سمت بھارگو
راجوری//جموںراجوری۔پونچھ قومی شاہراہ پر ہفتہ کی صبح اْس وقت خوف و ہراس کی صورتحال پیدا ہوگئی جب سرنکوٹ کے لسّانہ علاقے کے قریب ایک بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جس کے نتیجے میں شاہراہ مکمل طور پر بند ہوگئی اور دونوں جانب ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہوکر رہ گئی۔ اچانک پیش آئے اس واقعے کے باعث سینکڑوں مسافر اور تجارتی گاڑیاں سڑک پر پھنس گئیں جبکہ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اطلاعات کے مطابق صبح کے وقت پہاڑی کا ایک بڑا حصہ اچانک کھسک کر شاہراہ پر آ گرا۔ بھاری پتھر، ملبہ اور مٹی سڑک پر جمع ہونے سے گاڑیوں کی نقل و حرکت فوراً رک گئی۔ واقعے کے بعد شاہراہ کے دونوں طرف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور کئی مسافر گھنٹوں تک اپنی منزلوں تک پہنچنے کے انتظار میں سڑک پر ہی پھنسے رہے۔عینی شاہدین کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ اتنی شدید تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے پورا راستہ ملبے کے نیچے دب گیا۔ لوگوں میں اس وقت خوف کی لہر دوڑ گئی جب پہاڑ سے مسلسل پتھر گرنے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
کئی مسافروں نے گاڑیوں سے باہر نکل کر محفوظ مقامات کا رخ کیا۔انتظامیہ کو واقعے کی اطلاع ملتے ہی شاہراہ کی توسیع اور اپ گریڈیشن کے کام میں مصروف متعلقہ ایجنسی کے اہلکار اور مشینری فوری طور پر موقع پر روانہ کی گئی۔ جے سی بی مشینوں اور دیگر بھاری آلات کی مدد سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا گیا۔ مسلسل کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد شاہراہ کو جزوی طور پر بحال کیا گیا اور ٹریفک کی آمد و رفت دوبارہ شروع کر دی گئی۔سرنکوٹ کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ فاروق خان نے میڈیا کو بتایا کہ لینڈ سلائیڈنگ کے دوران پہاڑی کا ایک بڑا حصہ اور بھاری پتھر شاہراہ پر آ گرے تھے، جس کی وجہ سے راستہ مکمل طور پر بند ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خوش قسمتی سے واقعے کے وقت کوئی گاڑی متاثرہ مقام سے گزر نہیں رہی تھی، ورنہ بڑا جانی نقصان ہوسکتا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں بارشوں کے باعث پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ادھر مسافروں نے شاہراہ کی بار بار بندش پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حساس مقامات پر حفاظتی اقدامات مزید سخت کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جموں-راجوری-پونچھ شاہراہ پہاڑی علاقوں کی اہم رابطہ سڑک ہے اور اس کی بندش سے روزمرہ زندگی، تجارتی سرگرمیوں اور سفری نظام پر شدید اثر پڑتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ مون سون سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی خطے میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، جس کے باعث شاہراہوں پر سفر کرنے والے لوگوں کو احتیاط برتنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔