راجوری // نوشہرہ کے سرحدی گاؤں سے حالیہ گولہ باری کے بعد نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو کیمپوں میں مشکلات حالات کاسامناہے ۔اگرچہ انہیں انتظامیہ کی طرف سے دال ، چاول اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء ملتی ہیںلیکن ان کو پکانے کیلئے نہ ہی برتن ہیں اور نہ ہی کوئی دیگر سازوسامان۔ڈپٹی کمشنر راجوری سے ملاقات کو آئے ان مہاجرین نے ضلع انتظامیہ کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات کو ناکافی بتاتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ راشن توفراہم کررہی ہے تاہم اس کے پکانے کے لئے ان کے پاس ضروری سازوسامان موجود نہیں اور جو راشن فراہم کیا جاتا ہے، اس میں دال چاول ہی ہیںاورنہ ہی ہلدی ،مرچی،نمک اورنہ ہی تیل جیساضروری سامان فراہم کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں روز روز کی پریشانی سے نجات دلائی جائے اور ریاستی حکومت وہ وعدے پورے کرے جو ان کے ساتھ کئے جاتے ہیں ۔ ان کاکہناتھاکہ انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح کمروں میں رکھاتاہے جہاں اس گرمی کے موسم میں ان کا جینا دشوار ہوگیاہے ۔ان سرحدی متاثرین نے کہاکہ ان سے حکومت نے وعدہ کیاتھاکہ محفوظ مقامات پر پانچ پانچ مرلے کا پلاٹ دیاجائے گالیکن اب ا ن کو پوچھنے بھی کوئی نہیں آتا۔ اس دوران ان لوگوں کے ایک وفد نے ڈپٹی کمشنر راجوری سے بھی ملاقات کرکے انہیں اپنے مسائل سنائے ۔