تبصرہ
سبزار احمد بٹ
وادیٔ کشمیر مختلف اعتبار سے اپنی ایک منفرد پہچان رکھتی ہے۔ اس حسین سرزمین نے ایسے عظیم انسان پیدا کیے ہیں جنہوں نے دینی، علمی، ادبی اور فکری میدانوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ دینی اعتبار سے ایسی جلیل القدر شخصیات نے جنم لیا جنہوں نے اپنے علم و فضل کا ڈنکا بجایا، اور ادبی منظرنامے پر بھی ایسے نام ابھرے جنہوں نے مختلف اصنافِ ادب میں اپنی مضبوط موجودگی درج کرائی۔
عصرِ حاضر میں بھی کشمیر کے سپوت مختلف اصناف سخن کو اپنے خون سے آبیاری کر کے اپنی ادب نوازی کا ثبوت پیش کر رہے ہیں ۔ عصر حاضر کے افسانہ نگاروں میں ڈاکٹر ریاض توحیدی ایک منفرد اور معتبر نام ہیں۔ موصوف سے میری ملاقات اگرچہ صرف ایک بار ہوئی وہ بھی آدھی ادھوری ، تاہم ان کے ادبی فن پارے سوشل میڈیا اور ادبی حلقوں میں مسلسل زیرِ بحث رہتے ہیں۔ ملکی سطح پر ان کے افسانوں پر ہونے والی گفتگو نے مجھے ان کی تخلیقات کے مطالعے پر مزید آمادہ کیا۔ حال ہی میں ان کا افسانوی مجموعہ “زندگی کا بازار” موصول ہوا، جسے انور مرزا صاحب نے مرتب کیا ہے۔ یہ مجموعہ مختلف النوع موضوعات پر مشتمل ایسے افسانوں کا گلدستہ ہے جو فکری گہرائی اور فنی پختگی کا واضح ثبوت ہے۔
ڈاکٹر ریاض توحیدی کے بیشتر افسانے اپنی زمین، تہذیب اور معاشرتی پس منظر سے گہرا رشتہ رکھتے ہیں۔ ایک کامیاب ادیب کی یہی پہچان ہوتی ہے کہ وہ جس سماج میں سانس لیتا ہے، اس کی خوبیاں اور خامیاں اس کے فن پاروں میں فطری طور پر منعکس ہوں۔ بصورتِ دیگر ادب محض الفاظ کا کھیل بن کر رہ جاتا ہے۔
اس مجموعے میں شامل طویل افسانہ ’’پوش کالونی کے ویران کھنڈر‘‘ قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ یہ افسانہ ہمارے معاشرے کے کئی پوشیدہ مگر تلخ پہلوؤں کو بے نقاب کرتا ہے۔ بظاہر چمک دمک والی زندگی کے پیچھے چھپی ٹوٹ پھوٹ، بکھرتا ہوا خاندانی نظام اور کمزور ہوتے رشتے پوری شدت سے سامنے آتے ہیں۔ یہ وہ حالات ہیں جو کبھی مغربی معاشروں سے منسوب کیے جاتے تھے، مگر ڈاکٹر توحیدی نے بروقت خبردار کیا ہے کہ اب یہ المیہ ہمارے شہروں، ہماری پوش کالونیوں اور ہماری زندگیوں کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ اگر ہم نے رشتوں کی قدر، اقدار کی پاسداری اور بچوں کی تربیت پر توجہ نہ دی، اور مادیت پرستی سے منہ نہ موڑا، تو وہ دن دور نہیں جب یہی حال ہمارے گاؤں دیہات کا بھی ہوگا۔
افسانہ ’’ڈیوڑ سیارہ‘‘ بظاہر ایک سائنسی افسانہ ہے، جس میں ٹیکنالوجی کی بے پناہ ترقی اور ایک ایسے سیارے کی خواہش کو پیش کیا گیا ہے جہاں موت کا کوئی تصور نہ ہو۔ مگر افسانے کے اختتام پر تمام سائنسی دعوے دم توڑ دیتے ہیں اور یہ پیغام اُبھرتا ہے کہ انسان خواہ کتنی ہی ترقی کر لے، فنا اس کا مقدر ہے اور کائنات کا نظام کسی اور ہی طاقت کے ہاتھ میں ہے۔
اسی طرح ’’ایکٹیو لائف‘‘ میں بھی سائنسی ترقی کے پردے میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ خالقِ کائنات کی تخلیق کے سامنے انسانی ایجادات کی حیثیت محدود ہے۔افسانہ ’’سنگ باز‘‘ میں ظلم و جبر کی داستان کو بڑی ہنرمندی سے بیان کیا گیا ہے۔ گلستان اور بوستان جیسے کردار اُمید کی کرن بن کر اُبھرتے ہیں۔ افسانے کا اختتام ان سطور پر ہوتا ہے:’’ماں! مجھے میرا زخمی دوست علاج کے لیے بلا رہا ہے۔ اس کے جسم سے خون بہہ رہا ہے۔ ماں! مایوس مت ہو، اندھیرا بھاگ رہا ہے اور اجالا آرہا ہے۔‘‘
افسانہ ’’گلوبل جھوٹ‘‘ میں کند ذہن اور مکار لوگوں کی منافقت اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوششوں پر بھرپور طنز کیا گیا ہے۔ ’’گمشدہ سرمایہ‘‘ والدین کی قربانیوں اور اولاد کی بے حسی کی دردناک تصویر پیش کرتا ہے، جہاں غفار خان کا سرد ہوتا جسم ہمارے اجتماعی ضمیر کے سرد پڑنے کی علامت بن جاتا ہے۔’’سفید ہاتھی‘‘ ایک علامتی اور مزاحمتی افسانہ ہے، جس میں بے حس قوم پر مسلط طاقتوں کو بڑی خوبصورتی سے دکھایا گیا ہے، اور افسانہ نگار قوم کو اس کے شاندار ماضی کی یاد دہانی کراتے ہوئے بیدار کرنے کی کامیاب کوشش کرتا ہے۔’’ناکہ بندی‘‘ ایسا افسانہ ہے جو قاری کے دل کو چیر کر رکھ دیتا ہے۔ بشیر ملک کا دودھ کا ڈبہ بیچ کر اپنے بچے کے لیے کفن خریدنا انسانی المیے کی انتہا ہے۔’’جشنِ قبرستان‘‘ میں دادا جی بچوں کو ظلم و جبر کی ایک ہولناک داستان سناتے ہی نہیں بلکہ انہیں اس کا مشاہدہ بھی کراتے ہیں اور آخر پر دادا جی ان بچوں کو اس ظلم و جبر سے نکلنے کا راستہ بھی دکھاتے ہیں۔’’ٹوٹتی جوانیاں‘‘ ایک مختصر مگر بھرپور مزاحمتی افسانہ ہے۔’’ہوم لینڈ‘‘ ایک بڑے تاریخی المیے کو نئے زاویے سے پیش کرتا ہے، ایسا نہیں ہے کہ اس موضوع پر اس سے پہلے نہ لکھا گیا ہوا لیکن توحیدی صاحب نے چند ایسے حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے جن کی پردہ داری کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ’’ببول کے کانٹے‘‘ میں سیاسی چال بازیوں پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔اس کے علاوہ اس افسانوی مجموعے میں وفادار پیڑ، ماحول بچاؤ، اصلی روشنی اور کالا چوہا جیسے شاندار افسانے شامل ہیں مجموعی طور پر ’’زندگی کا بازار‘‘ میں زیادہ تر افسانے مزاحمتی ہیں، تاہم رومانی اور علامتی رنگ بھی نمایاں ہے۔ ڈاکٹر ریاض توحیدی نے نہایت حساس موضوعات کو علامت و استعارے کے پردے میں بڑی فنی چابکدستی سے پیش کیا ہے۔ چونکہ وہ خود وادیٔ کشمیر کے ایک ذی حس باشندے ہیں، اس لیے ان کے افسانوں میں جگہ جگہ زخم بھی نظر آتے ہیں اور مرہم کی کوششیں بھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس افسانوی مجموعے پر پروفیسر قدوس جاوید اور اظہار خضر نے اپنے خیالات کا اظہار کر کے اس افسانوی مجموعے کو مزید معتبر بنایا ہے ۔
رابطہ۔7006738436