپس جانے کے بعد اگر کوئی طالب ہمارے ساتھ تعلق جوڑنا چاہتا ہے تو وہ ان دو خلیفوں کی وساطت سے مجھ سے بیعت ہو سکتے ہیں۔مرحوم پیر شمس الدین گزشتہ کئی دہائیو ں سے کپوارہ میں واقع مسجد المرشدین میں قیام پذیر تھے اور وہا ں ہر ہفتہ دینی اجتما ع منعقد کرتے تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو دین اسلام کے بارے میں جانکاری دیں ۔انہو ں نے ہی مسجد المرشدین کی دا غ بیل ڈالی ۔مولانا کا تعلق ضلع کی حسین وادی لولاب سے تھا لیکن اپنے گھر بار کو چھو ڑ کر مولانا پیر شمس الدین نے بحثیت مسلمان دین اسلام کی خدمت کی اور آج بھی اسی کام کے لئے لوگو ں کی رہنمائی کرتے تھے۔انہو ں نے اپنے آخری خطاب میں کہا تھا کہ تبلیغی جماعت کا مقصد اپنے اندر اخلاق حسنہ اور دین داری کو پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرو ں کو بھی دین کی تلقین و فہمائش کرنا ہے جبکہ ایک مسلمان کی نجات کے لئے صرف اپنے عمل پر اکتفا کرنا کافی نہیں ہے بلکہ دوسرو ں کی فکر بھی ضروری ہے ۔مرحوم کا نما ز جنازہ بعد نمازمغرب کپوارہ میں ہی اداکیا گیا۔اُن کے نمازجنازہ کی پیشوائی تبلیغی جماعت کے امیرجموں کشمیرمولاناپرویزاحمد نے کی۔مرحوم کے نمازجنازہ میں ہزاروں لوگوںنے شمولیت کی جن میں علماء ،سیاسی رہنمااورسماجی شخصیات بھی شامل تھیں۔مرحوم کو مسجدالمرشدین کے صحن میں ہی سپردخاک کیاگیا۔
تعزیتی پیغامات
معروف عالم دین ،روحانی بزرگ اور تبلیغی جماعت ضلع کپوارہ کے امیرپیرشمس الدین کے انتقال پرسیاسی،سماجی اور مذہبی تنظیموں اورشخصیات نے دکھ اور افسوس کااظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لواحقین اورمریدین سے یکجہتی کااظہار کیا۔ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے مولانا پیر شمس الدین کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس سانحہ ارتحال پر مرحوم کے جملہ سوگواران کیساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور دعاکی کہ اللہ تعالی مرحوم کو جواررحمت میں جگہ دیں۔ دونوں لیڈران نے کہا کہ مرحوم کی دینی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ پارٹی کے سینئر لیڈران چودھری محمد رمضان، محمد اکبر لون، میر سیف اللہ، قیصر جمشید لون ،جاوید احمد ڈار اور کفیل الرحمن نے بھی اس سانحہ ارتحال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم پیر شمس الدین صاحب ایک عالم باعمل تھے اور انہوں نے پوری زندگی تبلیغ دین میں صرف کی ۔اس دوران پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے الحاج پیر شمس الدین کی وفات رنج و غم کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ موصوف کی شخصیت روحانیت کامجسم تھی اور اپنی زندگی اور عاجزی و انکساری سے بسر کی۔ انہوںنے کہا، ’’شمس الدین صاحب کی وفات سے مجھے دکھ پہنچا ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہوںکہ مرحوم کو جنت میں جگہ دیں اور لواحقین و مریدوں کو یہ ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کی توفیق عطافرمائیں‘‘۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ پیر صاحب ہمیشہ روحانی رہنمائی اور معاشرے کی خدمات کیلئے سماج میں یاد رکھے جائیںگے۔ادھراپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے روحانی پیشواالحاج پیر شمس الدین کی وفات کو اُن کیلئے ذاتی نقصان قرار دیتے ہوئے انہیں روحانیت، عاجزی اور احسان مندی کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’پیر صاحب نے اپنی پوری زندگی اسلامی تعلیمات کو عام کرنے ،روحانیت ، بھائی چارہ اور امن کو فروغ دینے کے لئے وقف کی،وہ وادی کشمیر کے اطراف واکناف میں رہنے والے لوگوں کیلئے اُمید وپیار کی کرن تھے‘‘۔ الطاف بخاری نے کہا،’’ پیر شمس الدین نے سادہ زندگی گذاری اور ضرورت کے وقت ہرکسی کی مدد کی‘‘ ۔ بخاری نے کہاکہ اُن کی وفات سے وسیع خلاء پیدا ہوا ہے جس کو پر کرنا بہت مشکل ہے ، اُن کو آنے والے وقت میں پرہیز گاری اور عومی خدمات کے لئے یاد کیاجائے گا۔ اپنی پارٹی صدر نے مزید کہا’’پیر صاحب کی وفات میرے اور میرے کنبہ کے لئے ذاتی نقصان ہے، میں غمزدگان خاص طور سے پیر عبدالرشید کے ساتھ دلی تعزیت کرتا ہوں، اللہ سے دعا گو ہوں کہ سوگوار کنبے اور اُن کے چاہنے والوں کو یہ صدمہ عظیم بردداشت کرنے کی ہمت عطا ہو۔ علما کرام وائمہ مساجد کے متحدہ فورم انجمن علما وائمہ مساجدجموں وکشمیر کے ترجمان کی طرف سے جاری ایک مشترکہ تعزیتی پیغام میں انجمن علما وائمہ مساجدجموں وکشمیر کے امیر حافظ عبد الرحمن اشرفی خادم دارالعلوم سید المرسلین چوگام قاضی گنڈ ،سرپرست اعلی مفتی محمد قاسم قاسمی امام وخطیب جامع مسجد کولگام،سکریٹری جنرل مفتی شیراز احمد قاسمی مہتمم دارالعلوم رحمانیہ سلیالوں ،صدر ضلع کپواڑہ مفتی بشیراحمد امام وخطیب جامع مسجد ریگی پورہ،ضلعی سرپرست کپواڑہ مفتی شفیق الرحمن چراغ مہتمم بڑکوٹ ہندوارہ ،سکریٹری ضلع کپواڑہ مولانا بلال احمد مہتمم مدرسہ البنات پنزگام، صدرامور مکاتب ضلع کپواڑہ مولانا منیر احمد پیر امام وخطیب جامع مسجد کاواری ہندوارہ ، مولانا عبد العزیز صفدر سرپرست ضلع سرینگر و مہتمم دارالعلوم امدادیہ نٹی پورہ ،مشیر مولانا محمد شفیع ترالی مہتمم دارالعلوم نورالقران سنگم ، صدر ضلع سرینگر مفتی محمد حسین امام وخطیب جامع مسجد حمزہ لال چوک ،مولاناغازی حسن مکی وغیرہ نے ، پیر شمس الدین صاحب کے انتقال کو سانحہِ عظیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ موصوف نے اپنی پوری زندگی دعوت وتبلیغ میں لگائی ہے جسکی وجہ سے ہزاروں افراد کودینی فائدہ پہنچا ۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کے چلے جانے سے دعوتی حلقوں میں جو خلا پیدا ہوا ہے اسکو پرکرنا مشکل ہے ۔علما کرام نے مرحوم کی مغفرت، جنت نصیبی اور لواحقین کے لئے صبرجمیل کی دعا کی ۔