نئی دہلی//مرکزی وزیرمملکت برائے وزارت ترقی شمال مشرقی خطہ ڈاکٹرجتندرسنگھ سے ’’سیوشارداکمیٹی کشمیر‘‘ نے استدعاکی ہے کہ وہ پاکستانی مقبوضہ کشمیرکے ضلع مظفرآبادمیں واقع شارداپیٹھ یاتراکوشروع کرائیں۔ یہ یاترا1948 میں بندکردی گئی تھی ۔اس سلسلے میں کشمیری ہندورُکن رویندرپنڈتاکی قیادت میں ایک وفدنے مرکزی وزیرسے ملاقات کی اوران سے اس یاتراسے متعلق متعدد پہلوئوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیااورکہاکہ ڈوگرہ مہاراجوں کے دورِ اقتدار میں یہ یاترا احسن طریقے سے جاری تھی مگرآزادی کے بعداسے بندکردیاگیا۔ ڈاکٹرجتندرسنگھ نے وفدکوبتایاکہ وہ اس معاملے سے بخوبی آگاہ ہیں اوراس ضمن میں کئی میٹنگیں بھی ہوچکی ہیں ۔اس یاترا کوپھرسے شروع کرنے کے لئے مختلف سطحوں پرغوروخوض کیاجارہاہے اورمرکزی وزارتوں برائے داخلہ ودفاغ اورمتعددسیکورٹی ایجنسیوں کی کلیئرنس لازمی ہے۔دریں اثناکشمیر پنڈتوں کی ایک نمائندہ تنظیم نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے کہا ہے وہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں واقع قدیم شاردا مندرکی یاترا پر جانے کا معاملہ مرکزی سرکار کے ساتھ اٹھائے۔ حقیقی کنٹرول لائین کے نزدیک دریائے نیلم کے ساتھ واقع شاردا گائوں میں واقع یہ مندر صدیوں پہلے علم و ہنر کا گہوارہ رہا ہے۔اس سلسلے میں گزشتہ ہفتہ آل پارٹیز مائگرنٹس کارڈی نیشن کمیٹی کے ایک وفد نے ایم ایل اے رمیش اروڑہ کی قیادت میں محبوبہ مفتی سے ملاقات کی تھی اور یہ معاملہ مرکزی سرکار کے ساتھ اٹھانے کی استدعا کی تھی کارڈینشن کمیٹی نے امید ظاہر کی کہ ریاستی سرکار یہ معاملہ جلد مرکز کے ساتھ اٹھائے گی تاکہ یہاں کے ہندوشاردا مندر کے درشنوں کے لئے پی او کے جاسکیں۔