۔ 3000سے زائد سکولوں میں10سے کم اور 146میں طلبا کی صفر تعداد
بلال فرقانی
سرینگر// جموں و کشمیر کے سینکڑوں سرکاری سکول خالی کلاس رومز کے غیر معمولی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے ساتھ پورے خطے میں ہائر سکنڈری سطح تک طلبا کے اندراج میں تیزی سے کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جولائی 2025 میں پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے تازہ ترین تخمینوں کے مطابق، یہ ایک ایسے خطے میں ہو رہا ہے جس میں سات سال اور اس سے زیادہ عمر کے لیے 82 فیصد شرح خواندگی ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ قومی اوسط 80.9 فیصد سے زیادہ ہے۔پرائمری سطح پر ڈراپ آئوٹ کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ حالیہ رپورٹس میں اسے پچھلے سالوں میں زیادہ اضافے کے مقابلے کی نسبت 1.5% سے 1.6% تک دکھایا گیا ہے ۔ اس کے برعکس، ثانوی مرحلے (کلاس 9-10) میں ڈراپ آئوٹ کی شرح 1.9% سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ اپر پرائمری سطح پر ڈراپ آئوٹ کی شرح بھی مستحکم ہوئی ہے، جو اکثر قومی اوسط سے کم ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 119 سکولوں میں اس وقت طلبہ کا داخلہ صفر ہے، جب کہ 16,179 سکولوں میں ہر ایک میں 50 سے کم طلبہ ہیں۔ اسی طرح، 848 سکولوں میں اس سال کوئی نیا اندراج نہیں ہوا، جس سے یونین ٹیریٹری میں پبلک ایجوکیشن نیٹ ورک کے مستقبل کے بارے میں سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔حالیہ برسوں میں، حکام نے وسائل کو معقول بنانے کے لیے تقریباً 4,400 سکولوں کو پہلے ہی بند یا ضم کر دیا ہے۔ پرائمری سکولوں کی تعداد بھی 12,977 سے کم ہو کر صرف 8,966 رہ گئی ہے، جس میں 30 فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ سرکاری سکولوں میں طلبا کے اندراج میں اعداد و شمار 2021-22 اور 2022-23 کے تعلیمی برسوںکے درمیان 1 لاکھ سے زیادہ طلبا کی کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔سرکاری سکولوں میں اندراج 2021-22 میں 27.18 لاکھ سے کم ہوکر 2022-23 میں 26.14 لاکھ رہ گیا۔ کم اندراج والے سکولوں میں 2026 تک، 3,192 سرکاری سکولوں نے 10 یا صفر سے کم طلبا کی اطلاع دی۔سرکاری شعبہ 28 ہزار طلبہ سے محروم ہوگیا ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق تعلیمی سال 2023-24سے 2024-25کے درمیان سرکاری سکولوں میں داخلہ 28,013 کم ہوا۔سرکاری سکولوں میں طلبہ کی تعداد 2023-24میں 13,84,849 تھی جو 2024-25میں کم ہو کر 13,56,836 رہ گئی۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری سکولوں میں کمی کی بڑی وجہ پرائمری سطح پر داخلوں میں گراوٹ ہے، جہاں تعداد 5,29,708 سے کم ہو کر 5,03,628 رہ گئی، یعنی 26,080 طلبہ کی کمی واقع ہوئی۔ اس کے برعکس پری پرائمری سطح پر معمولی اضافہ ہوا اور تعداد 1,80,261 سے بڑھ کر 1,85,385 تک پہنچ گئی، جبکہ ہائر سیکنڈری سطح پر بھی معمولی بہتری دیکھنے کو ملی اور تعداد 1,87,358 سے بڑھ کر 1,87,993 ہو گئی۔حالیہ رجحانات ایک پیچیدہ صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں بعض علاقوں میں داخلہ میں کمی اور کچھ سکولوں میں صفر داخلہ تک کی صورتحال سامنے آئی ہے۔ پرائمری سطح پر ڈراپ آئوٹ شرح میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو 2022-23کے 3.89 فیصد سے بڑھ کر 2023-24میں 8.87 فیصد ہو گئی ہے۔