عظمیٰ نیوز سروس
حیدرآباد// تلنگانہ کے ضلع جگتیال میں ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا، جہاں سابق سرکردہ ماؤ نواز رہنما تھپری تروپتی عرف دیوجی نے تقریباً 40 سال بعد دوبارہ تعلیمی سفر شروع کرتے ہوئے انٹرمیڈیٹ سال دوم کا تلگو امتحان تحریر کیا۔ 62 سالہ دیوجی نے کورٹلہ ٹاؤن کے ایک پرائیویٹ جونیر کالج میں قائم امتحانی مرکز پر تلنگانہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کے ایڈوانسڈ سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی۔دیوجی کا تعلق کورٹلہ سے ہے۔ وہ 1980 کی دہائی میں گورنمنٹ جونیر کالج، کورٹلہ میں انٹرمیڈیٹ ایم پی سی کے طالب علم تھے، مگر اسی دوران پیپلز وار سرگرمیوں سے متاثر ہوکر ریڈیکل اسٹوڈنٹس یونین سے وابستہ ہوئے اور بعد میں انڈرگراونڈ (روپوش) ہوگئے۔دیوجی ماؤ نواز تنظیم میں دیوجی، سنجیو، سدرشن اور کُمّودادا جیسے کئی ناموں سے جانے جاتے تھے۔ وہ گڑچرولی میں یونٹ ممبر کی حیثیت سے شامل ہوئے اور بعد میں ایریا کمانڈر، ڈویژنل کمانڈر، سنٹرل ریجنل بیورو کے رہنما، پولٹ بیورو رکن اور سنٹرل ملٹری کمیشن سے وابستہ اہم ذمہ داریوں تک پہنچے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق ان کا نام 2003 میں تروپتی کے علی پیری حملے اور 2010 کے دنتے واڑہ حملے جیسے بڑے معاملات سے بھی جوڑا گیا، جبکہ ان پر ایک کروڑ روپے تک کا انعام بھی تھا۔