سرسید احمد خاں مرحوم ایک مصلح ِقوم ،ماہرِتعلیم،دیدہ ور سیاسی مدبر،مذہبی مفکر ، ایک اعلی پایہ کے انشاء پرداز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بے خوف اور غیر جانبدار صحافی کے طور پر بھی مقبولیت رکھتے ہیں ۔ وہ نہ صرف قوم کی اصلاح کے کوشاں تھے بلکہ اپنی دانشوری کا ثبوت دے کر انھوں نے اردو ادب کے میدان میں بھی کار ہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ انھوں نے اردو صحافت کے شجر کو اپنے خون ِ جگر سے سینچا ۔ انھوں نے اخبارات کو محض خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ معاشرے کی اصلاحی عمل میں اخبار ات کو اولیت دے دی۔
تاریخ ہند میں غدر یا پہلی جنگِ آزادی سے جہاں مختلف شعبہ ٔ جا ت کو نقصان پہنچا،وہیںصحافت کو بھی نقصان اُٹھانا پڑا،ایسے وقت میںسرسید نے اردو صحافت کو نہ صرف سُہارا دیا بلکہ اِسے دَم توڑنے سے بچائے رکھا۔ اردو صحافت پر اُن کے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر مسعودر’’اردو صحافت ۱۹ ویں صدی میں’’میںلکھتے ہیں:
’’۔۔۔نئے اخبارات کے اجرا کے باوجود بھی حالات اردو صحافت کے حق میں ہموار نہیں ہوئے تھے اور بہ ظاہر اس کا مستقبل تاب ناک دِکھائی نہیں دیتا تھا اور بہت ممکن تھا کہ مسلمان کے زوال کے ساتھ یہ اخبارات بھی رفتہ رفتہ دَم توڑدیتے اگر سرسید احمد خان کی شخصیت حالات کا رُخ موڑنے کے لیے میدانِ عمل میں کود نہ پڑتے‘‘ ۔
سرسید نے ۱۸۵۷ء میں اردو صحافت کی عمارت کو ایک مضبوط ستون کی طرح کندھا دیکر گرنے سے بچا یا۔ صحافت کے میدان میں سر سید کا کوئی کار ہائے نمایاں انجام دینا مقصود نہیںتھاالبتہ مسلمانوں کی زبو حالی کو دُور کرنے کے لیے وہ ہمیشہ کوشاں رہتے تھے ۔ وہ ہمیشہ مسلمانوں کی حیثیت اور اُن کے کھوئے ہوئے وقار اور عزت کی باز یافتی کے متلاشی تھے۔ مسلمانوں کے تئیں مختلف غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کے لیے انھوںنے صحافت کا راستہ اختیار کیا ،جس سے نہ صرف اُن کے مقصد کو تقویت ملی بلکہ اردو صحافت کو بھی بڑی حد تک فائدہ پہنچا۔
سرسید نے نہ صرف مسلمانوں کے سماجی و معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوششیں کیں بلکہ بہ حیثیت صحافی اردو صحافت کی زبان کو ایک نئے قالب میں ڈھال لینے اور اسے ہمعصر انگریزی صحافت کے ہم رتبہ کھڑاکر نے کی بھر پور سعی کی۔دراصل سرسید کی شخصیت میں صحیفانہ شعو رکے محرک ’’اسپکٹیٹر‘‘ اور ’’ٹیٹلر‘‘ رسائل بنے جو انگلستان میں ویسے ہی مسائل کا ازلہ کرنے کے لیے نکالے گئے تھے جن مسائل سے اُس دور کاہندوستان دو چار تھا۔ جس طرح اِن دو رسائل نے انگلستان میں انقلاب برپا کیا تھاٹھیک ویسے ہی سر سیدکے صحافت کا راستہ اختیارنے سے سر سید ایک ایسے انقلاب کے خواہاں تھے جس سے پژمردہ قوم کو جگایا جا سکے، جس سے قومی یک جہتی ، ترقی اور فلاح و بہبود کے راستے کھل جاتے۔ اور تو اورمسلمانوں کی زبو حالی اور اُن کے کھوے ہوئے وقار کو وآپس دِلانے کے لیے اُنھیں صحافت کی طرف رجوع کرنا پڑا۔
سر سید کی صحیفانہ شخصیت کا جب مطالعہ کرتے ہیں تووہ سب خصوصیات اُن میںبدرجہ اتم موجود نظر آتی ہیںجو ایک صحافی میں ہونی چاہیے ۔ صحافی اپنے ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔وہ متنوع انداز فکر کا جائزہ پیش کرتا ہے اور تازہ رائے عامہ کا دلسوزی سے جائزہ لے کر اپنی ہم عصر دنیا کی ترجمانی کرتا ہے۔سر سید بھی اپنے گرد و نواح کا جائزہ لے کر متنوع مسائل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرتے تھے۔ عوام الناس کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں تھے اور معاشرے میں شر پسند عناصر کی طرف انگشت نمائی کر کے عوام کو آگاہ کراتے تھے۔ اس صورت میں سر سید ایک ترجمان، معاشرے کا بہترین نباض اور متعدد اندازِ فکر رکھنے والے شخص نظر آتے ہیں۔ سر سید دُنیائے ادب میں پہلے شخص ہیں جنھوں نے مسلمان قوم کو سُدھارنے کے لیے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی ناراضگی سہی، اتنا ہی نہیں بلکہ اُن کو’’کرسٹان‘‘ اور انگریزوں کا حامی قرار دیا گیا ۔ سر سید نے ایک حقیقی ترجمان کی طرح مسلمانوں کے مستقبل کے لیے اپنی طبیعت سے بغاوت کر کے انگریزوں سے دوستی کرکے کئی مسلمانوں کی جانیں بھی بچائیں۔
سرسید صحافت کے اُصول و قوانین سے مکمل طور پرواقف نظر آتے ہیں۔ وہ ایک پختہ کار صحافی کی طرح آزادی رائے کا احترام کرتے تھے اور وہ غور و فکر کے بعد کسی بھی چیز کے تعلق سے اپنی رائے قائم کر لیتے تھے اور اُس کا اظہار بے خوف ہو کر کر دیتے تھے جس کا انداز ہ’’ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘‘ اور رسالہ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کے مضامین سے ہوتا ہے ۔ مضمون ’’اخبار نویسوں کی آزادی کیا چیز ہیـ ؟‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’آزادی ہمارے نزدیک اس نبات کا نام ہے کہ کسی اخبار نویس کی طبیعت صاف گوئی اور راست بازی میں کسی کی غلام اور تابعدار نہ رہے‘‘
یہی وجہ ہے کہ سر سید نے آزادی رائے کی خاطر انگریزی حکومت سے اچھے مراسم ہونے کے با وجود بھی اردو صحافت پر لگی ہوئی پابندیوں کو کھبی برداشت نہیں کیا اور یہی ایک حقیقی اور نڈر صحافی کی علامت ہوتی ہے۔ حالاں وہ اگر چاہتے تو انگریزوں کے ساتھ اچھے مراسم ہونے کا فائدہ اٹھالیتے مگر اُنھوں نے ہر وقت بے غرض ہو کر مسلمانوں کے کھوئے ہوئے منصب کی باز یافتی کے لیے کام کیا ہے۔ وہ اپنی بات بے خوف ہو کر کہتے تھے۔ چناں چہ صحافت میں بھی انھوں نے اس رویے کو برقرار رکھا اور نڈر ہو کے سچائی کا ساتھ دے کر اکیلے مسلمانوں کی طرف سے انگریزوں کی مسلمانوں کے تئیں غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے رہے۔
صحافت کے میدان میں سر سید نے دو اہم کارنامے انجام دیئے ہیں ،ایک ’’ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘‘(۱۸۶۶ء) جسے’’ اخبار سائنٹفک سوسائٹی‘‘ بھی کہا جاتا ہے اور دوسرا رسالہ’’ تہذیب الاخلاق‘‘ جس کا اجرا ۱۸۷۰ء میں ہوا۔ مقدم الذکر میں خبریں ہونے کے علاوہ وقت کے دیگر اہم مسائل پر مضامین لکھے جاتے تھے اور موخر الذکر میں سیاسی، معاشی، سماجی اور اقتصادی مسائل کے حوالے سے مضامین لکھے جاتے تھے۔
۱۸۵۷ء سے قبل اردو ادب کی طرح اردو صحافت میں بھی مقفع اور مسجع نثرہی مروج تھی مگر سر سید اردو ادب کے اولین ادیب ہیں جنھوں نے نہ صرف ایسی نثر کی مخالفت کی بلکہ عملی ثبوت سے یہ وا ضح کر دیا کہ عام اور سہل زبان میں بھی اچھا ادب لکھا جا سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سر سید نے نہ صرف اخبار کے ذریعے اپنی بات عوام الناس تک پہنچائی بلکہ روایتی اندازِ نگارش اور لفظی بازیگری کو خیر باد کہہ کر صحافت کی زبان کو سادگی ،متانت اور جامیعت کے عناصر سے مالامال کر دیا۔ اس اخبار نے ایک طرف جدید تعلیم کو فروغ دینے میں اہم کردار نبھایا اور دوسری طرف سلیس ، سادہ اور عام فہم زبان میں نثر لکھنے کی روایت کا آغاز ہوا۔ ایک اور کارنامہ اس اخبار کا یہ ہے کہ اداریہ لکھنے کا رواج عام ہوا، حالاں کہ اس سے پہلے اداریہ لکھا جاتا تھا لیکن اہمیت کچھ زیادہ نہ تھی لیکن سر سید نے اداریہ پر زیادہ زور دے کر صحافت کی دنیا میں اداریہ کی اہمیت کو واضح کر دیا۔
اردو صحافت آج پورے آب و تاب کے ساتھ ترقی کے بلند معیاروں کو چھو رہی ہے مگر اردو صحافت کے مورخ کو صحافت کی تاریخ رقم کرتے وقت سر سید کی صحافتی خدمات سے چشم پوشی کرنا نا انصافی ہوگی۔سر سید نے ہر وقت اپنی صحافت میں واقفیت، علمیت اور افادیت کو پیش نظر رکھا اور اخباروں کو محض خبروں کا ذریعہ نہ بنا کر عصری تقاضوں کو پورا کرنے کی کوششیں کیں۔انھوں نے اپنی صحافتی زندگی میں عصری مسائل کو اجاگر کر کے سنجیدگی کے ساتھ ملک کی بھلائی اور عوام کی بہتری کے لیے کام کیا ہے۔ جس کا ضامن ’’تہذیب الاخلاق‘‘ اور ’’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘‘ ہے۔ یہی وہ اخبار ہے جس نے اردو صحافت کو ایک اونچا معیار بخشا اور آداب صحافت میں پوشیدہ عناصر کو منکشف کرکے صحافت کو ایک اعلا معیار عطا کیا ہے۔ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ نے آزادی رائے، سنجیدگی اور اخبار نویسی کے مختلف آداب کو سمجھانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔
اردو صحافت کے میدان میں سر سید نے ’’گزٹ ‘‘ کے ذریعے سے نہ صرف اردو نثر کی صلاحیتوں کو واضح کرنے میںکار ہائے نمایاں انجام دیئے بلکہ ایک صحافی میں تحقیق و احتساب اور حقیقت پسندی کا جذبہ پیدا کرنے میں بھی اہم رول ادا کیا ہے۔ انھوںنے اردو صحافت کو صحیفہ نگاری کے حدود سے باہر نکالا اور خبروں کے ساتھ ساتھ معاشرے میں رونماں ہونے والے حالات و واقعات کی ترجمانی کرنے کا سلیقہ بھی سکھا یا ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ صحافتی ادب کی زبا ن کو کیسا ہونا چاہیے اُس کا بھی عملی نمونہ پیش کر دیا ۔حالانکہ اُن کا ماننا تھا کہ دقیق اور مشکل زبا ن کی بجائے عام اور سہل زبان کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا جائے تاکہ وہ بات عام قاری تک پہنچ جائے جو ایک صحافی پہنچانا چاہتاہو اور اُسی کا عملی نمو نہ انھوں نے ’’ گزٹ‘‘ اور رسالہ’’ تہذیب الاخلاق‘‘ کے طور پر پیش کیا۔’’ گزٹ‘‘ کی خصوصیات کی روشنی میں ڈاکٹر طاہر مسعود نے سر سید کی صحافتی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ ‘‘ نے اخبار کی تمام اصناف میں قابلِ لحاظ جدتیں اور تبدیلیاں پیدا کیں۔ خبر نویسی کی تکینک ، مضامین اور ادایوں کی زبان ، موضوعا ت کا انتخاب ، معروضیت کا اہتمام ، احساسِ ذمہ داری، تنوع، خبروں کی ترسیل میں عجلت اور تیزی ، آزادی رائے ،مغربی علوم کی اشاعت غرض کہ اردو اخبارات کے لیے نمونہ تقلید بھی ہوا‘‘ بحیثیت صحافی سر سید ایک معتبر، حقیقت پسند اور غیر جانبدارانہ شخصیت کے مالک تھے ۔حالانکہ صحافت میں انھوں نے ایک الگ راہ یہ نکالی تھی کہ خبریں بڑی حد تک معروضی ہوتی تھیں اور زیا دہ زور گردوپیش کے مسائل پر دیا جاتا تھا جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ سر سید نے صحافت کو ایک پیشہ کے طور نہیں بلکہ اپنی بات اور اپنے اصل مقصد سے لوگوں کو آگاہ کرانے کے لیے ایک بہترین اور موثر ذریعہ اظہار کے طور پر اپنایا۔ جس سے نہ صرف انھیں اپنے مقاصد میں کامیابی ملی بلکہ اردو صحافت کے جمود کو بھی توڑ دیا ۔ اپنے مخصوص مقصد کو انجام دینے کے ساتھ ساتھ انھوں نے اردو صحافت کی زبان اور طرزِ نگارش کے ساتھ ساتھ ایک اچھے اور حقیقی صحافی کی خصوصیات گنا کر اخبار میں خبروں کے علاوہ سماجی مسائل پر مشتمل مضامین کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
سر سید ایک اچھے مضمون نگار کے ساتھ ساتھ ایک اچھے ایڈ یٹر بھی ر ہے ہیں انھوں نے نہ صرف اردو صحافت کو اپنے خاص مقصد کے لیے استعمال کیا بلکہ ایک نباض کی طرح اردو صحافت کی کمیوں کو بھی دُور کیا ہے، حا لانکہ وہ خود ایک اچھے اداریہ نویس بھی تھے ۔سرسید چوں کہ زبان کی خوبیوں کی طرف کم اور مفہوم کی طرف زیادہ توجہ دیتے تھے۔ وہ اپنی بات قوم کے ہر فرد تک پہنچانا چاہتے تھے لیکن اس کے لیے انھیں ایک ایسی زبان کا انتخاب کرنا پڑا جس کو سمجھنے میں کوئی دقت نا ہو۔ لہٰذا انھوں نے اداریوں کی زبان سیلس اور عام فہم بنا دی۔ جس سے ایک طرف اُن کا مقصد پورا ہوگیا اور دوسری طرف سلیس اور عام فہم زبان میں اداریہ لکھنے کا رواج بھی عام ہوا۔
سر سید صحافت کی اہمیت سے بہ خوبی واقف تھے اور وہ اخبار کو قومی ترقی ،ملکی بھلائی اور عوام کی رہنمائی کا ایک بہترین ذریعہ قرار دیتے تھے۔ وہ ایک صحافی سے غیر جانبدارانہ طور پر اپنے فرائض انجام دینے اور بے خوفی و بے تعصبی اور بے غرضی سے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔ سر سیدکی صحافت میں صداقت،بے خوفی اور بے غرضی نمایاں خصوصیات کے طور پر اُبھرتی ہیں۔انھوں نے ایک صحت مند صحافت کی بنیاد ڈالی ۔
سر سید نے اردو صحافت کے معیار کو انگریزی کے معیار پر لانے کے لیے ممکنہ حد تک کوششیں کیں اور اس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی رہے ۔غدر کے سانحہ کے بعد ملک کی جو صورتحال تھی اس کے پیش نظر انھوں نے اپنے اخبار کے ذریعے ایک طرف اپنی قوم کو ترقی کی منزلوں پر گامزن کرنے اورتوہم پرستی اور روایت پرستی کے دلدل سے باہر لانے کے لیے نہ صرف مضامین لکھے بلکہ سیاسی، سماجی،اقتصادی و معاشرتی مسائل کی طرف بھی توجہ دی اور دوسری طرف اردو صحافت کو بھی وسعت دینے میں ہر ممکنہ کوشش کرتے رہے۔سرسید نے اخبار نویسی میں صاف گوئی اور راست گوئی کو ضروری قرار دیا اور اداریہ نویسی کی تکنیک اور زبان کی طرف بھی خصوصی توجہ دلائی۔ ان کی صحافت کی خصوصیات کے پیش نظر یہی کہا جاسکتا ہے کہ کی اردو صحافت کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی،وہ سر سید اور ’’تہذیب الاخلاق‘‘ اور ’’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘‘ کے ذکرکے بغیرادھوری سمجھی جائے گی۔
……………………………
رابطہ ریسرچ اسکالر، یونی ورسٹی آف حیدرآباد
ای میل [email protected]
فون 07730866990