نیوز ڈیسک
جموں//سیکرٹری صحت و طبی تعلیم بھوپندر کمار نے آج راشٹریہ بال سوستھیا کار یکرم( آر بی ایس کے ) کی عمل آوری اور جموں وکشمیر یوٹی میں ڈسٹرکٹ اَرلی اِنٹرونشن سینٹروں کے کام کاج کا جائزہ لیا۔میٹنگ میں مشن ڈائریکٹر این ایچ ایم جے اینڈ کے ایوشی سوڈان، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جموں ڈاکٹر سلیم الرحمان اور ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر مشتاق احمد راتھر نے شرکت کی۔مشن ڈائریکٹر این ایچ ایم جے اینڈ کے نے کہا کہ جموںوکشمیر یوٹی میں 216آر بی ایس کے موبائل ہیلتھ ٹیمیں ہیں۔ ہر میڈیکل بلاک کو دو وقف آر بی ایس کے موبائل ہیلتھ ٹیمیں فراہم کی گئی ہیںاور 18 برس تک عمر کے گروپ اِندراج شدہ بچوں کی صحت کی جانب کے لئے ٹرانسپورٹیشن کی مدد بھی فراہم کی گئی ہے ۔ ہر ٹیم میں 2 آیوش میڈیکل اَفسران ، ایک فارماسسٹ اور ایک اے این ایم شامل ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ 272بچوں کو مالی اِمداد فراہم کی گئی ہے ۔ یہ بھی جانکاری دی گئی کہ مالی برس 2022-2023 ء کے دوران آر بی ایس کے موبائل ہیلتھ ٹیموں سے اَب تک 68.70 فیصد سکولوں اور 45.2 فیصد آنگن واڑی مراکز کا احاطہ کیا گیا ہے۔سیکرٹری صحت و طبی تعلیم نے اِس بات پر زور دیا کہ راشٹریہ بال سوستھیا کاریا کرم ایک اِختراعی اور اہم پہل ہے جس میں چائلڈ ہیلتھ سکریننگ اور ابتدائی اقدام کی خدمات کا تصور کیا گیا ہے جو جلد شناخت اور دیکھ ریکھ ، مدد او رعلاج سے جڑنے کا ایک نظامی نقطہ نظر ہے ۔سکیم کی اِفادیت کا انحصار اِس بات پر ہوگا کہ اِستفادہ کنندگان کی آبادی کے صدفیصد کوریج کو مقررہ وقت میں یقینی بنایا جائے ۔ سکیم کے تحت مکمل کوریج کو یقینی بنانے کے لئے نامزد ٹیموں سے سکولوں اور آنگن واڑی سینٹروں کے دوروں کے لئے ایک جامع ایکشن پلان تیار کرنے کے لئے ہدایات جاری کی گئیں۔چیف میڈیکل آفیسر سے کہا گیا ہے کہ وہ سرمائی تعطیلات کو مد نظر رکھتے ہوئے بچوں کی سکریننگ کی حکمت عملی بنائیں۔ اِس کے علاوہ آنگن واڑی سینٹروں میں داخلہ لینے سے پہلے کی عمر کے تمام بچوں کی سال میں کم از کم دو بار سکریننگ کی جانی چاہیے۔ تمام نوزائیدہ بچوں کی صحت سہولیات میں ہی پیدائشی نقائص کی سکریننگ کی جانی چاہیے اور آشا گھر کے دورے کے دوران بھی اس کی نگرانی کی جانی چاہیے۔بھوپندر کمار نے اہداف کو مد نظر رکھتے ہوئے سکولوں او رآنگن واڑی سینٹروں کے دوروں کا ایکشن پلان تیار کرنے کی ہدایت دی تاکہ اس سکیم کے تحت صد فیصد سرکاری سکول او رآنگن واڑی سینٹروں کو لایا جائے۔چیئر مین ڈسٹرکٹ اَرلی اِنٹرونشن سینٹروں کو فعال بنانے پر زور دیتے ہوئے ہدایت دی کہ ڈسٹرکٹ ہسپتالوں او رجی ایم سی جموں / سری نگر میں قائم اِن مراکز کو مکمل طور پر فعال بنایا جانا چاہیے اور ان بچوں کو سنبھالنے او رمدد فراہم کرنے کے قابل ہونا چاہیے جن کی صحت کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ان اِستفادہ کنندگان کو علاج ، پیروی اور حوالہ جات مفت فراہم کئے جائیں جو سکیم کے دائرے میں آتے ہیں۔بھوپندر کمار نے مختلف شراکت داروں کے ساتھ تال میل سے سکیم کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ایک جامع او رفعال نقطہ نظر پر زو ردیا۔میٹنگ میں چیف میڈیکل اَفسران ، گورنمنٹ ایسی ایٹیڈ ہسپتالوں کے میڈیکل سپر اِنٹنڈنٹوں ، میڈکل کالجر ، سکمزصورہ او رڈسٹرکٹ ہسپتال اور دیگر متعلقین نے شرکت کی۔