جنیوا// بھارت کو سرحد پار سے ڈرون کے ذریعہ غیر قانونی ہتھیاروں کی سپلائی سے ایک’سنگین چیلنج‘کا سامنا ہے کی بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں بھارت کی مستقل مندوب روچیکا کمبوج نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے حاصل کیے گئے چھوٹے ہتھیاروں کے حجم اور معیار میں اضافہ ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے کہ وہ ریاستوں کی سرپرستی یا حمایت کے بغیر قائم نہیں رہ سکتے۔ مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ” بین الاقوامی امن اور سلامتی کیلئے خطرات ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی برآمدات کو منظم کرنے والے معاہدوں کی خلاف ورزیوں سے پیدا ہونے والے خطرات” پر کھلی بحث سے خطاب کرتے اقوام متحدہ میں بھارت کی سفیر روچیرا کمبوج نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ ‘مشکوک پھیلائو کی سندیں رکھنے والی بعض ریاستیںجو دہشت گردوں کے ساتھ ملی ہوئی کو ان کے بداعمالیوں کیلئے جوابدہ ہونا چاہئے۔ اقوام متحدہ میں بھارت کی مستقل ایلچی نے یہاں پاکستان کے حوالے سے واضح طور پر کہا کہ بھارت کو ڈرون کے ذریعے غیر قانونی ہتھیاروں کی سرحد پار سے سپلائی کے ایک ”سنگین چیلنج ”کا سامنا ہے، جو ریاستی حکام کی فعال حمایت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ”بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہتھیاروں اور فوجی ساز و سامان کی برآمد، جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو بڑھاتے ہوئے، نظر انداز نہیں کیا جا سکتا”۔انہوں نے کہا کہ ان خطرات کی تعداد اس وقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے جب مشکوک پھیلائو کی سندوں کے ساتھ کچھ ریاستیں، اپنے نقاب پوش پھیلائو کے نیٹ ورکس اور حساس سامان اور ٹیکنالوجیز کی فریب کارانہ خریداری کے طریقوں کے پیش نظر، دہشت گردوں اور دیگر غیر ریاستی عناصر کے ساتھ ملی بھگت کرتی ہیں”۔کمبوج نے کہا”مثال کے طور پر، دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے حاصل کیے گئے چھوٹے ہتھیاروں کے حجم اور معیار میں اضافہ ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے۔
کہ وہ ریاستوں کی سرپرستی یا حمایت کے بغیر قائم نہیں رہ سکتے”۔ مزید بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے تناظر میں ہمیں ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی ہتھیاروں کی سرحد پار سے سپلائی کے سنگین چیلنج کا سامنا ہے، جو ان علاقوں کے کنٹرول میں حکام کے فعال تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔ سرحد پار سے ڈورن کے ذریعہ ہتھیاروں کی سپلائی کاتازہ ترین واقعہ یکم اپریل کو رپورٹ کیا گیا جب بی ایس ایف نے کہا کہ اس کے فوجیوں نے جموں میں بین الاقوامی سرحد کے ساتھ ایک مشتبہ پاکستانی ڈرون پر فائرنگ کی۔ مارچ کے وسط کے بعد سے یہ دوسرا واقعہ تھا۔کمبوج نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ اس طرح کے رویے کی مذمت کریں اور ایسی ریاستوں کو ان کی بداعمالیوں کے لیے جوابدہ ٹھہرائیں۔