ریشی اعجاز
وہ پہلے بالکل ٹھیک تھی۔
جب ہنستی تھی تو یوں لگتا تھا جیسے گھر کی دیواروں میں روشنی اتر آئی ہو۔ باپ اسے دیکھ کر اکثر سوچتا کہ شاید زندگی بس اتنی ہی خوبصورت ہوتی ہے، سادہ، روشن، مکمل۔
پھر ایک دن بیماری آئی۔
نہ اس کے قدموں کی آہٹ سنائی دی، نہ کسی چیخ کی صورت ظاہر ہوئی۔ وہ آہستہ آہستہ اس کی سانسوں میں اترتی چلی گئی۔ تین سال لگے اسے توڑنے میں۔ تین سال… اور ہر سال ایک نعمت چھین لی گئی۔
پہلے چلنا۔
پھر بولنا۔
اور آخرکار مسکرانا۔
وہ بستر پر پڑی رہتی، چھت کو گھورتی۔ آنکھوں میں سوال ہوتے، مگر زبان ساتھ نہ دیتی۔ باپ ہر روز اس کے چہرے کو دیکھتا اور خود سے جھوٹ بولتا رہتا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر وقت جھوٹ کو پہچانتا ہے کہ وہ کسی کی بات نہیں مانتا۔
ایک رات اس نے باپ کا ہاتھ پکڑا۔
انگلیاں کمزور تھیں، مگر لفظ بہت بھاری۔
’’بابا…میں کیوں نہیں مرتی؟‘‘
باپ نے فوراً منہ دوسری طرف کر لیا۔ اس رات وہ پہلی بار سب کے سامنے رو پڑا۔ اس کے آنسو صرف آنسو نہیں تھے، برسوں کی جمع شدہ بے بسی تھی۔
اس کے بعد باپ تیزی سے بوڑھا ہونے لگا۔ داڑھی میں سفیدی غم نے گھولی تھی۔ آنکھوں کی چمک بیٹی کی سانسوں کے ساتھ مدھم ہوتی جا رہی تھی۔ لوگ آتے، تسلی دیتے:
’’صبر کرو، اللہ بہتر کرے گا۔‘‘
مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا تھا کہ ہر دن مرنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔
آج وہ زندہ ہے،
سانس لیتی ہے، مگر زندگی نہیں جیتی۔
آنکھیں کھلی ہیں، مگر خواب مر چکے ہیں۔
باپ روز اس کے کان میں جھک کر کہتا ہے:
’’بیٹا، تو زندہ ہے…‘‘
اور دل ہی دل میں سوچتا ہے:
کاش یہ زندگی نہ ہوتی۔
اس کی حالت نے باپ کو ادھورا چھوڑ دیا ہے۔
بیٹی کے خواب رائیگاں ہو گئے ہیں،
سپنے دھندلا گئے ہیں،
اور اس کی خاموشی جیسے ہر دن ایک نیا عتاب نازل کر رہی ہو۔
وہ بیٹی زندہ ہے…
مگر زندہ لاش ہے۔
اور اس کا باپ۔
ہر سانس کے ساتھ خود بھی تھوڑا تھوڑا مر رہا ہے
���
گورنمنٹ مڈل اسکول کانٹھگنڈ شوانگس
موبائل نمبر؛ 6006163519